سلامتی کونسل:ترکی ناکام وینزویلا منتخب
ترکی کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں غیر مستقل نشستوں کے ہونے والے انتخابات میں شکست ہو گئی ہے۔
جمعرات کو سلامتی کونسل کی پانچ غیر مستقل نشستوں کے لیے ہونے والے انتخابات میں وینزویلا، انگولا، ملائیشیا، نیوزی لینڈ اور سپین نے کامیابی حاصل کی۔

،تصویر کا ذریعہEPA
مغربی ممالک کی نمائندگی کے لیے سپین اور نیوزی لینڈ نے ترکی کو شکست دی۔
منتخب ممالک یکم جنوری 2015 سے دو سال کے لیے سلامتی کونسل کے غیر مستقل اراکین کی حیثیت سے کام کریں گے۔
واضح رہے کہ ترکی کو اپنی سرحد پر دولت اسلامیہ کے خلاف کارروائی کے لیے بین ا لاقوامی دباؤ کا سامنا ہے۔
ترکی کی اقوام متحدہ میں زبردست لابنگ کے باوجود نیوزی لینڈ نے انتخابات کے پہلے راؤنڈ جب کہ سپین نے تیسرے راؤنڈ میں کامیابی حاصل کی۔
ترکی کی سرکاری خبررساں ایجنسی کہ مطابق وزیر خارجہ میولت کاووسگلو نے ترکی کی شکست پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’ہم مزید ووٹ حاصل کرنے کے لیے اپنے اصولوں کو قربان نہیں کر سکتے تھے۔‘
دوسری طرف نیوزی لینڈ کے وزیر اعظم جان کی کا کہنا ہے کہ ان کا ملک حق کے لیے آواز بلند کرتا رہا ہے اور انہوں نے نیوزی لینڈ کی یہی خصوصیت اقوام متحدہ کے ممبران کے سامنے رکھی تھیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
وینزویلا کی جیت:
وینزویلا میں سلامتی کونسل کی غیر مستقل نشست کے لیے بلا مقابلہ منتخب ہونے پر خوشیاں منائیں گئیں۔

،تصویر کا ذریعہGetty
2006 میں سلامتی کونسل کی غیر مستقل نشستوں کے لیے ہونے والی ووٹنگ میں امریکہ نے کھل کر وینزویلا کی مخالفت کی تھی لیکن اس بار امریکہ نے نہ تو ان کے مخالفت کی اور نہ حمایت۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ وینزویلا کی جیت اس کے اتحادی ممالک چین اور روس کے لیے فائدہ مند ثابت ہو گی جو کہ سلامتی کونسل کے مستقل ممالک ہیں۔
وینزویلا کے صدر نکولس مڈورو کے ایران اور شام سے بھی قریبی تعلقات ہیں۔
ملائیشیا اور انگولا نے بھی بلا مقابلہ سلامتی کونسل کی غیر مستقل نشستوں پر کامیابی حاصل کی۔
لیکن اقوام متحدہ کے لیے ہیومن رائٹس واچ کے ڈائرکٹر فلپ بولوپین کا کہنا ہے کہ وینزویلا، انگولا اور ملائیشیا کو اپنے ممالک میں انسانی حقوق کی صورتحاک بہتر بنانے پر توجہ ڈالنی ہو گی۔







