ہانگ کانگ میں مظاہرین کی تعداد میں اضافہ

،تصویر کا ذریعہEPA

ہانگ کانگ کے مرکزی علاقے میں گذشتہ کئی روز سے ہونے والے احتجاج میں جو چین کے65ویں قومی دن کے موقعے پر جاری رہا، ہزاروں افراد شامل ہو گئے ہیں۔

ہانگ کانگ میں مظاہرین کا مطالبہ ہے کہ 2017 میں ہانگ کانگ کی قیادت کے لیے ہونے والے انتخابات میں چین امیدواروں کے ناموں کی منظوری دینے کے فیصلے کو واپس لے۔

ہانگ کانگ کے چیف ایگزیکٹیو سی وائے لیونگ مظاہرین پر زور دے رہے ہیں کہ وہ بیجنگ کی طرف سے ہانگ کانگ کے انتخابی عمل میں کی جانے والی اصلاحات کی حمایت کریں۔

ہانگ کانگ میں مظاہرین نے ان کے خلاف نعرے بازی کی اور جب قومی ترانہ بجایا گیا تو وہ اس کی طرف پشت کر کے کھڑے ہو گئے۔

چین کا کہنا ہے کہ ان کی طرف سے کئی گئی اصلاحات ہانگ کانگ میں خوشحالی اور استحکام کی ضمانت دیں گی۔

مظاہرین ہانگ کانگ شہر کے مرکزی تجارتی علاقہ کازوے بے اور مانگ کاک کے علاقے میں جمع ہیں۔

اتوار کو پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لے لاٹھی چارج اور آنسو گیس کا استعمال کیا تھا

،تصویر کا ذریعہGetty

،تصویر کا کیپشناتوار کو پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لے لاٹھی چارج اور آنسو گیس کا استعمال کیا تھا

شہر میں سم شا سوی کے علاقے کینٹن روڈ وہ چوتھا مقام ہے جہاں پر مظاہرین جمع ہو گئے ہیں۔

ملک کے چیف ایگزیکٹیو نے مظاہرین کی طرف سے مستعفی ہونے کا مطالبہ مسترد کر دیا ہے۔

چین میں کمیونسٹ انقلاب کی65ویں سالگرہ کے موقع پر دن کا آغاز قوم پرچم کی نقاب کشائی سے ہوا جسے چین بھر میں ٹی وی چینلوں پر نشر کیا گیا۔

اس تقریب میں شامل شرکا کے لیے کیمونسٹ پارٹی کے سرخ پرچم کی مناسبت سے سرخ ٹی شرٹس اور سرخ ٹوپیاں پہننا لازمی ہوتا ہے۔ شرکا میں شامل ایک شخص کا کہنا تھا کہ مظاہرین کے مذموم مقاصد ہیں اور وہ اقلیت میں ہیں۔

اس تقریب میں چیف ایگزیکٹیو سی واے لیونگ کی سکیورٹی کے لیے بڑی تعداد میں پولیس موجود تھی۔

انھوں نے مزید کہا کہ ہانگ کانگ کی ایک خصوصی حیثیت ہے اور چین کے ’ایک ملک دو نظام‘ کا یہی مطلب ہے۔

مظاہرین اپنے مطالبات کے منوانے کے لیے بڑے پرعزم ہیں اور ان میں سے کچھ اس تقریب کے باہر بھی جمع ہو گئے اور جب قومی ترانہ بجایا جانے لگا تو وہ اپنی پشت کر کے کھڑے ہو گئے۔

بی بی سی کی نامہ نگار جولیانا نے ہانگ کانگ سے اطلاع دی ہے کہ بدھ کو قومی تعطیل کی وجہ سے لوگ اپنے بیوی بچوں کے ساتھ سڑکوں پر موجود تھے اور لوگوں کو پولیس اور سکیورٹی فورسز کی طرف سے کسی کارروائی کی توقع نہیں تھی۔

بدھ کو ہانگ کانگ میں گذشتہ دنوں سے بالکل مختلف منظر تھا۔ اتوار کو پولیس نے مظاہرین کو منشتر کرنے کے لیے لاٹھی چارج کے علاوہ اور آنسوگیس اور مرچوں کا سپرے بھی استعمال کیا تھا۔

بدھ کو انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے چینی حکام پر زور دیا کہ وہ فوری اور غیر مشروط طور پر ان 20 افراد کو رہا کریں جنھیں چین میں ہانگ کانگ میں مظاہرین کی حمایت کرنے پر گرفتار کر لیا گیا تھا۔

دریں اثنا امریکہ نے کہا ہے ہانگ کانگ میں ہونے والے مظاہروں پر اپنا موقف واضح کرتے ہوئے کہا ہے کہ انتخابات میں امیدواروں کے آزادانہ انتخاب سے چیف ایگزیکٹیو کے لیے باعث استحکام ہوگا۔

امریکی وزارتِ خارجہ کی ترجمان جین پاسکی نے منگل کو کہا تھا کہ وزیر خارجہ جان کیری بدھ کو چینی وزیر خارجہ وانگ یی سے ملاقات میں اس بارے میں بھی بات کریں گے۔