اردوغان کو ووٹ دینے والوں کے لیے جرمن کلب میں مفت رکنیت

کلب کے مالک ابراہیم دیمیرکن نے اس اشتہار کا سارا الزام مقامی مارکیٹنگ کمپنی پر عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اس کے خلاف قانونی چارہ جوئی کریں گے

،تصویر کا ذریعہBBC World Service

،تصویر کا کیپشنکلب کے مالک ابراہیم دیمیرکن نے اس اشتہار کا سارا الزام مقامی مارکیٹنگ کمپنی پر عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اس کے خلاف قانونی چارہ جوئی کریں گے

مغربی جرمنی کے ایک نائٹ کلب نے ان افراد کو مفت رکنیت کی پیش کش کی ہے جو آئندہ صدارتی انتخابات میں ترکی کے وزیر اعظم رجب طیب اردوغان کی حمایت کریں گے۔

یورپ میں ترکی کا سب سے بڑا تفریحی مقام سمجھے جانے والے ’ کلب تقسیم بوچم‘ نے اپنی ویب سائٹ پر ایک اشتہار شائع کیا ہے جس میں اردوغان کے لیے ترکی کے صدارتی انتخابات میں حمایت ظاہر کی گئی ہے۔

اشتہار میں لکھا ہے: ’ووٹ دیتے وقت بیلٹ پیپر کی تصویر اتاریں اور ہمارے پاس لے آئیں اور ایک سال کی مفت رکنیت حاصل کریں۔‘

ترکی کے 27 لاکھ تارکینِ وطن ووٹرز ہیں جو ملک بھر کے ووٹرز کا پانچ فیصد بنتے ہیں اور یہ پیشکش اگست میں ہونے والے انتخابات میں متاثر کن ثابت ہو سکتی ہے۔ ترکی کے یہ تارکینِ وطن دنیا بھر کے 100 سفارت خانوں اور قونصلیٹوں میں ووٹ ڈالے جائیں گے۔

رجب طیب اردوغان کو حال ہی میں بدعنوانی کے الزامات کا بھی سامنا رہا ہے لیکن نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ ان سب کے باوجود ان کی انتخابات میں کامیابی کا امکان ہے۔

بعض ترک نیوز ویب سائٹوں نے اس بات کو بڑھا چڑھا کر بیان کیا ہے کہ اس کلب میں شراب پیش کی جاتی ہے۔ تاہم ترک وزیرِ اعظم نشے کے خلاف ہیں اور انھوں نے اپنے ملک میں رقص و شراب پر پابندی عائد کی تھی۔

ترکی سے تعلق رکھنے والے سوشل ڈیمو کریٹک رکن پارلیمان سردار یکسیل کا کہنا ہے کہ ’یہ ہمارے جمہوری اصولوں کے خلاف ہے اور قانوناً قابلِ سزا ہے۔‘

جبکہ کرسچین ڈیموکریٹک یونین کے رہنما کرسچین ہارٹ امید کرتے ہیں کہ ’متعلقہ حکام ووٹ حاصل کرنے کی اس کوشش کی تحقیق کریں گے۔‘

تاہم کلب کے مالک ابراہیم دیمیرکن نے اس اشتہار کا سارا الزام مقامی مارکیٹنگ کمپنی پر عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اس کے خلاف قانونی چارہ جوئی کریں گے۔

ان کا کہنا ہے کہ ’میں شراب بیچ کر ہی کمائی کرتا ہوں۔ میرے 95 فیصد گاہک اردوغان کے مخالف ہیں۔ میں یہ پیشکش کر کے انھیں پاگل کردوں گا۔‘

’ذرا سوچیے اگر دس ہزار لوگ اردوغان کے ووٹ کے ساتھ آ گئے تو کیا ہوگا۔ میں ایسا کرنے کا متحمل نہیں ہو سکتا۔‘