سب کمال امریکہ کے موسم کا ہے

سینیٹر روبرٹ میننڈس اور سینیٹر رابرٹ كوركر کی شریف صاحب کے ساتھ تصویریں دیکھیں گے تو لگے گا کہ دونوں سینیٹروں کو ابھی ابھی نشان پاکستان دینے کا اعلان کیا گیا ہو

،تصویر کا ذریعہAsimBajwaISPR

،تصویر کا کیپشنسینیٹر روبرٹ میننڈس اور سینیٹر رابرٹ كوركر کی شریف صاحب کے ساتھ تصویریں دیکھیں گے تو لگے گا کہ دونوں سینیٹروں کو ابھی ابھی نشان پاکستان دینے کا اعلان کیا گیا ہو
    • مصنف, برجیش اپادھیائے
    • عہدہ, بی بی سی اردو، واشنگٹن

بڑي اچھی جگہ ہے امریکہ۔ خاص طور سے ان کے لیے جو باہر سے آتے ہیں۔ آب و ہوا کا اتنا اچھا اثر میں نے شاید ہی کہیں دیکھا ہو۔ یہاں آتے ہی لوگ اتنی اچھی باتیں کرنے لگتے ہیں کہ لگتا ہے جیسے روح سے نکلی ہوئی آواز ہو۔

اکتوبر کے مہینے میں نواز شریف آئے تھے۔ ادھر ادھر کی باتیں کیں، اوباما اور امریکیوں سے ملاقاتیں کیں، اور پھر بڑی ہی سنجیدگی سے کہنے لگے: ’ہم نے اپنے ہاتھوں سے اپنا ملک خراب کیا ہے، ہمیں ہی اسے سنوارنا ہوگا۔‘

آپ کہیں گے کہ بند دروازوں کے پیچھے کچھ باتیں ہوئی ہوں گی، کچھ تیور دکھائے گئے ہوں گے، جس کے بعد مياں صاحب کو یہ احساس ہوا ہوگا۔ میں جانتا تھا آپ لوگ کسی کے بارے میں اچھا سن ہی نہیں سکتے۔

اس برس مودي جي آئے، وہ بھی کتنی اچھی اچھی باتیں کہہ گئے، یوگا سے لے کر بدلتے موسم کے مسئلے کو حل کرنے کی ترکیب بتا گئے، خود تو دس برس تک یہاں کا ویزا نہیں ملا لیکن تمام امریکیوں کے لیے ویزا فری کر دیا، یعنی بس بھارت پہنچ کر ایئر پورٹ پر ٹھپہ لگوانا ہوگا۔ سب کتنے خوش تھے۔

اور اس ہفتے پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل راحيل شریف یہاں آئے۔ فوجی وردی بہت کم نظر آئی، بڑا ہی خوبصورت سوٹ پہنے مسکراتے رہے۔ اپنائیت سے امریکیوں سے ملے۔

کانگریس میں جو سینیٹر موقع پاتے ہی پاکستانی فوج پر گولہ بارود برسانے لگتے ہیں، ان سے بھی وہ بڑی گرم جوشی سے ملے۔ مجھ پر یقین نہ ہو تو تصویریں دیکھ لیجیے۔

سینیٹر رابرٹ میننڈس اور سینیٹر روبرٹ كوركر کومیں نے نہ جانے کتنی بار سنا ہے، اور میں اس خوشگوار ماحول کو ان کی باتوں سے خراب نہیں کرنا چاہتا۔ ان کے ساتھ شریف صاحب کی تصویریں دیکھیں گے تو لگے گا کہ دونوں سینیٹروں کو ابھی ابھی نشانِ پاکستان دینے کا اعلان کیا گیا ہو۔

یہ سب یہاں کی آب و ہوا کا کمال ہے۔ میں جانتا ہوں آپ سر ہلا رہے ہوں گے۔

ایک محترمہ جو یہاں کے ایک معروف تھنک ٹینک کا حصہ ہیں، انھوں نے مجھ سے کہا کہ کہ راحیل شریف کئی بار تو فوجی سے زیادہ ڈپلومیٹ نظر آ رہے تھے۔ اتنے پولشڈ، اتنے نفيس کہ کیا بتاؤں۔

’راحیل شریف کئی بار تو فوجی سے زیادہ ایک ڈپلومیٹ نظر آ رہے تھے۔ اتنے پولشڈ، اتنے نفيس کہ کیا بتاؤں‘

،تصویر کا ذریعہ

،تصویر کا کیپشن’راحیل شریف کئی بار تو فوجی سے زیادہ ایک ڈپلومیٹ نظر آ رہے تھے۔ اتنے پولشڈ، اتنے نفيس کہ کیا بتاؤں‘

ایک اور صاحب ہیں جو دوسرے تھنک ٹینک میں کام کرتے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ راحیل شریف صاحب کو دیکھ کر مجھے مشرف کی یاد آ گئی۔ وہ بھی امریکیوں کی صحبت میں اتنے ہی خوش اور مطمئن نظر آتے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکیوں کو ایسے لوگ بڑے پسند آتے ہیں۔

اب میں نے ان سے نہیں کہا کہ بھائی یہ مسکراتا چہرہ، یہ دوستانہ باتیں سب یہاں کہ ہوا کا اثر ہے۔ ڈر لگا کہ کہیں وہ مجھے بھی مودی اور راج ناتھ سنگھ کے بریگیڈ کا نہ سمجھنے لگیں جنھیں ان دنوں پلاسٹک سرجری سے لے کر ڈرون ٹیكنالوجی سب کچھ ہندوؤں کی مقدس گرنتھوں کی دین لگتی ہے۔

لیکن آپ سے تو کہہ سکتا ہوں نا کہ یہ ہوا ہی کا اثر ہے۔ آخر آپ تو مجھے برسوں سے جانتے ہیں۔

تو راحيل شریف صاحب نے پورے علاقے کو دہشت گردی سے آزاد کر دینے کی بات کر دی ہے، ہر شدت پسند کے ساتھ ایک جیسا سلوک کرنے کی بات کی ہے، افغانستان، ایران اور بھارت تک سے تعلقات میں بہتری کی امید ظاہر کر دی ہے۔

دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بہت بڑی تبدیلی آنے جا رہی ہے۔ پاکستان اب امن کا گہوارہ بننے والا ہے۔ اچھا ٹھیک یہ گہوارے والی بات انھوں نے نہیں کہی، میں نے اپنی طرف سے جوڑ دی ہے۔ مجھ پر بھی تو ہوا کا تھوڑا بہت اثر ہو جاتا ہے نا۔

تو امیدوں سے بھری یہ باتیں سننے کے بعد جب میں کمپیوٹر پر کچھ کام کرنے بیٹھا تو اچانک سے نظر فیض احمد فیض صاحب کی برسی سے متعلق چھوٹی سی خبر پر پڑی۔ میرے ذہن میں ان کی نظم گونج اٹھی:

ہم دیکھیں گے وہ دن کہ جس کا وعدہ ہے ہم دیکھیں گے

تو بس ہم بھی دیکھیں گے۔