ہانگ کانگ: جمہوری اصلاحات کے حق میں مظاہرے جاری

مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے مرچوں کا سپرے کیا گیا

،تصویر کا ذریعہAP

،تصویر کا کیپشنمظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے مرچوں کا سپرے کیا گیا

ہانگ کانگ میں جمہوری اصلاحات کے حق میں مظاہروں کا سلسلہ دوسرے دن بھی جاری ہے اور ہزاروں افراد حکام کی تنبیہ کے باوجود پیر کو بھی سڑکوں پر نکلے ہیں۔

حکام کا کہنا ہے مظاہروں کے آغاز سے اب تک کم سے کم 34 افراد زخمی ہو چکے ہیں جن میں پولیس اہلکار اور 11 سرکاری ملازمین بھی شامل ہیں۔

حکام نے ان مظاہروں کو ’غیرقانونی‘ قرار دیا ہے اور بلوائیوں سے نمٹنے کے لیے تشکیل دی گئی پولیس فورس نے اتوار اور پیر کی درمیانی شب مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے کارروائی بھی کی۔

یہ مظاہرین چینی حکومت کی جانب سے ہانگ کانگ میں 2017 میں ہونے والے انتخابات کے امیدواروں کی چھان بین کے مبینہ فیصلے کی مخالفت کر رہے ہیں۔

ہانگ کانگ کے چیف ایگزیکیٹو نے عوام کو یقین دلایا ہے کہ ایسی اطلاعات میں کوئی صداقت نہیں اور یہ محض افواہیں ہیں۔

سی وائے لیئنگ نے کہا ہے کہ ’مجھے امید ہے کہ عوام پرسکون رہیں گے اور انھیں چاہیے کہ اس قسم کی افواہوں پر کان نہ دھریں۔‘

حکام کی اپیل کے باوجود بینکاک میں ہزاروں مظاہرین نے رات سڑکوں پر سرکاری عمارات کے گرد دھرنا دے کر گزاری جبکہ انھوں نے کئی مقامات پر رکاوٹیں بھی کھڑی کر لی ہیں۔

مظاہروں کا یہ سلسلہ بینکاک سے اب دیگر علاقوں میں بھی پھیل رہا ہے۔ اطلاعات کے مطابق تین ہزار کے قریب افراد نےمونگ کاک میں ایک مرکزی سڑک بند کر دی ہے جبکہ ایک ہزار افراد بینکاک کے مصروف کاروباری علاقے کازوے بے میں جمع ہوئے ہیں۔

اس کے علاوہ ہزاروں افراد نے ہانگ کانگ کی مرکزی شاہرہ کناٹ روڈ بھی بند کر رکھی ہے۔

پیر کو پولیس نے حکومتی ہیڈکوارٹر کے گرد جمع ہونے والے مظاہرین کو منتشر کرنے کی کوششیں جاری رکھی ہیں

پولیس کی جانب سے ایک بیان بھی جاری کیا گیا ہے جس میں احتجاج کرنے والوں سے پرسکون رہے، پولیس کے حفاظتی حصار کو نہ توڑنے اور مرکزی شاہراہوں پر قبضہ نہ کرنے کو کہا گیا ہے۔

پولیس نے اب تک مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے لاٹھی چارج، آنسو گیس اور مرچوں والے سپرے کا سہارا لیا ہے اور میں اسے جزوی کامیابی ہی ہوئی ہے۔

تاہم مظاہرین کے رہنماؤں نے اپنے ساتھیوں کو پولیس کی جانب سے ربر کی گولیاں استعمال کیے جانے کی صورت میں پسپا ہونے کو کہا ہے۔

اوکیوپائی سینٹرل گروپ کے شریک بانی پروفیسر چین کن مین کا کہنا ہے کہ ’یہ زندگی اور موت کا معاملہ ہے۔ اگر ان کی جانوں کو خطرہ ہو تو انھیں پیچھے ہٹنا چاہیے اور اپنی جان بچانی چاہیے۔‘

اوکیوپائی سینٹرل گروپ نے پیر کو ایک بیان میں ہانگ کانگ کے چیف ایگزیکیٹو سے کہا ہے کہ وہ مستعفی ہو جائیں کیونکہ ’اسی صورت میں سیاسی اصلاحات کا عمل دوبارہ شروع ہو سکتا ہے اور وہ حالات پیدا ہو سکتے کہ یہ بحران ختم ہو سکے۔‘

ادھر چین کا کہنا ہے کہ اسے یقین ہے کہ مقامی انتظامیہ اس معاملے کا حل نکال لےگی۔

چین کے ہانگ کانگ اور مکاؤ کے امور کی وزارت کے ترجمان نے کہا ہے کہ چین ’ایسی غیر قانونی سرگرمیوں کی شدید مخالفت کرتا ہے جو قانون کو نیچا دکھانے کی کوشش کریں اور معاشرتی سکون برباد کریں۔‘

چین نے 1997 میں ہانگ کانگ کا کنٹرول ایک معاہدے کے تحت چین کے حوالے کیا تھا جس کے مطابق وہاں عوام کو اظہار رائے اور احتجاج کی آزادی حاصل ہے۔