اقوام متحدہ فعال بھی ہے اور غیر فعال بھی

،تصویر کا ذریعہReuters
- مصنف, نِک برائنٹ
- عہدہ, بی بی سی نیوز، نیو یارک
اقوام متحدہ نے غزہ میں تشدد کے خاتمے کے لیے مزید کوشش کیوں نہیں کی؟ یا پھر شام، عراق اور جمہوریہ وسطی افریقہ، جنوبی سوڈان، لیبیا، افغانستان اور یوکرین میں جاری بحرانوں کے حل میں اقدامات اٹھائے؟
یہ وہ سوالات ہیں جنھیں اقوام متحدہ سے منسلک افسران بار بار مایوسی کی کیفیت میں خود ہی ڈھونڈ رہے ہیں۔ یہ مشکل ہے کہ ایسا وقت یاد کیا جائے کہ جب دنیا میں بہت سی جنگیں اور بحران آئے اور اس تنظیم کو ان کے حل کے لیے مصالحتی کردار میں مکمل طور پر ناکامی ہوئی ہو۔
امریکی اخبار نیو یارک ٹائمز میں گذشتہ ہفتے اقوام متحدہ کے سفارتکاروں کو متحرک کرنے کے لیے یہ سرخی لگی ’اقوام متحدہ دنیا کے مسائل کے حل میں کیوں ناکام ہے؟‘
بس صرف گرما گرم فضا
دراصل سفارتی سطح پر کوششوں کی کمی نہیں ہے۔ رواں سال فروری کا مہینہ، 1946 میں اقوام متحدہ کے قیام کے بعد سے اب تک سب سے مصروف ترین رہا جس کی اہم وجہ کرائمیا میں قبضے سے متعلق صورتحال کو دیکھنا تھا۔
گذشتہ دو اتوار کونسل کے ممبران رات گئے اکٹھے ہوئے۔
مشرق وسطی کی صورتحال پر مشاورت کے لیے 40 ممالک کے علاوہ سکیورٹی کونسل کے ممبران کا بھی گذشتہ ہفتے پورا دن اجلاس میں گذرا۔ غیر معمولی طور پر اس سال اگست کا مہنیہ بھی بہت مصروف تھا۔

،تصویر کا ذریعہEPA
مگر حاصل وصول کیا ہوا؟ اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل کی جانب سے پیر کو جنگ بندی کی متفقہ قرار داد پر حماس اور اسرائیل نے کان نہیں دھرے اور نہ ہی اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان کی مون ٹھوس نتائج حاصل کرنے میں کامیاب ہو سکے ہیں۔
انکسارانہ شخصیت کے حامل کورین نژاد بان کی مون کو اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کے عہدے پر کام کرتے ہوئے یہ ساتواں سال ہے اور اکثر وہ بے اثر تنظیم کے بےاثر سربراہ کی حیثیت سے ہی سامنے آئے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
روزانہ کی بنیاد پر غزہ کے حوالے سے ان کی جانب سے آنے والا بیان ایک مذاق لگتا ہے، جس سے لوگ باخبر تو ہیں لیکن سننے میں دلچسپی نہیں رکھتے۔
ڈیڈ لاک اور غیر فعالیت
اقوام متحدہ کی ناکامی کی تمام وجوہات میں سے ایک یہ ہے کہ یہ بحیثیت ادارہ یو این فعال نہیں اور اس کے ممبران میں باہمی تعاون اور رابطوں کا فقدان نظر آتا ہے۔
نیو یارک میں کھڑی اقوام متحدہ کی مرکزی عمارت انتالیس منزلوں پر مشتمل ہے۔ ادارے کے بہت سے حصے ہیں اور جب یہ تمام حصے ہی ایک دوسرے کے خلاف کام کرتے ہیں تو نتیجہ یقیناً ڈیڈلاک اور بے اطمینانی کی صورت میں ہی نکلے گا۔
اس تمام صورتحال میں بنیادی غلطی اقوام متحدہ کی بجائے اس کے ممبر ممالک کی ہے۔ اقوام متحدہ میں امریکہ کے سابق سفارتکار رچرڈ ہالبروک نے کہا تھا ’ جب کچھ غلط ہو جائے اس میں اقوام متحدہ کو برا کہنا ایسے ہی ہے جیسے باسکٹ بال کی ٹیم ’نکس‘ کے برا کھیلنے پر میڈیسن سکوائر گارڈن کو مورد الزام ٹھرایا جائے۔‘
اقوام متحدہ کچھ بھی نہیں کر رہا یہ کہنا مشکل ہوگا۔

،تصویر کا ذریعہAP
ادارے کی جانب سے غزہ میں ایک لاکھ اسّی ہزار افراد کو سکولوں میں پناہ دی ہوئے ہے اور خود ادارے کے کم ازکم تین اہلکار غزہ کے بحران میں اپنی جان گنوا چکے ہیں۔
یہاں یہ بھی ضروری ہے کہ اقوام متحدہ کے امدادی اداروں مثلاً ’اوچا‘ جو کہ کسی بھی ملک میں آفات اور جنگوں سے متاثرہ افراد کے لیے انسانی بنیادوں پر امداد اور رابطہ کاری کے فرائض سرانجام دیتا ہے اور سلامتی کونسل جو کہ روزانہ کی بنیادوں پر سفارتی کوششیں کرتا ہے اور بیانات جاری کرتا ہے دونوں اداروں میں تفریق کی جائے۔
دوسری جانب شام ہے جہاں ’اوچا‘ نے صدر بشارالاسد کی اجازت کے بغیر شامی سرحدی علاقوں پر اس یقین کے ساتھ متاثرین تک امداد پہچانی چاہی کہ 20 لاکھ سے زائد افراد تک امداد پہنچ جائے گی۔
لیکن سکیورٹی کونسل کو روس کی تنقید کی وجہ سے شام کے بارے میں قرارداد کی منظوری کے لیے کئی ماہ تک اذیت ناک بات چیت سے گذرنا پڑا کیونکہ روس کا کہنا تھا کہ سلامتی کونسل کی قرارداد شام کی استحکام کے منافی ہیں۔ روس کی جانب سے معاملات کو سبوتاژ کرنے کی یہ کوششیں کئی بار ہو چکی ہیں۔
پانچ طاقتیں اور ویٹو پاور
اگر اقوام متحدہ کی تنظیمی خامیوں کو دیکھا جائے تو وہ مایوس کن ہیں۔ پانچ مستقل ممبران کے ہاتھ ویٹو پاور یعنی کسی بھی فیصلے کے خلاف آواز اٹھانے کا اختیار دے دینا یقیناً معاملات کو معطل کر دینے کی پرچی تھمانے کے مترادف ہے۔
مگر افسوس کہ یہ وہ قیمت ہے جو جنگ عظیم کے بعد بڑی طاقتوں کی مداخلت کو روکنے کے لیے چکانی تھی اور جس میں اقوام متحدہ کو لیگ آف نیشنز کی ناکامی کے بعد آگے بڑھنے اور کام کرنے کا موقع دینا تھا۔

،تصویر کا ذریعہAFP
اعدادوشمار کے مطابق سرد جنگ کے بعد سے اب تک امریکہ نے 14 بار جبکہ روس نے 11 بار اسے ویٹو کا حق استعمال کیا۔ دونوں ممالک نے اس حق کو دراصل اپنے دوست ممالک کی مدد اور تحفظ کے لیے استعمال کیا امریکہ ایسا اسرائیل کے لیے کرتا آیا ہے اور حال ہی میں روس نے ایسا شام کے لیے کیا۔
یہ بھی حقیقت ہے کہ اقوام متحدہ میں محتلف امور سے متعلق قرار دادیں اس لیے پیش ہی نہ ہو سکیں کیونکہ ان میں خطرہ یہ تھا کہ مستقل ممبران ویٹو کا حق استعمال کر کے انھیں پاس نہیں ہونے دیں گے۔
سرد جنگ کا موسم
سلامتی کونسل کے چیمبر میں حالیہ مہینوں میں سرد جنگ کی خنکی لوٹ آئی ہے خاص طور پر جب سے روس نے کرائمیا پر قبضہ کیا۔ بجائے معنی خیز سفارتکاری کہ اب وہاں کبھی غم وغصے کا اظہار اور احتجاج ہوتا ہے اور کبھی تجارت کے حوالے سے ایک دوسرے پر الزامات لگتے ہیں۔ حال ہی میں ملائشیا کے طیارے پر حملے نے فضا کو مذید خراب کیا ہے۔ سلامتی کونسل کا چیمبر کبھی کبھی کمرہ عدالت کا منظر پیش کرتا ہے۔
یہ نہیں کہا جا سکتا کہ اقوام متحدہ مکمل طور پر کمزور اور بے اثر ہے۔ گذشتہ برس ستمبر میں ہتھیاروں کو تلف کرنے کی قرارداد کے مطالبے کے بعد شام کے کیمیائی ہتھیاروں سے چھٹکارا حاصل کرنے کے لیے اقوام متحدہ نے بہت اہم کردار ادا کیا۔ اس کے علاوہ اقوام متحدہ نے امن مشن کو وسطی افریقہ بھجوانے کی منظور بھی دی ہے۔

،تصویر کا ذریعہReuters
امریکہ افغانستان اور عراق کی جنگوں سے زخم خوردہ ہے اور یہی وجہ ہے کہ وہ دنیا کے لیے اب پولیس مین کا کردار ادا کرنے اور اپنی فوجیں وہاں بھجوانے سے گریزاں ہے۔ مگر اس سے اوباما انتظامیہ کی تل ابیب، قاہرہ، بغداد اور کابل میں اثرو رسوخ کم ہوا ہے۔
اس وقت امریکہ کی کمزوری کی دوسری جانب روس کے صدر پوتن بین الاقوامی قوانین اور روایات کو توڑ کر اپنی طاقت کو بڑھا رہے ہیں جس کی ایک مثال کرائمیا پر قبضہ ہے۔
بظاہر سرد جنگ کے خاتمے پر سامنے آنے والا نیا ورلڈ آرڈر ایک ڈس آرڈر یعنی غیر منظم دنیا کی طرف لے جا رہا ہے۔
اور اسی لیے اقوام متحدہ دو رخی ادارہ بن گیا ہے جو فعال بھی ہے اور غیر فعال بھی لیکن اصل ذمہ داری ادارے کے ممبر ممالک پر عائد ہوتی ہے کیونکہ یہ ممالک ہیں جو اتحاد سے بہت دور ہیں۔







