چین اور جاپان متنازع جزائر پر بات چیت کے لیے رضامند

گذشتہ دو برسوں میں ان جزیروں کی ملکیت پر دونوں ملکوں کے موقف میں سختی آئی ہے

،تصویر کا ذریعہAP

،تصویر کا کیپشنگذشتہ دو برسوں میں ان جزیروں کی ملکیت پر دونوں ملکوں کے موقف میں سختی آئی ہے

چین اور جاپان نے مشرقی بحیرۂ چین میں واقع دو جزیروں کی ملکیت کے تنازعے کو باہمی بات چیت کے ذریعے حل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

بحیرۂ چین میں واقع سینکاکو اور چین میں ڈیائیو کے نام سے پہچانے جانے والے ان جزیروں کی ملکیت پر دونوں ممالک کا دعویٰ ہے۔

بیجنگ میں حکام نے کہا ہے کہ دونوں ملکوں نے ان جزیروں کی ملکیت کے سلسلے میں پیدا ہونے والے تنازعے کو بات چیت کے ذریعے ختم کرنے کی کوشش کرنے پر اتفاق کیا ہے۔

چینی وزارت خارجہ کے اہلکار نے کہا ہے بحران کو حل کرنے کے لیے کرائسس مینیجمنٹ کا نظام وضع کیاگیا ہے۔

دونوں جزیروں کا انتظام جاپان کے پاس ہے۔

جاپانی وزیر اعظم شنزو آبے نے کہا ہے کہ اس تنازعے کو حل کرنے کے لیے چین کے صدر اور جاپان کے وزیر اعظم کے مابین اگلے ہفتے ملاقات کے لیے راہ ہموار کی جا رہی ہے۔

برطانوی خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق دونوں ممالک اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ دونوں ملکوں کے سربراہان کی ملاقات سے نہ صرف دونوں ملکوں کو فائدہ پہنچےگا بلکہ اس سے خطے میں استحکام پیدا ہوگا۔

چین کے صدر اور جاپانی وزیر اعظم کے مابین ملاقات پیر اور منگل کو ایشیا پیسیفک اکنامک کوآپریشن (ایپک) کے سربراہی اجلاس کے دوران ہوگی۔

اگر چین اور جاپان کے سربراہان کے مابین ملاقات ہوگئی تو یہ دونوں ملکوں کے سربراہان کے اقتدار میں آنے کے بعد پہلی ملاقات ہو گی۔

جاپانی وزیر اعظم شنزو آبے نے کہا ہے کہ ان جزیروں پر جاپان کے موقف میں تبدیلی نہیں آئی ہے

،تصویر کا ذریعہ AFP Getty Images

،تصویر کا کیپشنجاپانی وزیر اعظم شنزو آبے نے کہا ہے کہ ان جزیروں پر جاپان کے موقف میں تبدیلی نہیں آئی ہے

کئی دہائیوں تک جاپان دفاعی اعتبار سے اہمیت کے حامل اور ممکنہ طور پر گیس اور تیل کے ذخائر کے حامل ان جزائر کو کنٹرول کرتا رہا ہے لیکن گذشتہ کچھ عرصے سے چین کی جانب سے ان جزیروں پر اپنی ملکیت کے دعوے میں شدت آئی ہے۔

چین کی وزارت خارجہ کے ایک بیان کے مطابق چینی اور جاپانی اہلکار چار نکاتی معاہدے پر رضامند ہوگئے ہیں۔ جن نکات پر رضامندی ظاہر کی گئی ہے ان میں دونوں ممالک جزیروں کے پر اپنی اپنی پوزیشن پر نظر ثانی کرنے کے لیے تیار ہیں۔

البتہ برطانوی خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق جاپانی وزیر اعظم شنزو آبے نے کہا ہے کہ ان جزیروں پر جاپان کے موقف میں تبدیلی نہیں آئی ہے۔

بیجنگ میں بی بی سی کے نامہ نگار مارٹن پیشنس کے مطابق گذشتہ دو برسوں میں ان جزیروں کی ملکیت پر دونوں ملکوں کے موقف میں سختی آئی ہے جس سے ان کے معاشی تعلقات بھی خراب ہوئے ہیں۔

ستمبر 2012 میں اس وقت کشیدگی میں اضافہ ہو گیا تھا جب چینی بحری جہازوں نے ان سمندری پانیوں میں آنا جانا شروع کر دیا جن کے بارے میں جاپان کا کہنا ہے کہ وہ جزائر کے گرد اس کی سمندری حدود کے اندر واقع ہیں۔ اس کے بعد جاپانی حکومت نے چین کو تنبیہ کی تھی۔

رواں سال اپریل میں امریکی صدر براک اوبامانے جاپان کے دورے سے پہلے ایک جاپانی اخبار کو انٹرویو دیتےہوئے کہا تھا کہ متنازع جزائر امریکہ اور جاپان کے درمیان کئی دہائیوں سے موجود دفاعی اتحاد کے دائرہ عمل میں آتے ہیں۔