مکہ میں لاکھوں ریال کا کھانا ضائع

،تصویر کا ذریعہAFP
سعودی عرب کے مقدس شہر مکہ کی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ یہاں پر رمضان میں بڑے پیمانے پر کھانا ضائع ہو جاتا ہے۔
مکہ سٹی کونسل کے افسر اسامہ القاعدہ ذیتوني نے عرب نیوز کو بتایا ہے کہ رمضان کے ابتدائی تین دنوں میں جمع ہونے والے پانچ ہزار ٹن کوڑے کو صاف کر دیا گیا ہے اور ان دنوں میں ذبح کی جانے والی 28 ہزار بھیڑوں کی باقیات کی صفائی کر دی گئی ہے۔
مقدس شہر مکہ میں شہر کی انتظامیہ کی طرف سے مرکزی مسجد کے پاس 45 کوڑے دان لگائے گئے ہیں اور گندگی سے نمٹنے کے لیے صفائی کے عملے کے آٹھ ہزار مزدوروں کو تعینات کیا گیا ہے۔
کنگ سعود یونیورسٹی کی ایک تحقیق کے مطابق دنیا میں سب سے زیادہ کھانے کی بربادی سعودی عرب میں ہوتی ہے۔

یہاں رمضان کے دوران تیار ہونے والے مجموعی کھانے کا 30 فیصد حصہ پھینک دیا جاتا ہے جس کی قیمت تقریباً 12 لاکھ ریال (تقریباً ایک کروڑ 91 لاکھ روپے) ہوتی ہے۔
حکومت کی اپیل
ماہر ین کھانے کی بربادی کے لیے رمضان کی روایت کو بھی ذمہ دار قرار دیتے ہیں۔
رمضان میں کافی کھانا خریدنے، بچے ہوئے کھانے کا استعمال نہ کرنے، ہر روز تازہ کھانا پکانے اور غریبوں کو زیادہ عطیہ دینے کا رواج عام ہے۔

سعودی عرب کی حکومت نے لوگوں کو کم مقدار میں کھانا پکانے کی اپیل کی ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
حکومت بچے ہوئے کھانے اور فضلے کے بہتر استعمال کے لیے ایک کھاد فیکٹری بنوا رہی ہے۔
کھانے کی بربادی کے معاملے میں سعودی عرب اکیلا نہیں ہے، بلکہ مشرقِ وسطیٰ میں ماحولیات کے ماہرگروپ ’ایكومنا‘ کے مطابق قطر میں رمضان کے دوران تیار ہونے والے کھانے کا ایک چوتھائی حصہ پھینک دیا جاتا ہے۔







