’بھارت کی وجہ سے مہم پر اثر پڑ رہا ہے‘

،تصویر کا ذریعہISPR
- مصنف, برجیش اُپادھیائے
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، واشنگٹن
پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف نے کہا ہے کہ لائن آف کنٹرول اور ورکنگ باؤنڈری پر بھارتی کارروائیوں کی وجہ سے پاکستان کے لیے افغان سرحدی علاقے میں شدت پسندوں کے خلاف کارروائی میں مشکلات درپیش ہیں۔
واشنگٹن میں ایک اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بی بی سی اردو کو بتایا کہ امریکہ کے دورے پر آئے ہوئے پاکستانی جرنیل نے امریکی حکام سے کہا ہے کہ ’بھارت کی طرف سے جس طرح کی سخت کارروائی ہو رہی ہے اور جس طرح کے بیانات آ رہے ہیں وہ ہماری مہم پر اثرانداز ہو رہے ہیں۔‘
اہلكار کا کہنا تھا کہ جنرل راحيل شریف نے امریکی اہلکاروں سے کہا ہے کہ پاکستان نے اپنی مغربی سرحد پر ایک لاکھ 40 ہزار فوجی تعینات کر رکھے ہیں اور انھیں یہ امید تھی کہ مشرق میں بھارت سے متصل سرحد پر امن رہے گا مگر ایسا نہیں ہوا۔‘
پاکستانی فوج کے سربراہ کی اس شکایت پر امریکہ کے سرکاری ردِعمل کے بارے میں تو کچھ نہیں پتہ چل پایا لیكن مبصرین کا کہنا ہے کہ امریکہ اب بھارت اور پاکستان کے باہمی معاملات میں مداخلت سے گریز کرتا ہے۔
خیال رہے کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان ورکنگ باؤنڈری اور لائن آف کنٹرول پر کشیدگی کئی ہفتوں سے جاری ہے۔
اس دوران دونوں ملکوں کی افواج کے درمیان فائرنگ کے مختلف واقعات میں دونوں جانب سے اب تک کم از کم 19 افراد ہلاک اور 50 کے قریب زخمی ہو چکے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہAP
پاکستان اس معاملے پر بھارت سے سفارتی سطح پر احتجاج بھی کر چکا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
جنرل راحیل شریف بدھ کو امریکی کانگریس کے ارکان سے بھی ملاقات کر رہے ہیں جس میں وہ شمالی وزیرستان میں شدت پسندوں کے خلاف جاری کارروائی کی تفصیل پیش کریں گے۔
اس کے علاوہ اس ملاقات میں افغانستان سے امریکی فوج کی واپسی کے بعد امریکہ اور پاکستان کی طویل المدتی سٹریٹجک شراکت پر بھی بات ہوگی۔
مبصرین کا کہنا ہے کہ راحیل شریف شمالی وزیرستان میں پاکستانی فوج کے آپریشن ضربِ عضب کو مثال کے طور پر پیش کر سکتے ہیں جس کی بنیاد پر امریکہ سے پاکستان کو ملنے والي فوجی امداد جاری ركھنے کا مطالبہ کیا جا سکتا ہے۔
پاکستانی فوج کی جانب سے فراہم کردہ اعداد و شمار کے مطابق پانچ ماہ سے جاری آپریشن میں شمالی وزیرستان کے مختلف حصوں میں 1200 سے زیادہ شدت پسند ہلاک کیے گئے ہیں اور ان کے 200 سے زائد ٹھکانے تباہ کیے ہیں۔
فوج کا کہنا ہے کہ اس دوران حقانی نیٹ ورک اور ایسٹ ترکستان موومنٹ کے عناصر کا اس علاقے سے صفایا کر دیا گیا ہے۔







