بدعنوانی کے الزامات کے بعد نئی ترک کابینہ کا اعلان

ترک وزیرِاعظم اردوغان نے صحافیوں کے سامنے نئے وزرا کی فہرست پیش کی
،تصویر کا کیپشنترک وزیرِاعظم اردوغان نے صحافیوں کے سامنے نئے وزرا کی فہرست پیش کی

بدعنوانی کی تفتیش شروع ہونے کے نتیجے میں تین ترک وزیروں کے استعفے کے بعد وزیرِ اعظم رجب طیب اردوغان نے کابینہ میں بڑے پیمانے پر تبدیلیوں کا اعلان کیا ہے۔

اردوغان نے صدر عبداللہ گل سے ملاقات کے بعد دس نئے وزرا کے ناموں کا اعلان کیا۔ یہ تعداد ان کی کابینہ کی کل تعداد کا نصف ہے۔

مستعفی ہونے والوں میں ماحولیات کے سابق وزیر ادوغان بیراکتار بھی شامل ہیں۔ انھوں نے وزیرِاعظم اردوغان سے بھی مستعفی ہونے کا مطالبہ کیا ہے۔

پولیس غیر قانونی طریقے سے ایران کو رقم کی فراہمی اور تعمیراتی منصوبوں میں رشوت خورنی کے الزامات کی تفتیش کر رہی ہے۔

بیراکتار، وزیرِ معیشت ظفر جیغلیان اور وزیرِ داخلہ معمر گلیر نے اس وقت استعفیٰ دیا جب ان کے بیٹوں کو پولیس نے حراست میں لے لیا تھا۔

تینوں نے کسی بھی غلط کام میں ملوث ہونے کے الزام سے انکار کیا ہے۔

استنبول میں مظاہرین نے حکام کی بدعنوانی کے خلاف جلوس نکالا۔ بدھ کی رات کو پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپوں کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔

اردوغان نے بدھ کی شام صدر عبداللہ گل کے سامنے کابینہ کے نئے ارکان کے ناموں کی فہرست پیش کی۔

مستعفی ہونے والے وزرا میں یورپی امور کے وزیر ایگمن باگیس بھی شامل ہیں۔

ان پر بھی بدعنوانی میں ملوث ہونے کا الزام عائد کیا جاتا ہے، تاہم ان پر باضابطہ طور پر کوئی الزام عائد نہیں کیا گیا۔

اس سے قبل بیراکتار نے وزیرِ اعظم پر زور دیا کہ وہ بھی مستعفی ہو جائیں۔

انھوں نے کہا کہ زیرِ تفتیش تعمیراتی منصوبوں کی بڑی تعداد کو خود وزیرِاعظم نے منظور کیا تھا: ’میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ عزت مآب وزیرِ اعظم کو بھی مستعفی ہو جانا چاہیے۔‘

تاہم وزیرِ اعظم اردوغان نے پولیس کی تفتیش کو ’گندا کھیل‘ قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ یہ ان غیر ملکی اور ترک طاقتوں کی سازش ہے جو مارچ میں ہونے والے بلدیاتی انتخابات سے قبل حکومت کو بدنام کرنا چاہتے ہیں۔