مشرقی یوکرین: جائے حادثہ سے 196 لاشیں برآمد

مبصرین کا کہنا ہے کہ جہاز تک رسائی پوری طرح سے باغیوں کے کنٹرول میں ہے

،تصویر کا ذریعہAP

،تصویر کا کیپشنمبصرین کا کہنا ہے کہ جہاز تک رسائی پوری طرح سے باغیوں کے کنٹرول میں ہے

مشرقی یوکرین میں امدادی کارکنوں کا کہنا ہے کہ ملائشیا ایئر لائن کے جہاز کی جائے حادثہ سے کُل 196 لاشیں برآمد کر لی گئی ہیں۔

واضح رہے کہ خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ ملائشیا ایئر لائن کے مسافر بردار جہاز کو میزائل مار کر گرایا گیا تھا جس میں 298 افراد سوار تھے۔

جس علاقے میں یہ یہ جہاز گرا وہ علاقہ روس کے حمایتی باغیوں کے کنٹرول میں ہے۔

اس سے قبل مغربی ممالک کا مطالبہ ہے کہ روس یوکرین میں باغیوں پر دباؤ ڈالے کہ وہ جمعرات کو گر کر تباہ ہو جانے والے ملائیشیا ایئرلائن کے طیارے کی جائے حادثہ تک مکمل رسائی فراہم کریں۔

ہالینڈ کے وزیراعظم مارک روٹ کا کہنا ہے کہ انھوں نے روسی صدر ولادمیر پوتن سے کہا ہے کہ اس بات کا وقت گزرتا جا رہا ہے کہ روس اس حوالے سے اپنی مدد کا مظاہرہ کر سکے۔

اس حادثے میں ہلاک ہونے والے زیادہ مسافروں کا تعلق ہالینڈ سے تھا۔

برطانیہ نے بھی روسی سفیر سے ایسا ہی مطالبہ کیا ہے۔

اطلاعات کے مطابق بین الاقوامی مبصرین کی نقل و حرکت روس حامی باغیوں نے محدود کر رکھی ہے۔

یوکرین اور روس حامی باغی دونوں ہی اس طیارے کو مار گرانے کا الزام ایک دوسرے پر عائد کر رہے ہیں۔

ادھر یوکرین کی حکومت نے الزام عائد کیا ہے کہ روسی نواز یوکرینی باغی ملائیشیا کے تباہ شدہ طیارے کی تباہی کے ’عالمی جرم‘ کے شواہد کو مٹا رہے ہیں۔

یوکرینی حکومت کا کہنا ہے کہ روسی حمایت یافتہ باغی دوسرے روز بھی بین الاقوامی مبصرین کی ٹیم کو تباہ شدہ طیارے ایچ 17 تک رسائی نہیں دے رہے ہیں۔

ملائیشیا کا مسافر بردار طیارہ جمعرات کو یوکرین کی فضائی حدور میں تباہ ہوگیا تھا۔

خیال کیا جاتا ہے کہ طیارہ زمین سے فضا میں مار کرنے والےمیزائل کی زد میں آ کر تباہ ہوا ہے۔

براک اوباما نے جمعے کو یوکرین میں فوری جنگی بندی کا مطالبہ کیا تاکہ وہاں طیارہ تباہ ہونے کے واقعے کی بین الاقوامی سطح پر تحقیقات ہوں

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنبراک اوباما نے جمعے کو یوکرین میں فوری جنگی بندی کا مطالبہ کیا تاکہ وہاں طیارہ تباہ ہونے کے واقعے کی بین الاقوامی سطح پر تحقیقات ہوں

یوکرین کی حکومت نے ایک بیان میں کہا ہے کہ روسی نواز باغیوں نے 38 لاشوں کو باغی کے کنٹرول والے علاقے ڈونیسک کے مردہ خانے لے کر گئے ہیں۔

یوکرینی حکومت نے الزام عائد کیا ہے کہ روسی نواز باغی طیارے کے ملبے کو روس لیجانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

یوکرین نے کہا ہے کہ باغی او ایس سی ای کے ٹیم دوسرے روز بھی طیارہ کے ملبے تک پہنچے کی اجازت نہیں دے رہے ہیں۔

25 ارکان پر مشتمل مبصروں کی ٹیم پہلے روز صرف ایک گھنٹے میں واپس آ گئی تھی۔

ملائشیا کی پرواز ایم ایچ 17 نیدرلینڈز کے شہر ایمسٹرڈیم سے کوالالمپور جا رہی تھی اور تباہ ہونے سے قبل روسی سرحد میں داخل ہونے والی تھی۔ یہ بوئنگ 777 جہاز لوہانسک کے علاقے کراسنی اور دونیتسک کے علاقے کے درمیان گر کر تباہ ہوا اور اس پر سوار تمام 298 افراد ہلاک ہو گئے۔

امریکی صدر براک اوباما نے کہا ہے کہ یوکرین میں تباہ ہونے والے ملائشیا ائیر لائنز کے طیارے ایم ایچ 17 کو یوکرین میں باغیوں کے زیرِ قبضہ علاقے میں زمین سے فضا میں مار کرنے والے میزائل سے نشانہ بنایا گیا۔

صدر اوباما نے جمعے کو کہا کہ یوکرین میں روس نواز باغیوں کو روس کی طرف سے طیارہ شکن ہتھیاروں سمیت مسلسل دیگر امداد ملتی رہی ہے۔

امدادی کارکنوں نے جمعے کو کئی کلومیٹر پر پھیلے ہوئے طیارے کے ملبے کی تلاش کے دوران طیارہ کا بلیک باکس ڈھونڈ نکالا ہے

،تصویر کا ذریعہAP

،تصویر کا کیپشنامدادی کارکنوں نے جمعے کو کئی کلومیٹر پر پھیلے ہوئے طیارے کے ملبے کی تلاش کے دوران طیارہ کا بلیک باکس ڈھونڈ نکالا ہے

یوکرین نے اس علاقے کو ’نو فلائی زون‘ قرار دے دیا ہے جبکہ دیگر ایئرلائنوں نے اعلان کیا ہے کہ ان کی پروازیں مشرقی یوکرین کے فضائی راستے سے ہو کر نہیں جائیں گی۔

یاد رہے کہ جمعرات کی شب ملائشیا کا ایک مسافر بردار طیارہ مشرقی یوکرین میں باغیوں کے زیرِ قبضہ علاقے میں گر کر تباہ ہو گیا تھا جس میں 295 افراد سوار تھے۔ خدشہ ہے کہ طیارے کو مار گرایا گیا ہے۔

ملائشیا ایئر لائنز کی جانب سے جاری کردہ حالیہ اعداد و شمار کے مطابق طیارے پر 192 ولندیزی، 27 آسٹریلوی، 44 ملائیشیائی (جن میں 15 عملے کے ارکان بھی شامل ہیں)، 12 انڈونیشیائی اور 10 برطانوی مسافر سوار تھے۔ دیگر مسافروں کا تعلق جرمنی، بیلجیئم، فلپائن اور کینیڈا سے تھے۔