ترکی: دولتِ اسلامیہ کے خلاف مظاہرے، 12 افراد ہلاک

پولیس نے ملک بھر کے مختلف شہروں میں بشمول انقرہ اور استنبول کے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس اور پانی کے توپ خانے کا استعمال کیا

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنپولیس نے ملک بھر کے مختلف شہروں میں بشمول انقرہ اور استنبول کے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس اور پانی کے توپ خانے کا استعمال کیا

ترکی میں اطلاعات کے مطابق کرد مظاہرین اور پولیس کے درمیان جھڑپوں میں کم از کم 12 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

کرد مظاہرین بظاہر شامی قصبے کوبانی پر دولتِ اسلامیہ کے حملے کے پیشِ نظر ترکی طرف سے اس کی دفاع کے لیے اقدامات نہ کرنے پر خوش نہیں ہیں۔

پولیس نے ملک بھر کے مختلف شہروں میں بشمول انقرہ اور استنبول کے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس اور پانی کے توپ خانے کا استعمال کیا ہے۔

زیادہ کرد آبادی والے شہروں میں کرفیو نافذ کر دیا گیا ہے۔زیادہ تر کشیدگی ترکی کے جنوب مشرقی علاقوں میں پائی جاتی ہے اور اس سے مردین، سیرت، بیت مین اور موس کے شہر زیادہ متاثر ہوئے۔

ترکی کے نائب وزیرِ اعظم یاسین اکودگان نے کہا کہ ترکی وہ سب کچھ کر رہا ہے جو’کوبانی کے لیے کیا جا سکتا ہے۔‘

انھوں نے کہا کہ یہ ’جھوٹ‘ ہے کہ ان کے ملک نے اس قصبے کے رہائشیوں کے لیے کچھ نہیں کیا۔

ترک فوج اور ٹینکیں شامی سرحد پر مورچہ زن ہیں لیکن اس نے ابھی سرحد عبور نہیں کی۔

دیا باکر میں اطلاعات کے مطابق پانچ افراد ہلاک ہوئے جہاں سب سے زیادہ تشدد ہوا۔ احتجاج کرنے والا ایک 25 سالہ شخص صوبہ موس میں ہلاک ہوا۔

ترکی کے وزیرِ داخلہ ایکفان اعلیٰ نے مظاہرین پر الزام لگایا کہ وہ ’اپنے ہی ملک کے ساتھ فریب‘ کر رہے ہیں اور مظاہرین کو خبردار کیا کہ وہ احتجاج ختم کریں یا پھر اس کے ’غیر متوقع‘ نتائج کا سامنا کریں۔

انھوں نے نقرہ میں صحافیوں کو بتایا کہ’تشدد کا جواب تشدد سے دیا جائے گا۔ اس غیر معقول رویے کو فوری طور پر ختم کرکے ا نھیں گلیوں سے نکل جانا چاہیے۔‘

ترکی میں سب سے بڑی کرد پارٹی کردستان ورکرز پارٹی(پی کے کے) نے دولتِ اسلامیہ کے حملے کے خلاف احتجاج کی کال دی تھی۔

امریکہ نے تازہ بمباری کرکے دولتِ اسلامیہ کو روکنے کی کوشش کی لیکن ترک صدر طیب رجب اردوگان نے خبردار کیا ہے کہ کوبانی کوبانی دولتِ اسلامیہ کے ہاتھوں قبضہ ہونے والا ہے۔

اگر دولتِ اسلامیہ کوبانی پر قبضہ کر لیتی ہے تو انھیں شام ترک سرحد کےایک بہت بڑے حصے پر کنٹرول حاصل ہو جائے گا۔

شام میں کشیدگی کی نگرانی کرنے والوں کے مطابق کوبانی کے لیے گذشتہ تین ہفتوں سے جاری لڑائی کے دوران 400 افراد ہلاک اور 160000 شامی پناہ گزین ہوئے ہیں۔