کمسن بچے پر مقدمہ درج کرنے پر اہلکار معطل

،تصویر کا ذریعہ AP
بھارت کی ریاست اتر پردیش میں دو پولیس اہلکاروں کو ایک کمسن بچے پر مقدمہ درج کرنے پر معطل کردیا گیا ہے۔
اتر پردیش کے ایک دیہاتی علاقے میں ہونے والے ضمنی انتخابات کے دوران اس بچے پر لوگوں پر ’جبر کرنے اور دھمکیاں‘ دینے کے الزامات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا تھا۔
پولیس کی رپورٹ میں بیان کیا گیا تھا کہ دس سے بارہ ماہ کا بچہ ناظم اور اس کے والد یاسین ضمنی انتخابات کے دوران بدامنی پھیلا سکتے ہیں۔
پولیس اکثر مقامی انتخابات سے قبل ممکنہ شر پسند عناصر اور مجرموں کی فہرست تیار کرتی ہے اور متعلقہ حکام اور عدالتوں کو بھیجتی ہے۔
نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ اس واقعے سے پورے علاقے میں لوگ میں انتہائی غم و غصہ پایا جاتا ہے۔
سینیئر پولیس افسر گلاب سنگھ نے بی بی سی ہندی کے نامہ نگار سلمان روی کو بتایا کہ پولیس اہلکاروں نے مُراداباد کے علاقے میں ٹھاکردوارا پولیس اسٹیشن میں شکایت درج کرائی تھی۔
گلاب سنگھ نے کہا کہ ’ہم نے پہلے سے ہی متعلقہ پولیس اہلکاروں کے خلاف محکمانہ کارروائی شروع کر دی ہے اور ان کو جمعرات کی شام کو معطل کر دیا جائے گا۔‘

انھوں نے یہ بھی کہا کہ ’یہ بات واضح ہے کہ پولیس اہلکاروں نے علاقے کا دورہ نہیں کیا اور اپنی رپورٹ کو افواہ کی بنیاد پر تیار کیا، حقائق کی تصدیق نہیں کی۔ ہم اس معاملے سے بڑی سنجیدگی سے نمٹ رہے ہیں اور پوری کوشش کریں گے کہ آئندہ اس طرح کے واقعات دوبارہ پیش نہ آئیں‘۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
سنہ 2011 میں بہار کی ریاست کے ایک دیہاتی علاقے میں ہونے والے کونسل کے انتخابات کے دوران پولیس نے ایک پانچ برس کے بچے پر انتشار پھیلانے کے الزامات میں مقدمہ درج کیا تھا۔
پولیس اہلکاروں نے بعد میں کہا کہ وہ ایک غلط شناخت کا معاملہ تھا اور وہ بچے کے بڑے بھائی پر بدامنی پھیلانےکے الزامات کے تحت مقدمہ درج کروانا چاہتے تھے۔
اس کے علاوہ سنہ 2006 میں بہار کی پولیس نے ایک چھے سالہ بچی پر پولیس پر حملہ کرنے اور اپنے والد کو پولیس کی حراست سے فرار ہونے کی مدد کرنے پر مقدمہ درج کیا تھا۔
یہ مقدمے ملکی قانون کے خلاف درج کروائے گئے تھے جس کے تحت، پولیس سات سال سے کم عمر کے بچوں کے خلاف فوجداری مقدمے دائر نہیں کر سکتی ہے ۔







