چین: اخلاقی جرائم کے مرتکب فنکاروں پر پابندی

اگست میں جیسی چین اور تائیواني فنکار کائی کو منشیات استعمال کرنے کے الزام میں حراست میں لیا گیا تھا

،تصویر کا ذریعہREUTERS

،تصویر کا کیپشناگست میں جیسی چین اور تائیواني فنکار کائی کو منشیات استعمال کرنے کے الزام میں حراست میں لیا گیا تھا

چین میں میڈیا کے نگران ادارے نے منشیات استعمال کرنے والے یا سیکس ورکرز کا استعمال کرنے والے فلم اور ٹی وی کے ستاروں کے سرکاری چینل اور دیگر میڈیا پر آنے پر پابندی عائد کر دی ہے۔

چینی اخبار چائنا ڈیلی کی رپورٹ کے مطابق یہ پابندی فلم انڈسٹری میں صحت مندانہ رجحانات کو برقرار رکھنے کے لیے لگائی جا رہی ہے۔

چین میں پریس، پبلیکیشن، ریڈیو، فلم اور ٹیلی ویژن کے نگراں ادارے نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ملکی ستاروں کے حوالے سے پیش آنے والے حالیہ واقعات سے نوجوانوں پر غلط اثر پڑ رہا ہے۔

یاد رہے کہ اس سال کئی ستاروں کو منشیات سے متعلقہ جرائم کے جرم میں گرفتار کیا گیا ہے جن میں ہالی وڈ کے مشہور چینی اداکار جیکی چین کے بیٹے بھی شامل ہیں۔

چینی حکومت کا کہنا ہے کہ قوانین کی خلاف ورزی کرنے والے ستاروں کو سرکاری ٹی وی کے پروگراموں میں نہیں بلایا جائے گا اور ان کے پروگراموں کی ٹرانسمیشن کو بھ روک دیا جائے گا۔

اداکار کائی کو نے بیجنگ میں دو ہفتے کی حراست کے بعد سرعام اپنے جرم کی معافی مانگی تھی

،تصویر کا ذریعہBBC World Service

،تصویر کا کیپشناداکار کائی کو نے بیجنگ میں دو ہفتے کی حراست کے بعد سرعام اپنے جرم کی معافی مانگی تھی

اس پابندی کے دائرے میں آن لائن میڈیا، فلم اور ٹی وی انڈسٹری بھی آئے گی۔

اگست میں جیسی چین اور تائیواني فنکار کائی کو منشیات استعمال کرنے کے الزام میں حراست میں لیا گیا تھا جب ان کے ٹیسٹ کے نتائج مثبت آئے تھے۔ اس کے علاوہ ان کے گھر سے سو گرام سے زیادہ منشیات بھی برآمد کی گئی تھی۔

اگست ہی میں ایک دوسرے فنکار سٹار گاؤ ہو کو بھی منشیات رکھنے کے الزامات میں گرفتار کیا گیا تھا۔

اداکار جیکی چن کو اپنے بیٹے کے منشیات کے الزامات کے تحت گرفتاری پر معذرت کرنی پڑی تھی

،تصویر کا ذریعہ

،تصویر کا کیپشناداکار جیکی چن کو اپنے بیٹے کے منشیات کے الزامات کے تحت گرفتاری پر معذرت کرنی پڑی تھی

اس کے علاوہ فلم ڈائریکٹر وان كوانان اور اداکار ہوانگ ہابو کو بھی سیکس ورکرز کی خدمات حاصل کرنے کے شبے میں گرفتار کیا گیا تھا۔

سرکاری خبر رساں ایجنسی ژنہوا کے مطابق نگران ادارے کے بیان کے جاری ہونے کے بعد سے ایسے پروگرام جن میں ہوانگ اور گاؤ اداکاری کر رہے ہیں کی نشریات پر پابندی لگا دی گئی ہے۔

چائنا ریڈیو اور ٹی وی ایسوسی ایشن کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں اِن پر تنقید کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ ان کی حرکتوں کی وجہ سے پوری انڈسٹری کو دکھ پہنچا ہے اور معاشرے پر انتہائی غلط اثر پڑا ہے۔

اس حکم نامے کے جارے ہونے کے بعد ایسے پروگرام جن میں اداکار گاؤ ہو اداکاری کر رہے تھے کو نشریات سے ہٹا لیا گیا ہے

،تصویر کا ذریعہBBC World Service

،تصویر کا کیپشناس حکم نامے کے جارے ہونے کے بعد ایسے پروگرام جن میں اداکار گاؤ ہو اداکاری کر رہے تھے کو نشریات سے ہٹا لیا گیا ہے

بیجنگ میں موجود بی بی سی کے نامہ نگار مارٹن پیشنز کے مطابق ان تمام معاملات پر چینی سوشل میڈیا میں زبردست بحث کی گئی ہے۔

چینی صدر شی جن پنگ نے 2012 میں عہدہ سنبھالنے کے بعد سے ہی ملک میں بدعنوانی کے خلاف ایک وسیع مہم چلائی ہے۔

اسی سال فروری میں شہری تحفظ کی وزارت نے پولیس سے منشیات، جوئے اور عصمت فروشی کے خلاف سخت کارروائی کرنے کے لیے کہا تھا۔