’میری تصویر یاد رکھیے گا‘

بغداد میں اپنے گھر سے باہر کی ایک تصویر الہام نے دہلی میں بی بی سی کو روانہ کی تھی

،تصویر کا ذریعہILHAM

،تصویر کا کیپشنبغداد میں اپنے گھر سے باہر کی ایک تصویر الہام نے دہلی میں بی بی سی کو روانہ کی تھی
    • مصنف, زبیر احمد
    • عہدہ, بی بی سی نیوز، دہلی

عراقی دارالحکومت بغداد میں رہنے والے ولید ابوبکر کے اہل خانہ کو امید نہیں کہ اس بار وہ زندہ بچ پائیں گے۔

اگر وہ بغداد کے ایک متوسط سنی علاقے میں اپنا گھر بار چھوڑ کر محفوظ ٹھکانے کی تلاش میں نکلتے بھی ہیں تو انھیں امید نہیں کہ وہ کہیں پہنچ پائیں گے یا نہیں۔ فوجی بکتر بند گاڑیوں کی شکل میں گھر کے باہر موت کھڑی ہے اور گھر میں راشن، پانی، بجلی اور انٹرنیٹ جیسی سہولیات ختم ہونے کو ہیں۔

ولید کو صرف ایک فکر ہے کہ ان کا جو ہو سو ہو، ان کی بیٹیاں خیریت سے رہیں۔

بار بار ٹوٹتے اور جڑتے وائی فائي انٹرنیٹ کنکشن کے ذریعے ان کی بیٹیوں نے مجھے ایک تصویر بھیجی ہے۔ یہ تصویر ہے ایک فوجی بکتر بند گاڑی کی۔ اور اس کے ساتھ ہی امید و بیم کے کچھ الفاظ رقم ہیں جن کا مطلب یہ ہے کہ ’میری تصویر یاد ركھیےگا، ہم نہیں بچیں گے۔‘

یہ بغداد میں ابوبکر جیسے ہزاروں خاندانوں کا سچ ہے، جنھیں اپنے اہل خانہ کے تحفظ کی فکر کھائے جا رہی ہے۔ عراق میں سنی شدت پسند اور شیعہ اکثریتی فوج کے درمیان جاری تشدد کی وجہ سے ہزاروں لوگوں کی جانیں مشکل میں ہیں۔

خوف اور بے یقینی کے ماحول میں انھیں کچھ نظر نہیں آ رہا۔

ولید جیسے بہت سے خاندانوں کو خود سے زیادہ اپنی بیٹیوں کی فکر ہے

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنولید جیسے بہت سے خاندانوں کو خود سے زیادہ اپنی بیٹیوں کی فکر ہے

ولید عراقی وزارت خزانہ میں کام کرتے ہیں۔ ان کی تین بیٹیاں ہیں جن کے بہتر مستقبل کی امید کے بارے میں وہ فخر سے بتاتے ہیں: ’مجھے اور میری بیوی کو موت کا ڈر نہیں لیکن ہم اپنی بیٹیوں کی حفاظت اور مستقبل کے متعلق فکر مند ہیں۔ ان کا کیا قصور ہے؟ وہ نوجوان ہیں۔ دوسرے ممالک کے نوجوانوں کی طرح ان کے بھی اپنے خواب اور خواہشات ہیں۔‘

ولید اور ان کے خاندان کو میں گذشتہ کچھ عرصے سے جانتا ہوں۔ ولید کو بھارت سے محبت ہے اور وہ یہاں کئی بار آ چکے ہیں۔ انھوں نے ایک بار مجھ سے کہا تھا: ’مجھے مسالے دار بھارتی کھانے اچھے لگتے ہیں۔‘

میں ان سے کبھی کبھی بات کرلیا کرتا تھا لیکن گذشتہ ہفتے جس دن سے سنی شدت پسندوں نے موصل اور تکریت شہر پر قبضہ کیا ہے، تب سے میں ان سے مسلسل رابطے میں ہوں۔ ہمیشہ یہی فکر رہتی ہے کہ اگر شدت پسند بغداد میں گھس آئے، تو ولید کے خاندان کا کیا ہوگا؟

ولید کی سب سے بڑی بیٹی الہام 25 سال کی ہیں۔ وہ انتہائی باصلاحیت، شوخ اور چنچل لڑکی ہیں۔ اگرچہ وہ جنگ کے ماحول میں بڑی ہوئی ہیں، لیکن اس کا ان کی شخصیت پر کوئی اثر نظر نہیں آتا۔

شدت پسند تنظیم داعش کے جنگجو بغداد کی جانب بڑھ رہے ہیں

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنشدت پسند تنظیم داعش کے جنگجو بغداد کی جانب بڑھ رہے ہیں

ہر چند کہ الہام نے سنہ 2003 میں امریکی حملوں کے دوران یا پھر شیعوں اور سنیوں کے درمیان 2007 کے تشدد کے دوران اموات قریب سے دیکھی ہیں تاہم اس بار ان کا اعتماد بھی متزلزل ہے۔ وہ انتہائی خوفزدہ ہیں۔

شدت پسندوں کے بغداد کے نزدیک پہنچنے کی خبر کے بعد انھوں نے بی بی سی کو بتایا: ’میری امیدیں اب معدوم ہوتی جا رہی ہیں، خوفناک حملوں کا خوف غالب ہے۔‘

الہام کو خدشہ ہے کہ اگر سنّی شدت پسند بغداد پہنچ جاتے ہیں، تو عراقی فوج کے شیعہ جوان اس کا بدلہ لینے کے لیے سنیوں کو نشانہ بنائیں گے۔

ایک ہی دن پہلے انھوں نے مسلح فوجیوں سے بھری گاڑیاں اپنے گھر سے باہر دیکھی تھیں جس کی تصویر کھینچ کر مجھے بھیجتے ہوئے کہا کہ ’ہماری سلامتی کے لیے دعا کیجیے۔‘

الہام کی دو چھوٹی بہنوں نے سکول جانا بند کر دیا ہے۔ ولید کو ڈر ہے کہ ان کی بیٹیوں کو اغوا کیا جا سکتا ہے۔ ولید نے بی بی سی سے کہا: ’گھر سے باہر نکلنا مصیبت کو دعوت دینا ہے۔‘

ایسے میں ولید کا پورا خاندان گھر میں ہی قید ہو کر رہ گیا ہے۔ گھر سے باہر کی دنیا سے ان کا رابطہ صرف انٹرنیٹ کے ذریعے ہی رہ گیا ہے۔ انٹرنیٹ بھی ٹھیک طورسے کام نہیں کرتا اور بجلی کی فراہمی بھی متاثر ہو رہی ہے۔

اطلاعات کے مطابق بغداد میں اشیا کی قیمت میں اچانک اضافہ ہو گیا ہے اور شدت پسندوں کے حملے کے پیش نظر دولت مند افراد ذخیرہ اندوزی کر رہے ہیں

،تصویر کا ذریعہGetty

،تصویر کا کیپشناطلاعات کے مطابق بغداد میں اشیا کی قیمت میں اچانک اضافہ ہو گیا ہے اور شدت پسندوں کے حملے کے پیش نظر دولت مند افراد ذخیرہ اندوزی کر رہے ہیں

موجودہ بحران کے وقت عراق کا سماج دو حصوں میں منقسم ہے: شیعہ اور سنی۔ الہام کہتی ہیں کہ ’اس کی امید محض ایک فیصد ہے کہ دونوں فرقوں کے لوگ آپس میں پھر سے دوست بن پائیں گے۔‘

ولید جیسے سینکڑوں عراقی خاندان اب قسمت کے رحم و کرم پر ہیں۔ ولید نے بتایا ہے کہ ان کے گھر میں دو ہفتے کا راشن پانی ہے۔ اگر حالات بگڑے تو کیا ہوگا، انھیں اس کا کوئی علم نہیں۔

وہ بات کر ہی رہے تھے کہ ان کی بیٹی الہام نے درمیان میں ان سے فون لیتے ہوئے کہا: ’میں نے تصویر بھیج دی ہے۔ اسے یادگار کے طور پر ركھیے گا۔ اس بار ہم لوگ نہیں بچیں گے۔‘