میں بُرا نہیں مناؤں گی

جنوبی کوریا میں خواتین کے حقوق کے لیے کام والی تنظیموں نے ان رہنما اصولوں کو امتیازی قرار دیا ہے

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنجنوبی کوریا میں خواتین کے حقوق کے لیے کام والی تنظیموں نے ان رہنما اصولوں کو امتیازی قرار دیا ہے

جنوبی کوریا کی وزارت برائے افرادی قوت کا کہنا ہے کہ نوکری کی خواہش مند خواتین کو چاہیے کہ وہ انٹرویو میں کہیں کہ وہ ’سیکس کے بارے میں کیے گئے مذاق‘ کا برا نہیں مناتیں۔

جنوبی کوریا کی وزارت برائے افرادی قوت کی جانب سے کیے گئے رہنما اصولوں میں کہی گئی ہے۔

جنوبی کوریا کے اخبار کوریا ہیرلڈ کے مطابق یہ رہنما اصول سرکاری ریکروٹمنٹ کی ویب سائٹ پر شائع کیے گئے ہیں۔

ویب سائٹ پر انٹرویو کے دوران ممکنہ سوالات کے جوابات کے حوالے سے رہنما اصول شائع کیے گئے ہیں۔

اس ویب سائٹ پر خواتین کو مشورہ دیا گیا ہے کہ کہ جنسی استحصال کے بارے میں پوچھے گئے سوال کا جواب کچھ ایسے دیں: ’ضروری ہے کہ اس قسم کی صورت حال کو قابو میں رکھنے کے لیے جواباً مذاق کر دیا جائے۔‘

ذاتی زندگی کے ضمن میں کہا گیا ہے کہ خواتین کو شادی کرنے کے ارادے کے بارے میں جھوٹ بولنا چاہیے کیونکہ ’عام طور پر خواتین شادی کرنے کے بعد نوکری چھوڑ دیتی ہیں۔‘

رہنما اصولوں میں کم درجے کی نوکری کے بارے میں کہا گیا ہے کہ خواتین کو یقین دلانا چاہیے کہ ’وہ اپنی پوری کوشش کریں چاہے ایک کپ کافی ہی کا کیوں نہ بنانا ہو۔‘

جنوبی کوریا میں خواتین کے حقوق کے لیے کام والی تنظیموں نے ان رہنما اصولوں کو امتیازی قرار دیا ہے۔ وزارت افرادی قوت نے اب ویب سائٹ سے یہ رہنما اصول ہٹا دیے ہیں۔

خواتین کے حقوق کے لیے کام والی تنظیموں کا کہنا ہے کہ ’یہ جنسی استحصال ہے کہ انٹرویو میں صرف خواتین ہی سے شادی کے ارادے اور بچوں کے بارے میں پوچھا جائے۔‘

کوریا ٹائمز اخبار نے اس بارے میں اپنے اداریے میں لکھا ہے کہ ان کے پاس ’الفاظ نہیں ہیں‘ اور اس نے رہنما اصولوں کو جنسی استحصال قرار دیا ہے۔

جنوبی کوریا کی وزارت برائے افرادی قوت نے ویب سائٹ سے مواد ہٹانے کے بعد کہا ہے کہ وہ جنسی برابری کے سلسلے میں اپنے اہلکاروں کو تربیت دینے پر غور کریں گے۔

جنوبی کوریا میں مرد اور خواتین دونوں ہی تعلیم یافتہ ہیں لیکن نوکریوں میں جنسی امتیاز برتا جاتا ہے۔