دنیا کے طاقت پکڑتے جہادی گروہ

،تصویر کا ذریعہAFP
- مصنف, فرینک گارڈنر
- عہدہ, نامہ نگار برائے سکیورٹی امور، بی بی سی نیوز
گیارہ ستمبر کو نیویارک میں ہونے والے القاعدہ کے حملے کو 13 سال گزر چکے ہیں مگر القاعدہ، اس کے حامی اور دوسرے جہادی گروہ آج بھی فعال ہیں۔
سوال ہے کہ یہ جہادی گروہ کون ہیں؟
دوسرا سوال یہ ہے کہ کئی ممالک کی مسلسل اجتماعی کوششوں کے باوجود ان کی طاقت کم کیوں نہیں ہو رہی؟
1989 میں افغانستان سے سوویت یونین کے انخلا کے بعد اسامہ بن لادن نے عبداللہ اعظم کے ساتھ مل کر ’القاعدہ‘ نام کی ایک تنظیم بنائی۔ مگر آج القاعدہ کی اصل شکل باقی نہیں بچی ہے۔
اسامہ بن لادن کو پاکستان میں 2011 میں ڈھونڈ کر ہلاک کر دیا گیا اور ان کے وارث ایک عام شخصیت کے مالک ايمن الظواہری بنے جو ایک زمانے میں مصر میں ایک سرجن کے طور پر کام کرتے تھے اور ان دنوں مفرور ہیں۔ ان کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ کبھی کبھار آن لائن اپنا بیان جاری کرتے رہتے ہیں۔
ايمن الظواہری سے جہادیوں کی شکایت ہے کہ وہ تیزی سے موجودہ واقعات کے مقابلے میں غیر متعلقہ ہوتے جا رہے ہیں۔
حکمت عملی

،تصویر کا ذریعہReuters
گزشتہ ایک دہائی میں القاعدہ کے سابق سربراہ اور کمانڈر بڑی تعداد میں یا تو حراست میں لے لیے گئے یا مار دیے گئے۔ کئی کی موت متنازعہ ڈرون حملے میں ہوئی۔
اصل القاعدہ کے باقی ارکان کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ وہ سال 2001 میں افغانستان سے بھاگ کر پاکستان کے قبائلی علاقوں میں بس گئے تھے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
مگر دنیا میں شدت پسندوں کا مقابلہ کرنے والوں کے پاس خوشی منانے کی کوئی خاص وجہ نہیں بچا ہے۔
انہوں نے القاعدہ کو مکمل طور پر تباہ کرنے کی بجائے ان میں پھوٹ ڈالنے اور انہیں تتر بتر کرنے کی حکمت عملی اختیار کی۔
اس کا اثر یہ ہوا کہ القاعدہ مشرق وسطیٰ، افریقہ اور ایشیا میں بہت سی مختلف تنظیموں کی شکل میں نمودار ہونا شروع ہو گئی جبکہ یورپ میں بھی جہادی حامی بڑی تعداد میں موجود ہیں۔
نتیجہ یہ کہ حملے مسلسل جاری ہیں، بھلے ہی وہ حملے گیارہ ستمبر جتنے تباہ کن نا ہوں۔
چیلنج

،تصویر کا ذریعہAFP
ایسے میں یہ جاننا اہم ہے کہ عالمی سطح پر جہادیوں کے اتحاد اور طاقت کا کیا راز ہے؟
کچھ ایسے عوامل ہیں جو بتاتے ہیں کہ کیوں القاعدہ کی پوزیشن دنیا کے ممالک میں آج بھی کمزور نہیں ہوئی۔
صحرائے سہارا سے لے کر جنوبی فلپائن تک کئی مقامی اور علاقائی بحران ہیں جن کی وجہ سے جہادی تنظیموں کی طاقت برقرار ہے۔
مثال کے طور پر نائجیریا میں بوکو حرام نے شمالی نائجیریا میں مسلمانوں کے حقوق کو فروغ دینے کے لیے بڑے پیمانے پر سیاسی اور مذہبی تحریک شروع کی، جو سال 2009 کے بعد پرتشدد ہو گئی۔
یمن میں، جزیرہ نما عرب میں القاعدہ نے 2011 کے دوران اٹھنے والی احتجاجی تحریکوں کے نتیجے میں پیدا شدہ بدامنی اور سیکورٹی بحران کا فائدہ اٹھانے میں کامیابی حاصل کی۔
عدم اطمینان

،تصویر کا ذریعہReuters
شدت پسندی کو فروغ دینے والے سب سے اہم عوامل میں سے ایک ہے خراب انتظامیہ اور اس کے اوپر عوام کا عدم اطمینان۔
مسلم اکثریت والے ممالک میں حکومت اور ان کی سیکورٹی فورسز کو بدعنوان، تشدد اور بدسلوکی سے جوڑا جاتا رہا ہے۔ ان حالات میں جہادیوں کے حامیوں کی تعداد میں اضافہ ہونا فطری ہے۔
اور یہ مسئلہ جہادیوں کی حمایت میں لوگوں کو آگے لانے کا پھر سے ایک اہم عنصر بنا۔
پاکستان اور یمن میں کئی امریکی ڈرون حملے کیے گئے۔ اس میں بڑی تعداد میں جہادیوں کے لیے منصوبہ بندی کرنے والے ہلاک ہو گئے۔ ان حملوں میں خواتین اور بچوں سمیت کئی شہریوں کی بھی موت ہوئی۔ اس کی وجہ سے بھی عوام میں حکومت کے خلاف عدم اطمینان پیدا ہوا۔
ذاتی مسئلہ

،تصویر کا ذریعہ
اب عراق جہادیوں کے نشانے پر ہے۔ عرب دنیا کے زیادہ تر لوگ اسے علاقے کے مسائل کے حل کے طور پر ایک مثال کے طور پر دیکھنے لگے ہیں۔
شدت پسندوں کے نتیجے میں کئی لوگ ان تنظیموں سے تب منسلک ہوئے جب انہیں لگا کہ ان کے مذہب کے خلاف امتیازی سلوک اور توہین آمیز پالیسی اپنائی جا رہی ہے۔
القاعدہ کے بہت سے کٹر حامی ایسے نوجوان ہیں، جو مغرب کے نفرت بھرے نظریے کا شکار ہیں۔ وہ القاعدہ کو ایک رول ماڈل کی طرح دیکھتے ہیں۔
یورپ کے کچھ جہادی یا تو نومسلم ہیں یا کم عمر اور غیر سنجیدہ نوجوان جن کا بچپن اور جوانی پولیس کی نظروں سے بچتے اور امنِ عامہ کے مسائل کے ذمہ دار کے طور پر گزری۔
دوسری طرف جیل میں آتے جاتے ان کے نظریات باہر نکلنے کے بعد ہر بار زیادہ کٹر ہوتے گئے اور تقریباً تمام کا سرکار اور اس کے اختیارات کے بارے میں ایک منفی نظریہ ہے۔







