غزہ پر تازہ بمباری، پانچ مزید فلسطینی ہلاک

،تصویر کا ذریعہAP
غزہ پر تازہ اسرائیلی بمباری میں پانچ مزید فلسطینی ہلاک ہوئے ہیں جبکہ اسرائیل پر بھی حماس کی طرف سے راکٹ فائر کرنے کا سلسلہ جاری ہے۔
غزہ میں تین دن کی جنگ بندی ختم ہونے کے بعد جمعے کو تشدد کا سلسلہ ایک بار پھر شروع ہو گیا۔
غزہ میں مقامی حکام کے مطابق سنیچر کو ایک مسجد کے ملبے سے تین فلسطینیوں کی لاشیں نکالی گئیں جبکہ دو مزید فلسطینی اس وقت ہلاک ہوئے جب ان کے موٹر سائیکل پر بمباری کی گئی۔
ادھر غربِ اْردن میں بھی کشیدگی بڑھ گئی ہے جہاں مظاہرین اور اسرائیلی فوجیوں کے درمیان جھڑپیں ہوئی ہیں اور اطلاعات کے مطابق ایک فلسطینی کو جمعے کو اور دوسرے کو سنیچر کو گولی مار کر ہلاک کیا گیا ہے۔
غزہ میں آٹھ جولائی کو شروع ہونے والی اسرائیلی بمباری میں اب تک 1960 فلسطینی ہلاک ہوئے جن میں اقوامِ متحدہ کے مطابق اکثریت عام شہریوں کی ہے۔
حالیہ کشیدگی میں 67 اسرائیلی ہلاک ہوئے ہیں جن میں تین عام شہری ہیں۔
اسرائیل کا کہنا ہے کہ اس نے جنگ بندی ختم ہونے اور حماس کی طرف سے راکٹ فائر نے کے بعد غزہ میں اپنی کارروائیاں دوبارہ شروع کیں۔
اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ اس نے سنیچر کو غزہ میں 33 مقامات کو نشانہ بنایا جبکہ جنوبی اسرائیل پر چھ راکٹ داغے گئے ہیں۔ اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ حالیہ جنگ بندی ختم ہونے کے بعد غزہ سے اسرائیل پر 70 راکٹ فائر کیے گئے ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اس سے پہلے اقوام متحدہ اور امریکہ نے غزہ میں پھر سے تشدد کی شروعات کی مذمت کرتے ہوئے دونوں فریقوں پر زور دیا تھا کہ پرتشدد کارروائیوں روک کر مذاکرات کے ذریعے پائیدار امن کی کوششیں کریں۔
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے کہا تھا کہ عام شہریوں کی مزید ہلاکتیں ناقابل برداشت ہیں۔
بان گی مون نے دونوں فریقوں سے کہا تھا کہ وہ انسانی بنیادوں پر ہونے والی جنگ بندی کا احترام کریں اور قاہرہ میں دوبارہ مذاکرات کی میز پر اکھٹے ہوں۔

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
حماس اور اسرائیل کے درمیان جنگ بندی میں توسیع نہیں ہو سکی ہے۔ خیال کیا جاتا ہے کہ حماس اسرائیل کی جانب سے گذشتہ سات برسوں سے غزہ کا محاصرہ ختم کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جسے اسرائیل تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں ہے۔
حماس نے غزہ کو ہتھیاروں سے پاک کرنے کے اسرائیلی مطالبے کو ماننے سے انکار کیا ہے۔
مصر نے، جو فلسطینی گروپوں اور اسرائیل کے مابین صلح کرانے کی کوششیں کر رہا ہے، دونوں فریقوں سے کہا ہے کہ وہ مذاکرات کے میز پر دوبارہ واپس آئیں۔
ایک فلسطینی وفد نے جمعہ کو مصری مصالحت کار سے ملاقات کی البتہ اسرائیل نے یہ کہہ کر مذاکرات میں شریک ہونے سے انکار کیا کہ وہ حماس کے حملوں کے دوران مذاکرات نہیں کر سکتے۔







