’دہشت گردوں کے خلاف فیصلہ کن کارروائی جاری ہے‘

پاکستانی فوج کے سربراہ کا یہ پہلا سرکاری دورۂ امریکہ ہے

،تصویر کا ذریعہAsimBajwaISPR

،تصویر کا کیپشنپاکستانی فوج کے سربراہ کا یہ پہلا سرکاری دورۂ امریکہ ہے

پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف نے کہا ہے کہ پاکستانی فوج دہشت گردوں کے خلاف فیصلہ کن کارروائی میں مصروف ہے اور آخری دہشت گرد کے خاتمے تک آپریشن جاری رہے گا۔

انھوں نے یہ بات بدھ کو واشنگٹن میں امریکی سینیٹ کی خارجہ امور کی کمیٹی کے ارکان سے ملاقات کے دوران کہی۔

پاکستانی فوج کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ کی جانب سے جاری ہونے والے بیان کے مطابق جنرل راحیل نے کمیٹی کو بتایا کہ پاکستانی فوج فاٹا میں اس بات کو یقینی بنائے گی کہ وہاں سے فرار ہونے والے دہشت گرد واپس نہ آ سکیں اور نہ ہی پاکستانی سرزمین پر اپنے آپریشنل اڈے قائم کر سکیں۔

آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ سینیٹ کی امورِ خارجہ کی کمیٹی کے ارکان نے بھی جنرل راحیل سے ملاقات کے بعد شمالی وزیرستان میں جاری آپریشن کے نتائج کو سراہا۔

بیان کے مطابق کمیٹی نے تسلیم کیا کہ پاکستانی افواج کے کامیاب آپریشن کی وجہ سے شمالی وزیرستان میں شدت پسندوں کا کمانڈ اینڈ کنٹرول انفراسٹرکچر تباہ ہوگیا ہے۔

اس ملاقات میں خطے کی مجموعی سلامتی کے معاملات بھی زیرِ بحث آئے اور امریکی سینیٹروں کا کہنا تھا کہ امریکہ پاکستان کے ساتھ طویل المدتی شراکت داری اور تعلقات کا خواہشمند ہے۔

بعدازاں بدھ کی شب واشنگٹن میں پاکستانی سفارت خانے کے عشائیے میں اپنے خطاب میں جنرل راحیل کا کہنا تھا کہ وہ کمان سنبھالنے کے بعد ان شدت پسندوں کے خاتمے کے لیے پرعزم تھے۔

’ان دہشت گردوں نے ہمارے فوجیوں کو ہلاک کیا اور ان کے سروں سے فٹبال کھیلتے رہے۔ یہ وحشی اور جنگلی ہیں۔‘

انھوں نے کہا کہ ’ہم نے سیاسی حکومت سے مشاورت کے بعد فوجی کارروائی شروع کی جو کامیابی سے جاری ہے اور اس میں دہشت گردوں کا خاتمہ کر دیا جائے گا۔‘

دہشت گردی کے خلاف جنگ میں افغانستان سے تعاون کا ذکر کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ وہ اس سلسلے میں افغان حکومت اور فوج سے مل کر کام کر رہے ہیں۔

واشنگٹن میں بی بی سی اردو کے نامہ نگار برجیش اپادھیائے کے مطابق ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’افغانستان میں نئی حکومت کے آنے سے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بڑی واضح تبدیلی آئے گی۔‘

خیال رہے کہ دورۂ امریکہ سے قبل پاکستانی فوج کے سربراہ افغانستان کے دورے پر گئے تھے اور افغان صدر سے ملاقات کے بعد ان کا کہنا تھا کہ پائیدار علاقائی سلامتی ہی دہشت گردی سے نمٹنے کا واحد راستہ ہے اور پرامن اور مستحکم افغانستان پاکستان کے بہترین مفاد میں ہے۔

بعدازاں حال ہی میں افغان صدر اشرف غنی نے بھی اپنے دورۂ پاکستان میں کہا تھا کہ دونوں ممالک کو ماضی کو بھول کر مستقبل پر نظر رکھنی چاہیے۔

پاکستانی فوج کے سربراہ نے عشائیے سے خطاب کے دوران ان اطلاعات کو بھی مسترد کیا کہ آپریشن کے دوران شدت پسندوں میں کسی قسم کی تفریق کی گئی ہے۔

انھوں نے کہا کہ ’بلا تخصیص کارروائی ہو رہی ہے، چاہے وہ حقانی نیٹ ورک ہو، تحریکِ طالبان پاکستان یا کوئی اور گروپ۔ کوئی الگ نہیں، سب دہشت گرد ہیں اور سب کے خلاف کارروائی ہوگی۔‘

جنرل راحیل کا یہ بھی کہنا تھا کہ دہشت گردوں کے خلاف آپریشن صرف شمالی یا جنوبی وزیرستان تک محدود نہیں بلکہ اس کا دائرہ پورے ملک میں پھیلا ہوا ہے۔

خیال رہے کہ پاکستانی فوج کے سربراہ کا یہ پہلا سرکاری دورۂ امریکہ ہے جس میں انھوں نے اعلیٰ عسکری اور سیاسی حکام سے ملاقاتیں کی ہیں۔