فرانسسی صدر ایبولا سے متاثر گنی کا دورہ کریں گے

فرانس نے گنی کو ایبولا کے مرض سے نمٹنے کے لیے دس کروڑ یورو امداد دینے کا عہد کیا ہے جس سے وہاں پر طبی مراکز کھولے جائیں گے

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنفرانس نے گنی کو ایبولا کے مرض سے نمٹنے کے لیے دس کروڑ یورو امداد دینے کا عہد کیا ہے جس سے وہاں پر طبی مراکز کھولے جائیں گے

فرانس کے صدر فرنسوا اولاند جمعے کو ایبولا سے متاثر ملک گنی کا دورہ کریں گے۔ وہ کسی مغربی ملک سے تعلق رکھنے والے پہلے رہنما ہیں جو خطرناک ایبولا وائرس سے متاثر کسی ملک کے دورے پر جائیں گے۔

گنی میں ایبولا وائرس کی وجہ سے 1200 سے زائد افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ صدر اولاند اپنے دورے کے دوران گنی کے عوام کو ’یکجہتی‘ کا پیغام دیں گے۔

فرانس نے گنی کو ایبولا کے مرض سے نمٹنے کے لیے دس کروڑ یورو امداد دینے کا عہد کیا ہے جس سے وہاں پر طبی مراکز کھولے جائیں گے۔

عالمی ادارۂ صحت ڈبلیو ایچ او نے گذشتہ ہفتے کہا تھا کہ مغربی افریقہ کے اس ملک میں ایبولا کا پھیلاؤ ’قابو‘ میں ہے۔

ڈبلیو ایچ او کے رابطہ کار ڈاکٹر جیونیل روڈائر نے بی بی سی کو بتایا کہ ملک کے جنوب مشرق میں ایبولا کے اثرات ہیں لیکن باقی علاقوں میں حالات بہتر ہو رہے ہیں۔

ایبولا کی حالیہ وبا کے دوران 5400 سے زائد افراد ہلاک ہوئے تھے اور اس سے سب سے زیادہ گنی، سیئرالیون اور لائبیریا متاثر ہوئے تھے۔

توقع ہے کہ صدر اولاند جمعے کو دیر سے گنی کے دارالحکومت کونارکی پہنچیں گے۔ گنی میں مارچ میں ایبولا کا پہلا کیس سامنے آنے کے بعد وہ پہلے مغربی رہنما ہوں گے جو وہاں جائیں گے۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق اپنے ایک روزہ دورے کے دوران وہ طبی مراکز جائیں گے اور ایبولا پر ہونے والے مباحث میں حصہ لیں گے۔

اس کے علاوہ پیرس گنی کو موبائل کلینک اور دو سو بستروں کے ہسپتال کے لیے رقم فراہم کرے گا۔

صدر اولاند گنی کے بعد سینیگال جائیں گے جہاں وہ رہنماؤں سے ملاقات کریں گے۔