یوکرین بحران: جنگ بندی کے معاہدے کے بعد شیلنگ

،تصویر کا ذریعہAFP
یوکرین میں حکومت اور باغیوں کے درمیان جنگ بندی پر اتفاق کے ایک دن بعد ملک کے جنوب مشرقی شہر مریوپول میں دھماکوں کی آوازیں سنی گئی ہیں۔
شہر میں موجود بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ دھماکے اس قدر شدید تھے کہ اس نے شہر کے مشرقی علاقوں کو ہلا کر رکھ دیا۔
اس سے قبل یوکرین اور روس کے صدور نے کہا تھا کہ مشرقی یوکرین میں جنگ بندی بہت حد تک برقرار ہے۔
دوسری جانب بین الاقوامی تنظیم ریڈ کراس نے کہا ہے کہ باغیوں کے قبضے والے شہر لوہانسک کے لیے روانہ کیے جانے والے ٹرک گولہ باری کی وجہ سے واپس ہو گئے ہیں۔
جنگ بندی کے معاہدے پر یوکرین، روس، یورپی سکیورٹی تعاون تنظیم (او ایس سی ای) اور روس نواز باغیوں کے نمائندوں کے درمیان بیلاروس میں بات چیت کے بعد دستخط کیے گئے تھے۔
جنگ بندی پر عملدرآمد کا وقت جمعے کو گرینچ کے معیاری وقت کے مطابق دن کے تین بجے رکھا گیا تھا۔

،تصویر کا ذریعہAFP
گذشتہ 24 گھنٹوں کے درمیان ملک کے مشرقی علاقے میں کسی قابل ذکر جنگ کی اطلاعات نہیں تھیں لیکن سنیچر کی شام کو مریوپول سے بی بی سی کے نمائندے فرگل کین نے ٹوئیٹ کیا کہ شیلنگ دوبارہ شروع ہو گئی ہے۔
انھوں نے بتایا کہ شہر کے مشرقی حصے میں حکومتی چیک پوائنٹس کے قریب دھماکے ہوئے اور دونوں جانب سے گولہ باری ہوئی۔ تاہم توار کی صبح شیلنگ رک گئی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ہمارے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ ابھی یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ ان دھماکوں کے جنگ بندی کے معاہدے پر کیا اثرات ہوں گے؟
ادھر انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیم ایمنیسٹی انٹرنیشنل نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے مشرقی یوکرین کی خانہ جنگی میں شریک تمام فریقین جنگی جرائم کے مرتکب ہو رہے ہیں۔
ایمنیسٹی انٹرنیشنل نے یہ رپورٹ فائر بندی کے معاہدے سے پہلے جمع کیے گئے شواہد کی بنیاد پر تیار کی ہے۔
ایمنیسٹی کی رپورٹ کے مطابق عینی شاہدین نے بتایا ہے کہ یوکرین کی فوج بلا امتیاز آبادیوں پر گولہ باری کرتی ہے جبکہ اس کے ساتھ لڑنے والے رضار کار عام لوگوں کے اغوا اور تشدد میں ملوث ہیں۔
روس کے حامی باغیوں پر بھی عام شہریوں کے اغوا، تشدد اور قتل جیسے الزمات سامنے آئے ہیں۔
ایمنیسٹی انٹرنیشنل کے سیکریٹری جنرل سلیل شیٹھی نے کہا ہے کہ انھیں مشرقی یوکرین میں باغیوں کی حمایت کے لیے روس کی براہِ راست مداخلت کے شواہد ملے ہیں۔
یوکرین میں اپریل سے شروع ہونے والے تصادم میں اب تک 2,600 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔
یہ جنگ اس وقت شروع ہوئی تھی جب روس نواز باغیوں نے کرائمیا کے علاقے کے روس سے الحاق کے ایک ماہ بعد یوکرین کے مشرقی شہروں دونیتسک اور لوہانسک پر اپریل میں قبضہ کر لیا تھا۔

،تصویر کا ذریعہReuters
یوکرین اور مغربی ممالک روس پر یہ الزام لگاتے ہیں کہ وہ مشرقی یوکرین میں باغیوں کی امداد کے لیے اپنے فوجی بھیج رہا ہے تاہم روس اس کی مسلسل تردید کرتا رہا ہے۔
سنیچر کو یوکرین کے صدر پیٹرو پوروشنکو اور ان کے ہم منصب ولادیمیر پوتن نے جمعے کو عمل میں آنے والے اس جنگ بندی کے معاہدے کو ’دیر پا‘ بنانے کے لیے فون پر گفتگو کی۔
ایک بیان میں صدر پوروشنکو نے کہا کہ انھوں نے جنگ بندی کی نگرانی کے لیے یورپی سکیورٹی تعاون تنظیم کی ’زیادہ سے زیادہ شمولیت پر زور دیا ہے۔‘
اس کے علاوہ دونوں رہنماؤں نے انسانی بنیادوں پر فراہم کی جانے والی امداد میں تعاون دینے پر بھی بات چیت کی۔
ایک علیحدہ بیان میں روس کے صدر پوتن نے کہا کہ دونوں نے ’بات چیت جاری رکھنے پر اتفاق کیا ہے۔‘







