’ہم دوسروں کی بات کیوں مانیں؟ سوئیاں الٹی چلیں گی‘

یہ گھڑی بوليويا کی پارلیمنٹ کی عمارت کے باہر لگی ہے

،تصویر کا ذریعہAP

،تصویر کا کیپشنیہ گھڑی بوليويا کی پارلیمنٹ کی عمارت کے باہر لگی ہے

جنوبی امریکی ملک بولیویا کے ایک شہر میں ایک گھڑی کے نمبروں کی ترتیب الٹ دی گئی ہے اور اسے جنوبی گھڑی کا نام دیا گیا ہے۔

یہ گھڑی لا پاز شہر میں واقع بوليويا کی پارلیمنٹ کی عمارت کے باہر لگی ہے۔

اس گھڑی کے نہ صرف ہندسوں کی ترتیب الٹ دی گئی ہے بلکہ گھڑی کی سوئیاں بھی عام گھڑیوں کے برعکس بائیں طرف سے دائیں جانب گھومتی ہیں۔

بولیویا کے وزیر خارجہ ڈیوڈ چوکیہاسا نے اس گھڑی کو ’جنوب کی گھڑی‘ کا نام دیا ہے۔

انھوں نے کہا کہ گھڑی میں یہ تبدیلی بولیویا کے شہریوں کو اپنی ثقافتی ورثے کو محفوظ کرنے کا احساس کرنے کے لیے کی گئی ہے۔

اس تبدیلی کے ذریعے عام شہریوں کو یہ پیغام دیا گیا ہے کہ وہ پہلے سے قائم عقائد کو چیلنج کر سکتے ہیں اور نئے تخلیقی طریقے سے سوچ سکتے ہیں۔

ایک نیوز کانفرنس کے دوران وزیر خارجہ ڈیوڈ چوکیہاسا نے کہا: ’کون کہتا ہے کہ گھڑی کی سوئیوں کو ایک ہی سمت میں چلنا ہوگا؟ ہم ہمیشہ دوسروں کی بات کیوں مانیں؟ ہم نئے طریقے سے کیوں نہیں سوچ سکتے؟‘

انھوں نے کہا ’ہمیں چیزوں کو پیچیدہ نہیں بنانا ہے، ہمیں بس اتنا یاد رکھنا ہے کہ ہم شمالی نہیں بلکہ جنوبی امریکہ میں رہتے ہیں۔‘

انھوں نے صحافیوں کو یہ بھی بتایا کہ ابھی حال ہی میں بولیویا کے شہر سانتا کروز میں ہونے والی جی 77 کی میٹنگ میں آنے والے مختلف ممالک کے وفد کو ایسی ہی ٹیبل گھڑیاں دی گئیں تھیں جن میں گھڑی کی سوئیاں بائیں جانب گھومتی ہوں۔

وفد کو جو گھڑیاں دی گئی تھیں ان کی شکل بولیویا کے نقشے جیسی تھی۔ اس نقشے میں اس متنازع علاقے کو بھی بولیویا کا حصہ دکھایا گیا تھا جس پر اس کا دعویٰ ہے۔

ایک سوال کے جواب میں وزیر خارجہ نے بتایا کہ اس گھڑی کو عوام پر زبردستی مسلط نہیں کیا جائے گا۔

انھوں نے کہا: ’اگر آپ جنوب کی گھڑی خریدنا چاہتے ہیں تو خريدیے۔ اگر آپ پرانی گھڑی پہننا چاہتے ہیں تو پہنتے رہیے۔‘