نیتن یاہو کا غزہ میں مہم جاری رکھنے کا عزم

بدھ کو کئے گئے اسرائیلی حملوں میں ایک حاملہ عورت سمیت کئی بچے ہلاک ہوئے ہیں

،تصویر کا ذریعہBBC World Service

،تصویر کا کیپشنبدھ کو کئے گئے اسرائیلی حملوں میں ایک حاملہ عورت سمیت کئی بچے ہلاک ہوئے ہیں

اسرائیل کے وزیرِ اعظم بنیامین نتن یاہو نے غزہ میں جنگجوؤں کے خلاف عسکری مہم جاری رکھنے کے عزم کو دہرایا ہے۔

اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ اس نے بدھ کو غزہ پر 92 فضائی حملے کیے جبکہ غزہ سے اسرائیل پر 137 راکٹ فائر کیے گئے۔ بدھ کو کئے گئے اسرائیلی حملوں میں طبی حکام کےمطابق ایک حاملہ عورت سمیت کئی بچے بھی ہلاک ہوئے ہیں۔

حماس کے مطابق جنگ بندی ختم ہونے کے بعد منگل کو تازہ حملوں میں ہلاک ہونے والوں میں حماس کے عزالدین القسام بریگیڈ کے کمانڈر محمد ضیف کی اہلیہ اور بچی ہلاک ہوئے ہیں۔

فلسطینی حکام کے مطابق غزہ پر آٹھ جولائی سے شروع ہونے والی اسرائیلی حملوں میں اب تک کم از کم 2036 فلسطینی ہلاک ہوئے ہیں جن میں اقوامِ متحدہ کے مطابق زیادہ تر عام شہری ہیں جبکہ اسرائیلی حکام کے مطابق اس لڑائی میں 64 اسرائیلی شہری اور تین عام شہرے مارے گئے ہیں۔

ٹیلی ویژن پر اپنی خطاب میں نتن یاہو نے کہا کہ ’وہ ضرورت کے مطابق تمام وسائل بروئے کار لاتے ہوئے ایک جاری رہنے والی مہم کے لیے پر عزم ہیں۔‘

انھوں نے کہا کہ ’ہم اس وقت تک نہیں رکیں گے جب تک تمام اسرائیلی شہریوں کی سلامتی کو یقینی نہ بنا لیں۔‘

اسرائیلی وزیرِ اعظم نے کہا کہ حماس اور شدت پسند گروپ دولتِ اسلامیہ ایک جیسے ہیں۔ انھوں نے دونوں تنظیموں کو ’ایک ہی درخت کی شاخیں‘ قرار دیا۔

ادھر حماس کے ترجمان فاوی برہوم نے کہا کہ نتن یاہو کا بیان ’شکست کے لیے جواز ڈھونڈنا اور ناکامیوں پردہ ڈالنے کی کوشش ہے۔‘

غزہ میں فریقین کے درمیان موجودہ جنگ بندی گذشتہ بدھ کو ہوئی تھی جس کی مہلت پیر اور منگل کی درمیانی شب کو ختم ہونی تھی تاہم پیر کو جنگ بندی کے معاہدے میں 24 گھنٹے کی توسیع کی گئی تھی لیکن قاہرہ میں امن بات چیت ناکام ہونے کے بعد فریقین کے مابین دوبارہ لڑائی شروع ہو گئی۔

مصر نے مذاکرات کے جاری دوران جنگ بندی ختم ہونے پر افسوس کا اظہار کیا ہے کہ اور کہا ہے کہ وہ فریقین کے درمیان طویل مدتی صلح کرنے کی کوششیں کرتا رہے گا۔