عراقی صوبے انبار کے لیے مزید امریکی فوجی

،تصویر کا ذریعہReuters
امریکہ نے شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ کے خلاف لڑنے کے لیے عراقی کے صوبے انبار کے ہوائی اڈے پر مزید 50 فوجیوں کو تعینات کیا ہے۔
امریکی محکمۂ دفاع پینٹاگون کے ترجمان نے کہا ہے کہ یہ فوجی عراقی تنصیبات کا معائنہ کرنے کے علاوہ مقامی افواج کی مدد کریں گے۔
خیال رہے کہ امریکہ نے رواں برس اگست میں دولتِ اسلامیہ کے خلاف فضائی کارروائیوں کا آغاز کیا تھا تاہم عراقی صوبے انبار کے لیے بھیجی جانے والی یہ امریکی فوجیوں کی یہ پہلی کھیپ ہے۔
امریکی افواج سنہ 2011 میں عراق سے نکل گئی تھیں تاہم صدر براک اومابا نے گذشتہ ہفتے دولتِ اسلامیہ کے خلاف لڑائی میں عراقی سکیورٹی فورسز کو تقویت دینے کے لیے عراق میں مزید ڈیڑھ ہزار غیر جنگجو فوجی بھیجنے کی منظوری دی تھی۔
عراق کے صوبے انبار کے زیادہ تر حصے پر دولتِ اسلامیہ کا قبضہ ہے۔
امریکی فوج کی سینٹرل کمانڈ کے ترجمان پیٹرک رائڈر نے برطانوی خبر رساں ادارے روئٹرز کو بتایا کہ ان 50 فوجیوں کو صوبے انبار کے عین الاسد ہوائی اڈے پر تعینات کیا جائے گا۔
پیٹرک رائڈر کا کہنا تھا کہ یہ فوجی صرف مشاورتی حیثیت میں کام کریں گے تاہم اگر ان پر حملہ ہوا تو اپنا دفاع کریں گے۔
عراق کے ایک سینئیر کمانڈر نے سرکاری ٹی وی کو بتایا کہ عراقی افواج نے منگل کو ملک کے تیل صاف کرنے کے سب سے بڑے کارخانے بیجی پر دوبارہ قبضہ کر لیا تھا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
جنرل عبدالوہاب کے مطابق عراقی افواج نے بیجی کے ہیڈ کوارٹر اور پولیس سٹیشن پر دوبارہ قبضہ کر لیا ہے۔
عراق کے ایک دوسرے فوجی اہلکار نے خبر رساں ادارے اے پی کو بتایا ملک کے دیگر مقامات پر شدید لڑائی جاری ہے۔
امریکی صدر براک اوباما نے گذشتہ اتوار کو کہا تھا کہ ڈیڑھ ہزار مزید امریکی فوجیوں کی عراق روانگی سے شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ کے خلاف جنگ نئے مرحلے میں داخل ہو گئی ہے۔
صدر اوباما نے سی بی ایس ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ انھوں نے جن ڈیڑھ ہزار امریکیوں کو عراق روانہ کیا ہے وہ لڑائی میں براہ راست حصہ نہیں لیں گے لیکن ان کی عراق میں موجودگی سے عراقی افواج کے حملہ کرنے کی صلاحیت بڑھ جائےگی۔
امریکی صدر نے کہا ہے کہ پہلے مرحلے میں عراقی افواج کو سارے عراق کی افواج بنانا اور اسے قابلِ اعتماد بنانا تھا: ’پہلا مرحلہ طے ہو گیا ہے اور اب نہ صرف آگے بڑھتی ہوئی دولت اسلامیہ کو روکا جا چکا ہے بلکہ اب ہم اس پوزیشن میں ہیں کہ ان پر حملہ کر سکیں۔‘
امریکہ اور اس کے اتحادی عراقی افواج کی دولت اسلامیہ کے جنگجوؤں کے ہاتھوں پسپائی کے بعد عراقی افواج کی مدد کو آئے ہیں۔
دولت اسلامیہ نے شام اور عراق کے وسیع علاقوں پر قبضہ کر رکھا ہے۔
امریکہ اور اس کے اتحادی عراقی اور کرد افواج کی مدد کے لیے دولت اسلامیہ کے خلاف فضائی کارروائی میں مصروف ہیں اور گذشتہ دو مہینوں میں دولت اسلامیہ کے ٹھکانوں پر سینکڑوں فضائی حملے کیے جا چکے ہیں۔







