برطانوی پارلیمان کی تحریک پر اسرائیل کی مذمت

،تصویر کا ذریعہafp
اسرائیل نے برطانوی پارلیمان میں فلسطین کو علیحدہ ریاست کے طور پر تسلیم کرنے کی تحریک کی منظوری کی مذمت کی ہے اور کہا ہے کہ اس سے امن کے قیام کے امکانات کم ہوئے ہیں۔
دوسری طرف برطانیہ کے اسرائیل میں سفیر نے کہا ہے کہ یہ تحریک برطانوی عوام کی سوچ میں تبدیلی کی عکاس ہے۔
برطانوی پارلیمان میں تحریک اور سویڈن کا فلسطین کو علیحدہ ریاست کے طور پر تسلیم کرنے کا اعلان فلسطین کی طرف سے اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل میں مقبوضہ علاقوں سے اسرائیلی انخلاء کے بارے میں قرار داد منظور کرانے کی کوششوں کے پس منظر میں سامنے آئے ہیں۔
برطانوی پارلیمان میں منظور کی جانے والی تحریک کی صرف علامتی حیثیت ہے لیکن اسرائیل میں اس پر شدید رد عمل سامنے آیا ہے۔ اسرائیل کی حکومت کی طرف سے کوشش کی گئی تھی کہ اس تحریک کی منظوری کو نظر انداز کیا جائے۔

،تصویر کا ذریعہAFP
اسرائیل کی وزارتِ خارجہ نے اس تحریک پر تنقید کرتے ہوئے کہا تھا کہ فلسطینی ریاست اسرائیل سے مذاکرات کے بعد ہی وجود میں آ سکتی ہے۔
اسرائیل کی وزارتِ خارجہ نے مزید کہا کہ قبل از وقت فلسطین کو علیحدہ ریاست کے طور پر تسلیم کرنے سے فلسطینی حکام کو غلط پیغام ملیں گے کہ وہ مشکل فیصلے کرنے سے بچ سکتے ہیں۔
برطانیہ میں اسرائیل کے سفیر میتھیو گولڈ نے اسرائیلی ریڈیو سے انٹرویو میں کہا کہ اسرائیلی حکام کو اس تحریک کو نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔
انھوں نے کہا کہ اس پر تشویش ہونی چاہیے کیوں کہ اس سے عوامی رائے کی سمت کا اظہار ہوتا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
انھوں نے مزید کہا کہ انھیں تشویش ہے کہ رائے عامہ تبدیل ہو رہی ہے اور اس سال موسم گرما میں غزہ میں لڑائی اور یہودی آبادیوں کی تعمیر سے عوامی کی رائے بدل رہی ہے۔

،تصویر کا ذریعہAFP
انھوں نے کہا کہ برطانوی پارلیمان میں تحریک کی منظوری سے پتا چلتا ہے کہ ہوا کس سمت میں چل رہی ہے۔
اسرائیل میں قائد حزب اختلاف ائزک ہرزوگ نے برطانوی تحریک کو اسرائیل وزیر اعظم نیتن یاہو کی شکست قرار دیا اور کہا کہ حالیہ دنوں میں اسرائیل کے سویڈن، اقوام متحدہ اور امریکہ کے ساتھ سفارتی تعلقات کشیدگی کا شکار ہیں۔
انھوں نے کہا کہ :’دنیا کے ہر کونے سے اسرائیل کی طرف سرد ہوائیں آ رہی ہیں لیکن حکومت ان حالات سے انکار کر رہی ہے اور ایک سفارتی طوفان کو آواز دے رہی ہے۔‘
انھوں نے کہا نیتن یاہو صدر اوباما سمیت اور دیگر دوستوں سمیت سب سے لڑنا چاہ رہے ہیں۔
موساد کے سابق ڈائریکٹر اور یورپی یونین میں اسرائیل کے سابق سفیر افراہیم ہالوی نے غزہ پر اسرائیلی جارحیت کو اس صورت حال کا ذمہ دار ٹھہرایا۔
انھوں نے کہا کہ انھیں سمجھنا چاہیے کہ رائے عامہ اسرائیل کے خلاف ہو رہی ہے اور غزہ پر اسرائیلی حملے سے جسے ’آپریشن پروٹیکٹو ایج‘ کا نام دیا گیا تھا اس کے اس میں تیزی آئی ہے۔
اقوام متحدہ میں اسرائیل کے سابق سفری میچل اورن نے اسرائیلی حکومت کو خبردار کیا کہ اسے برطانوی تحریک کو نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔

،تصویر کا ذریعہAP
ایک ویب سائٹ کو انٹرویو دیتے ہوئے انھوں نے کہا کہ سویڈن کے اعلان سے برطانوی تحریک زیادہ اہمیت رکھتی ہے۔
انھوں نے مزید کہا کہ ’برطانیہ سلامتی کونسل کا رکن ہے اور فلسطین حکام نومبر میں اقوام متحدہ سے رجوع کرنے والے تاکہ اسرائیل کے مقبوضہ علاقوں سے انخلا کی کوئی حتمی تاریخ مقرر کی جا سکے۔ امکان یہ ہے امریکہ اس پر رائے شماری میں حصہ نہ لے۔‘
انھوں نے کہا کہ اسرائیل سمجھ نہیں رہا کہ برطانیہ اسرائیل کا قریب اتحادی اور دوست رہا ہے اور وہاں 274 ارکان پارلیمان اس قرار داد کی حمایت کی ہے۔
فلسطین میں اس تحریک پر خوشی کا اظہار کیا گیا۔ حنان اشروی نے کہا کہ فلسطین کو ریاست پر تسلیم کرنا ایک اصولی فیصلہ ہے اور انصاف اور امن کی طرف ایک اہم قدم ہے۔
انھوں نے کہا فلسطینوں کا اپنے مستقل کے بارے میں فیصلہ کرنا کا حق کس مذاکرات کا محتاج نہیں ہے۔
انھوں نے کہا کہ فلسطین کو علیحدہ ریاست کے طور پر تسلیم کرنے اور اسرائیل کے ساتھ مذاکرات کا آپس میں کوئی تعلق نہیں ہے اور اس پر کس طور بھی فلسطینی کوئی سودے بازی نہیں کر سکتے۔ انھوں نے کہا اسرائیل کا یہ دعوی انتہائی غیر منصفانہ اور غیر اخلاقی ہے۔







