روس کا مشرقی یوکرین کے لیےامدادی آپریشن کا آغاز

،تصویر کا ذریعہAFP
روس نے کہا ہے کہ انسانی بنیادوں پر امداد کے تحت مشرقی یوکرین کے باشندوں کے لیے تقریباً 300 لاریوں پر سامان ماسکو سے روانہ کیا گیا ہے۔
روسی میڈیا کے مطابق سینکڑوں ٹن اناج، بچوں کی غذا، بجلی کے جنریٹروں اور دواؤں پر مشتمل یہ سامان روس نواز باغیوں کے زیر قبضہ علاقوں کے لیے ہے جہاں علیحدگی پسندوں اور یوکرین کی فوج کی جنگ میں عام شہری پھنس کر رہ گئے ہیں۔
روس نے کہا ہے کہ یوکرین کی حکومت نے انسانی ہمدردی کی بنیاد پر اس آپریشن پر رضامندی ظاہر کی ہے۔
مغربی ممالک نے روس کو متنبہ کیا ہے کہ وہ انسانی ہمدردی کی بنیاد پر دی جانے والی امداد کو مشرقی یوکرین پر حملے کے بہانے کے طور پر استعمال نہ کرے۔
پیر کو روسی صدر ولادی میر پوتن نے کہا تھا کہ روس یہ امدادی مشن بین الاقوامی ریڈ کراس تنظیم کے تعاون کے ساتھ شروع کر رہا ہے۔
ریڈ کراس نے یہ تسلیم کیا ہے کہ مشرقی یوکرین میں حالات نازک ہیں اور ہزاروں لوگوں کو پانی، بجلی اور دوائیں دستیاب نہیں ہیں۔
تنظیم کا کہنا ہے کہ اس نے اصولی طور پر اس آپریشن کے لیے رضامندی ظاہر کی ہے لیکن یہ واضح کر دیا ہے کہ عملی تفصیلات کو پہلے ظاہر کیے جانے کی ضرورت ہے۔
اطلاعات کے مطابق امدادی سامان سے لیس یہ کارگو ماسکو کے جنوب مغرب میں واقع شہر نارو فومنسک سے منگل کی صبح روانہ ہوا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

،تصویر کا ذریعہAP
ماسکو کے حکام نے کہا: ’یہ قافلہ مشرقی یوکرین کے شہریوں کو تقریباً انسانی بنیاد پر دیے جانے والا 2000 کلو سامان پہنچائے گا۔ یہ سامان ماسکو اور اس کے نواحی علاقوں کے باشندوں سے اکٹھا کیا گیا ہے۔‘
واضح رہے کہ یوکرین میں نئی حکومت کی جانب سے اپریل کے وسط میں دونیتسک اور لوہانسک میں روس نواز علیحدگی پسندوں کے خلاف کارروائی کے لیے فوج بھیجے جانے کے بعد سے اب تک اس علاقے میں کم از کم 1500 افراد مارے جا چکے ہیں۔
روس نواز علیحدگی پسند چار مہینوں سے یوکرین حکومت کے خلاف ملک کے مشرقی علاقے میں برسر پیکار ہیں اور انھوں نے یوکرین سے علیحدگی کا اعلان کر رکھا ہے۔
اس جنگ کے نتیجے میں ہزاروں افراد بے گھر ہو گئے ہیں اور بہت سے بھاگ کر روس چلے گئے ہیں۔
یوکرین کی فوج نے دونیتسک کا محاصرہ کر رکھا ہے اور وہاں کے لوگوں کو خوراک اور بجلی کے حصول میں دقتوں کا سامنا ہے۔ حالیہ شورش سے قبل اس شہر کی آبادی دس لاکھ ہوا کرتی تھی۔
واضح رہے کہ ملیشیا کے مسافر طیارے ایم ايچ 17 کےحادثے کی پوری جانچ وہاں جاری لڑائی کے نتیجے میں پوری نہیں ہو سکی ہے۔
اس طیارے کو 17 جولائی کو مار گرایا گیا تھا اور ابھی تک اس کے بہت سے مسافروں کی لاشیں بھی برآمد نہیں ہو سکی ہیں۔
اس بات کا قوی امکان ظاہر کیا جاتا ہے کہ اسے روس نواز باغیوں نے مار گرایا تھا جبکہ روس اور علیحدگی پسندوں نے اس کا الزام یوکرین پر لگایا ہے۔
منگل کو امریکی وزیر خارجہ جان کیری نے کہا کہ انھیں امید ہے کہ یوکرین اور روس مل کر کوئی راستہ نکال لیں گے تاکہ حادثے کی باضابطہ جانچ ممکن ہو سکے۔







