غزہ میں سکول پر بمباری کے واقعے کی تحقیقات کا مطالبہ

با با بان کی مون نے غزہ میں اس سکول کا بھی دورہ کیا جس کو اسرائیل نے نشانہ بنایا تھا

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنبا با بان کی مون نے غزہ میں اس سکول کا بھی دورہ کیا جس کو اسرائیل نے نشانہ بنایا تھا

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان کی مون نے غزہ پر اسرائیلی جارحیت کے دوران ایک سکول پر بمباری کے واقعے کی آزادنہ تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔

بان کی مون نے منگل کو غزہ کے دورے کے دوران وہاں تباہی اور بربادی کے منظر دیکھے اور شدید حیرت کا اظہار کیا۔

دو دن قبل مصر میں امداد دینے والے ملکوں کے ایک اجلاس میں غزہ کی تعمیر نو کے لیے پانچ ارب ڈالر کی امداد دینے کے وعدے کیے گئے ہیں۔

بان کی مون نے اس سال جولائی اور اگست میں غزہ پر اسرائیلی حملوں میں سب سے زیادہ تباہ ہونے والے علاقوں کا دورہ کیا اور وہاں متاثرین سے بھی ملاقات کی جن میں بچے اور عورتیں بھی شامل تھیں جو ان حملوں میں آپاہج ہو گئے تھے۔

غزہ میں شجاعیہ کے علاقے کا دورہ کرنے کے بعد انھوں نے کہا انھوں نے جو تباہی اور بربادی اپنی آنکھوں سے دیکھی ہے اس کا اندازہ انھیں سلامتی کونسل کے اجلاسوں اور بریفنگز سے نہیں ہوسکتا تھا۔

شجاعیہ کا علاقہ اسرائیل کے حملوں میں سب سے زیادہ متاثر ہوا تھا اور اس علاقے کو دیکھنے والوں کا کہنا ہے کہ لگتا ہے جیسے یہ آبادی کسی شدید زلزلے میں تباہ ہوئی ہو۔

سیکریٹری جنرل بان کی مون نے جبالیہ کے علاقے میں اس سکول کا بھی دورہ کیا جہاں جولائی کی 30 تاریخ کو اسرائیلی ٹینک کا ایک گولہ دو کلاسوں پر گرا تھا جس میں 14 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

غزہ میں شجاعیہ کا علاقہ سب سے زیادہ متاثرہ ہوا تھا

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنغزہ میں شجاعیہ کا علاقہ سب سے زیادہ متاثرہ ہوا تھا

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کے دورے کے دوران ہلاک ہونے والوں کے لواحقین ہاتھوں میں اپنے عزیزوں کی تصاویر اٹھائے کھڑے تھے۔

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل نے حماس پر بھی زور دیا کہ وہ اسرائیل پر راکٹ داغنے بند کر دیں۔

ایک زیر مرمت کلاس روم کی دیوار پر لکھا تھا کہ ہر انسان کو زندہ رہنے کا حق حاصل ہے۔

انھوں نے کہا کہ جو تباہی انھوں نے اس دورے کے دوران دیکھی اس سے قبل غزہ پر ہونے والے اسرائیلی حملوں اس قسم کی تباہی دیکھنے میں نہیں آئی۔

بان کی مون کے غزہ پہنچنے پر اسرائیل نے بھی غزہ کی سرحد سے تعمیراتی ساز و سامان کی پہلی کھیپ کو غزہ میں داخل ہونے کی اجازت دی۔

کئی سال سے اسرائیل اور مصر نے غزہ کی اقتصادی ناکہ بندی کر رکھی ہے۔