ترکی کا شام میں اکیلے کارروائی سے انکار

،تصویر کا ذریعہEPA
ترکی کے وزیر خارجہ کا کہنا ہے کہ اکیلے ترکی سے دولت اسلامیہ کے خلاف زمینی کارروائی کی توقع نہیں کی جا سکتی۔
انقرہ میں نیٹو کے نئے سربراہ جینز سٹولٹنبرگ سے ملاقات کے بعد وزیر خارجہ مولود جاوشوغلو نے شام کے ساتھ لگنے والی اپنی سرحد کو ’نو فلائی زون‘ قرار دینے کا بھی مطالبہ کیا۔
ترکی کو اس وقت شام کے قصبے کوبانی میں دولت اسلامیہ کے خلاف کرد جنگجوؤں کی زیادہ سے زیادہ مدد کرنے کے دباؤ کا سامنا ہے۔ امدادی کارکنوں کا کہنا ہے کہ دولت اسلامیہ کے جنگجو شدید لڑائی کے بعد کوبانی کے ایک تہائی حصّے پر قابض ہو چکے ہیں۔
امریکہ کی سربراہی میں دولت اسلامیہ کے ٹھکانوں پر فضائی حملوں کے باوجود مصدقہ ذرائع نے دولت اسلامیہ کی پیش قدمی کی تصدیق کی ہے۔
ترکی نے صورتِ حال پر نظر رکھنے کے لیے اپنی سرحد پر ٹینک تو کھڑے کر دیے ہیں لیکن انہوں نے ابھی تک کوبانی میں ’مداخلت‘ کا فیصلہ نہیں کیا۔
ترکی کے وزیر خارجہ دولت اسلامیہ کے خلاف ترکی کی ممکنہ کارروائی پر نیٹو کے سربراہ اورامریکہ کے نمائندۂ خصوصی سے بات چیت میں مصروف ہیں۔
نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ان مذاکرات میں دولت اسلامیہ کے خلاف کارروائی کے لیے جو بھی مشترکہ فیصلہ کیا گیا، وہ اس سے پیچھے نہیں ہٹیں گے لیکن ترکی اکیلے زمینی کارروائی نہیں کر سکتا۔
ترکی میں کرد مظاہرین کے خلاف کارروائی
ترکی نے ابھی تک خود کو دولت اسلامیہ کے خلاف امریکی سربراہی میں قائم ہونے عالمی اتحاد کی کارروائیوں سے دور رکھا ہے۔ اس کی ایک وجہ کردوں کو مسلح کرنے کے بارے میں ترکی کے تحفظات ہیں۔ ترکی اپنے ملک میں کرد اقلیت کے خلاف طویل جنگ لڑ چکا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
ترکی کی کرد اقلیت گذشتہ کئی دنوں سے ترکی کی حکومت سے کوبانی میں دولت اسلامیہ کے خلاف کارروائی کے مطالبہ کے لیے مظاہرے کر رہی ہے۔
ترکی کی سکیورٹی فورسز کے ساتھ جھڑپوں میں اب تک 12 مظاہریں ہلاک ہو چکے ہیں۔
ترکی کی پارلیمنٹ شام میں عراق میں داخل ہو کر ان جنگجوؤں کے خلاف کارروائی کی قراداد منظور کر چکی ہے، جو ترکی کے لیے خطرہ ہیں۔
ترکی شام سے ملحقہ اپنی سرحد پر نو فلائی زون کا قیام چاہتا ہے، فرانس ترکی کے اس مطالبے کی حمایت کر رہا ہے لیکن امریکی حکام کے بقول یہ مطالبہ فی الحال زیر غور نہیں۔
امریکہ کی سینٹرل کمانڈ کا کہنا ہے کہ کوبانی پر تازہ فضائی کارروائیوں میں دولت اسلامیہ کی پانچ گاڑیاں اور اسلحلے کے ڈپو کو کامیابی سے نشانہ بنایا گیا ہے۔
لیکن پینٹاگون کے ترجمان کا کہنا ہے کہ دولت اسلامیہ کے خلاف صرف فضائی کارروائی ہی کافی نہیں بلکہ زمینی کارروائی بھی ضروری ہے۔







