مصر میں ہونے والے مذاکرات ناکام، غزہ پر بمباری

،تصویر کا ذریعہGetty
تین دن کی جنگ بندی کے بعد اسرائیل نے غزہ پر دوبارہ بمباری شروع کر دی ہے جبکہ مصر میں اسرائیل اور فلسطین کے درمیان مذاکرات بغیر کسی معاہدے کے ختم ہو گئے ہیں۔
اسرائیل کا کہنا ہے کہ جب تک حماس کی جانب سے راکٹ حملے نہیں رکتے تب تک مذاکرات نہیں ہوں گے۔
اسرائیلی حکام کے مطابق اس نے جنگ بندی کے مقررہ وقت کے اختتام کے بعد حماس کی طرف سے فائر کیے گئے راکٹوں کے بعد جوابی کارروائی کی ہے۔
اسرائیلی فوج کے مطابق حماس کی طرف سے تازہ راکٹ حملے ’ناقابلِ برداشت‘ ہیں اور انھوں نے اسے ’کوتاہ بینی‘ سے تعبیر کیا۔
فوجی حکام کے مطابق مقامی وقت صبح آٹھ بجے جنگ بندی ختم ہونے کے بعد حماس کی طرف سے اسرائیل پر 35 راکٹ داغے گئے جس میں سے اسرائیل کے راکٹ روکنے والے نظام ’آئرن ڈوم‘ نے تین مار گرائے جبکہ بقیہ کھلے میدان میں جا گرے۔ حملوں سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔
دوسری طرف فلسطینی حکام کے مطابق اسرائیلی تازہ ترین حملوں میں ایک مسجد پر بمباری کی گئی جس سے ایک دس سالہ بچہ ہلاک ہو گیا۔ بی بی سی کے نمائندوں کے مطابق اسرائیلی فوج حملوں میں ٹینک اور گن بوٹس کا بھی استعمال کر رہی ہے۔
جمعرات کو انسانی حقوق کی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے کہا تھا کہ اسرائیلی فوج کی طرف سے ہسپتال اور امدادی ٹیموں پر کیے گئے حملے جان بوجھ کر کیے گئے ہیں اور ان کی تفتیش ہونی چاہیے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

،تصویر کا ذریعہGetty
یاد رہے کہ فلسطین کی عسکریت پسند تنظیم حماس نے جمعے کو ختم ہونے والی تین روزہ جنگ بندی میں توسیع کرنے سے انکار کر دیا تھا۔
حماس کے عسکری دھڑے کے ترجمان نے قاہرہ میں اسرائیل کے ساتھ مذاکرات کرنے والے فلسطینی مذاکرات کاروں سے کہا تھا کہ وہ اس وقت تک جنگ بندی میں توسیع سے انکار کریں گے جب تک ان کے طویل المدتی مطالبات تسلیم نہیں کیے جاتے۔
ترجمان کے مطابق اگر ان کے مطالبات پر غور کیا گیا تو ان کی تنظیم طویل المدت جنگ بندی کے لیے تیار ہے۔
اس سے پہلے اسرائیل کے غزہ کے خلاف آٹھ جولائی سے شروع کی جانے والی فضائی اور زمینی کارروائیوں میں 1800 فلسطینی اور 67 اسرائیلی ہلاک ہو چکے ہیں۔
اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ انھوں نے 900 فلسطینی شدت پسندوں کو ہلاک کیا ہے۔
اقوامِ متحدہ کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں 1354 افراد عام شہری تھے جن میں 415 بچے اور 214 عورتیں شامل ہیں۔







