جرمنی نے کلنٹن اور کیری کی جاسوسی کی: درشپیگل

جرمن حکومت نے اخبارات اور دونوں نشریاتی اداروں کو بتایا ہے کہ ریکاڈ کی گئی فون کال ایک غلطی تھی

،تصویر کا ذریعہGetty

،تصویر کا کیپشنجرمن حکومت نے اخبارات اور دونوں نشریاتی اداروں کو بتایا ہے کہ ریکاڈ کی گئی فون کال ایک غلطی تھی

جرمن جریدے درشپیگل نے جرمن جاسوس اداروں پر امریکی سینیٹر ہلری کلنٹن اور امریکی وزیر جان کیری کی جاسوسی کرنے کا الزام عائد کیا ہے۔

میگزین کا کہنا ہے کہ جرمن جاسوس اداروں نے 2013 میں جان کیری کی ایک فون کال کو ریکارڈ کیا جبکہ ایک اور جرمن اخبار ذوٹوچےِ زیٹنگ اور حکومتی نشریاتی ادارے این ڈی آر اور ڈبلیو ڈی آر نے کہا ہے کہ امریکی جاسوسی ادارے سی آئی اے کو فراہم کی جانے والی دستاویزات کے مطابق جرمن جاسوس اداروں نے ہلری کلنٹن کی بھی جاسوسی کی۔

جان کیری نے اپنے جرمن ہم منسب فرینک والٹر سے فون پر ان الزامات کے حوالے سے بات کی ہے۔

یاد رہے کہ جرمنی نے اس سال امریکی جاسوس ایڈورڈ سنوڈن کی طرف سے ریلیز کی گئی خفیہ دستاویزات پر امریکہ کے خلاف برہمی کا اظہار کیا تھا۔ ان دستاویزات میں جرمن وزیر اعظم اینگلا مرکل پر امریکی جاسوسی ادارے این ایس اے کی طرف سے جاسوسی کرنے کے شواہد تھے۔

تاہم صحافیوں کا کہنا ہے کے جرمن میڈیا میں شائع ہونے والے ان نئے انکشافات سے جرمن قیادت اب خود شرمندہ ہوگئی ہے۔

دوسری طرف جرمن حکومت نے اخبارات اور دونوں نشریاتی اداروں کو بتایا ہے کہ ریکارڈ کی گئی فون کال ایک غلطی تھی جو کہ صرف ایک بار سرزرد ہوئی تاہم جرمن میڈیا نے اس بات کی تردید کی ہے۔

برلن میں موجود امریکی سفیر نے اس حوالے سے بات کرنے سے انکار کردیا ہے۔

اگر یہ الزامات ثابت ہو جاتے ہیں تو امریکی اور جرمن تعلقات میں مزید کشیدگی آ سکتی ہے۔ دونوں ملکوں کے تعلقات ایڈورڈ سنوڈن کی طرف سے جاری کی جانے والی خفیہ دستاویزات کے بعد کشیدہ ہوگئے تھے۔

جرمن قیادت نے جرمنی کے امریکی جاسوسی ادارے سی آئی اے کے جرمنی کے سربراہ کو ملک سے نکل جانے کا حکم دیا تھا۔