ترکی: وزراء کے بیٹے بدعنوانی کے الزام میں گرفتار

اس سلسلے میں لوگوں کو حراست میں لینے کا آغاز منگل کو علی الصبح استنبول اور انقرہ میں چھاپے مارنے سے کیا گیا تھا
،تصویر کا کیپشناس سلسلے میں لوگوں کو حراست میں لینے کا آغاز منگل کو علی الصبح استنبول اور انقرہ میں چھاپے مارنے سے کیا گیا تھا

ترکی میں دو حکومتی وزرا کے بیٹوں کو حراست میں لیا گیا ہے جن پر بڑے پیمانے پر بدعنوانی کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔

اس کے علاوہ سرکاری حلک بینک کے سربراہ اور کم از کم ایک درجن مزید افراد کو بھی ان الزامات کا سامنا ہے۔

اس سلسلے میں لوگوں کو حراست میں لینے کا آغاز منگل کو علی الصبح استنبول اور انقرہ میں چھاپے مارنے سے کیا گیا تھا۔

جمعرات کو استنبول کے پولیس سربراہ کو اپنا عہدہ چھوڑنے کا کہا گیا جبکہ تیس سے زائد پولیس افسروں کو برطرف کر دیا گیا۔

بدعنوانی کے تحقیقات میں وزیرِاعظم رجب طیب اردوگان کے قریبی ساتھیوں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔

حراست میں لیے گئے افراد میں وزیرِ داخلہ معمر گولر کے بیٹے باریس گولر معیشت کے وزیر ظفر چھالیان کے بیٹے کان چھالیان سرکاری بینک حلک بینک کے سربراہ سلیمان آسلان بھی شامل ہیں۔

انھیں باقاعدہ طور پر سنیچر کی صبح حراست میں لیا گیا۔

ایک تیسرے وزیر اردوگان بائرکتر جو ماحولیات اور شہری منصوبہ بندی کے وزیر ہیں بیٹے ان افراد میں شامل ہیں جنھیں گھنٹوں پوچھ کچھ کے بعد رہا کیا گیا۔

جمعرات کو استنبول کے پولیس سربراہ کو اپنا عہدہ چھوڑنے کا کہا گیا
،تصویر کا کیپشنجمعرات کو استنبول کے پولیس سربراہ کو اپنا عہدہ چھوڑنے کا کہا گیا

ترکی میں تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ لوگوں کو حراست میں لینے اور برطرف کرنے کے اقدامات سے اندازہ ہوتا ہے کہ حکمران جماعت اے کے پارٹی کے اندر وزیرِاعظم طیب اردوگان کے حامیوں اور امریکہ میں جلاوطن مذہبی عالم فتح اللہ گولن کے حامیوں کے درمیان کشیدگی چل رہی ہے۔

کہا جاتا ہے کہ فتح اللہ گولن کے حزمت تحریک کے اراکین پولیس جیسے قومی اداروں، عدلیہ اور اے کے پارٹی میں اہم عہدوں پر فائز ہیں۔

اپوزیشن رہنما کمال کیلیک دارگلو نے وزیراعظم اردوگان پر اس سکینڈل کو چھپانے کا الزام عائد کیا ہے۔

ریپکن پیپلز پارٹی سے تعلق رکھنے والے اپوزیشن رہنما نے تحقیقات میں شامل وزرا کو معطل کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

یورپی یونین نے ترکی پر زور دیا ہے کہ وہ عدلیہ کی آزادی کو یقینی بنائے۔

یاد رہے کہ ترکی یورپی یونین میں شامل ہونے کا خواہاں ہے۔

یورپین یونین کے یورپی پڑوسیوں کے پالیسی کے کمیشنر سٹیفن فیول کے ایک ترجمان نے جمعرات کو ترکی میں ہونے والے واقعات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ’ان واقعات نے قدرتی طور پر ہمیں اپنی طرف متوجہ کیا ہے اور اس کا بغور دیکھ رہے ہیں۔‘