’موٹاپےکا طعنہ نہ دیں، ورنہ وہ اور کھائیں گے‘

،تصویر کا ذریعہscience photo
برطانیہ کے یونیورسٹی کالج لندن نے اپنی ایک تحقیق میں کہا ہے کہ موٹے لوگوں کواگر موٹاپے کا طعنہ دیا جائے یا اگر ان کی توجہ موٹاپے کی طرف کرائی جائے تو موٹاپے کا شکار لوگ بجائے کم کھانے کے زیادہ کھانا شروع کر دیتے ہیں۔
یونیورسٹی نے چار سال کے عرصے میں تقریباً 3,000 لوگوں پر تحقیق کی جس سے معلوم ہوا کہ اگر موٹے لوگوں کو چھیڑا جائے، یا طعنہ دیا جائے تو ان کا وزن بڑھ جاتا ہے۔
محققین کا کہنا ہے کہ وزن بڑھنے اور چھیڑ خانی کا آپس میں کوئی تعلق ہونے کا ثبوت نہیں ہے۔ لیکن طعنے سننے یا چھیڑے جانے کے بعد لوگ اپنی خفت مٹانے یا طعنے کے بعد پیدا ہوانے والی کیفیت سے باہر نکلنے کے لیے زیادہ کھا سکتے ہیں۔
ماہرین کہتے ہیں ایسے لوگوں کے ساتھ زیادہ ہمدردی کی جانی چاہیے۔
موٹاپے کے بارے میں ایک جریدے میں محققین نے اپنی تحقیق میں ان لوگوں کو دیکھا جن کا وزن زیادہ تھا اور جو 50 برس کی عمر سے زیادہ تھے۔
ان سے پوچھا گیا کہ کیا ان کو اپنی روز مرہ زندگی میں اپنے وزن کے بارے میں تنگ کیا جاتا ہے؟
انھوں نے اپنے ساتھ ہونے والے امتیازی سلوک کی مثالیں دیں جن میں ان کے ساتھ بدتمیزی کی جاتی تھی، انھیں ہراساں کیا جاتا تھا اور دکانداروں کا رویہ بھی ان کے ساتھ مناسب نہیں ہوتا تھا۔
ہر بیس میں سے ایک شخص نے موٹاپے پر ہراساں کیے جانے کی شکایت کی اور انتہائی موٹے لوگوں کے گروہ میں تین میں سے ایک نے ہراساں کیے جانے کے بارے میں بتایا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
مرد اور خواتین دونوں نے اپنے ساتھ ہونے والے نامناسب رویے کے ملتے جلتے سبب بیان کیے۔
چار سال کی تحقیق سے ظاہر ہوا کہ موٹاپے پر طعنہ زنی کا شکار ہونے والے لوگوں کا وزن اس عرصے میں ایک کلو گرام تک بڑھا۔ جن کو اس صورت حال کا سامنا نہیں کرنا پڑا وہ عام طور پر ایک پاؤنڈ سے زیادہ وزن کم کرنے میں کامیاب رہے۔
محققین کا کہنا ہے کہ لوگوں کو ان کے وزن کے بارے میں چھیڑنے سے منفی اثر پڑتا ہے۔ موٹے لوگوں کو تنگ کرنے کے بجائے ان سے ہمدردی سے پیش آنا چاہیے۔
یونیورسٹی کالج لندن کے ایک کینسر سینٹر کی ڈائریکٹر جین وارڈل کا کہنا ہے کہ لوگوں کے وزن کا مزاق اڑانا اس مسئلہ کا حصہ ہے، حل نہیں۔
ڈاکٹرز سمیت تمام لوگوں کو موٹے لوگوں کا مذاق اڑانا نہیں بلکہ ان کی مدد کرنی چاہیے۔







