طرابلس کے آخری قابلِ استعمال ہوائی اڈے پر فضائی حملے

طرابلس کے مرکزی بین الاقوامی ایئرپورٹ کو جولائی میں لڑائی کی وجہ سے نقصان پہنچنے کے باعث مختلف ہوائی کمپنیاں فوجی اڈے معيتيقہ کو استعمال کر رہی ہیں

،تصویر کا ذریعہGetty

،تصویر کا کیپشنطرابلس کے مرکزی بین الاقوامی ایئرپورٹ کو جولائی میں لڑائی کی وجہ سے نقصان پہنچنے کے باعث مختلف ہوائی کمپنیاں فوجی اڈے معيتيقہ کو استعمال کر رہی ہیں

لیبیا کی فضائیہ کے ایک جیٹ طیارے نے طرابلس میں آخری قابلِ استعمال معيتيقہ ہوائی اڈے پر دو حملے کیے ہیں جن میں اڈے کے قریب عام شہریوں کے گھروں کو نقصان پہنچا ہے۔

حملوں میں رن وے کا قریبی علاقہ نشانہ بنا لیکن رن وے کو نقصان نہیں پہنچا۔

طرابلس کو کنٹرول کرنے والی ملیشیا کے اتحاد نے کہا ہے کہ یہ حملے بیرونی قوتوں کی مدد سے کیے جانے والے ’اشتعال انگیز‘ اقدامات ہیں۔

مقامی میڈیا کے مطابق حملوں کے بعد پروازوں کو مصراتہ کی جانب منتقل کر دیا گیا لیکن بعد میں معيتيقہ ہوائی اڈے پر پروازوں کو آنے جانے اجازت دے دی گئی۔

طرابلس کے مرکزی بین الاقوامی ایئرپورٹ کو جولائی میں لڑائی کی وجہ سے نقصان پہنچنے کے باعث مختلف ہوائی کمپنیاں فوجی اڈے معيتيقہ کو استعمال کر رہی ہیں۔

لیبیا ایئر فورس کے جنرل سکواڈرن سقر الجروشی نے خبر رساں ادارے اے ایف پی اور مقامی میڈیا کو بتایا کہ یہ فضائی حملے ان کی فضائیہ نے کیے۔

جنرل سقر الجروشی سابق جنرل خلیفہ حفتار کے وفادار ہیں جن کی فورسز لیبیئن فوج اور فضائیہ کی مدد سے مشرقی لیبیا میں اسلامی شدت پسندوں سے لڑ رہی ہیں۔

دریں اثنا لیبیا کی خود ساختہ قومی حکومت کے وزیرِ اعظم عمر الحسی کا کہنا ہے کہ ان کی حکومت تمام گروپوں کے ساتھ بات چیت کے لیے تیار ہے لیکن اب وہ جنگ کی پالیسی اختیار کریں گے۔

عمر الحسی نے حملوں کے جواب میں کہا کہ ’ہم اب ایک ایسے دشمن کا سامنا کر رہے ہیں جن کے پاس بہت زیادہ اسلحہ ہے اور جسے علاقائی طاقتوں کی حمایت حاصل ہے اور بدقسمتی سے اسے بعض جگہوں سے اسلحہ اور ماہرین کی شکل میں مدد فراہم کی جا رہی ہے۔‘

ڈان ملیشیا اتحاد کے ایک کمانڈر صالح البرقی نے ’طرابلس میں انقلابیوں سے کہا ہے کہ وہ اپنی اپنی پوزیشنوں پر رہیں۔‘

طرابلس پر اسلامی اور دیگر ملیشیا گروپوں کا قبضہ ہے جنھوں نے مشرقی لبییا کے ساحلی شہر تبوک میں قائم منتخب حکومت کے مقابلے پر طرابلس میں اپنی حکومت قائم کی ہے۔