عراقی غذائی اجناس جمع کرنے میں مصروف

،تصویر کا ذریعہGetty
عراق کے دارالحکومت بغداد کے شہری غلہ پانی کی ذخیرہ اندوزی میں مصروف ہیں کیونکہ اسلام پسند جنگجو شہر کے مزید قریب آ گئے ہیں۔
سُنی شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ عراق و شام (<link type="page"><caption> داعش</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/world/2014/06/140612_isis_profile_fz.shtml" platform="highweb"/></link>) اور سکیورٹی فورسز کے درمیان دارالحکومت سے 60 کلومیٹر کے فاصلے پر بعقوبہ کے مقام پر جنگ جاری ہے جہاں شیعہ جنگجوؤں نے سکیورٹی فورسز کے ہمراہ مل کر انھیں پسپا کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔
نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ دارالحکومت بغداد کے شہری فکرمند ہیں کیونکہ حملہ آور شمال اور مغرب کی جانب سے اس کی طرف بڑھ رہے ہیں۔
واضح رہے کہ جنگجوؤں نے گذشتہ کئی ہفتوں کے دوران عراق کے بعض اہم شہروں پر قبضہ کر لیا ہے۔
برطانوی وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرن بدھ کو اپنے سینیئر سکیورٹی مشیروں سے اس بحران کے متعلق بات کرنے والے ہیں۔ انھوں نے خبردار کیا ہے کہ داعش ’ہمارے ملک کے لیے حقیقی خطرات‘ کی نمائندگی کرتی ہے۔
دوسری جانب امریکی صدر براک اوباما بدھ کو کانگریس کے بڑے رہنماؤں کو عراق کی تازہ ترین صورت حال سے آگاہ کریں گے۔

،تصویر کا ذریعہReuters
امریکی حکام نے خبررساں ادارے اے پی کو بتایا ہے کہ امریکہ عراق میں سکیورٹی فورسز کی تربیت کے لیے مختصر پیمانے پر سپیشل فورسز کی چھوٹی چھوٹی کارروائیوں کے بارے میں غور کر رہا ہے۔
اس سے قبل عراقی صدر نوری المالکی نے اسلام پسند سنی باغیوں کو روکنے میں ناکامی پر کئی سینیئر اہلکاروں کو برطرف کر دیا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ایک سرکاری بیان میں کہا گیا ہے کہ چار فوجی کمانڈروں کو قومی فریضے کی انجام دہی میں ناکامی کی پاداش میں برطرف کر دیا گيا ہے۔
برطرف کیے جانے والے فوجی افسروں میں نینوا صوبے کے کمانڈر بھی شامل ہیں۔ نینوا پہلا صوبہ ہے جہاں داعش کے جنگجوؤں نے بڑی کامیابیاں حاصل کی تھیں۔
سرکاری بیان کے مطابق میدانِ جنگ میں اپنی پوزیشن چھوڑنے کے الزام میں ایک اور سینیئر فوجی افسر کو ان کی غیر موجودگی میں کورٹ مارشل کیا جائے گا۔
بیان میں معمول کے خلاف سخت زبان کا استعمال کرتے ہوئے سعودی عرب پر داعش کی پشت پناہی کا الزام لگایا گیا ہے۔ واضح رہے کہ سعودی عرب میں زیادہ تر سنی مسلمان رہتے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہAP
نمائندوں کا کہنا ہے کہ عراق کے شیعہ علاقوں میں روزانہ دھماکے ہو رہے ہیں جبکہ بغداد کے لوگوں میں ذہنی طور پر محصور ہونے کی کیفیت پیدا ہو گئی ہے۔
دولت مند افراد نے ضروری اشیائے خوردنی کی ذخیرہ اندوزی شروع کر دی ہے جس کی وجہ سے قیمتوں میں زبردست اضافہ ہو گیا ہے۔ تاہم حکومت کا کہنا ہے کہ بغداد میں اشیائے خوردنی کی کمی نہیں اور یہ کہ باغی بغداد پر قبضہ نہیں کر سکیں گے۔
دوسری جانب منگل کی شام نوری المالکی اور ان کی حکومت کے سینيئر شیعہ رہنماؤں کے ساتھ سنّی رہنماؤں نے بھی ’قومی اتحاد‘ کی اپیل کی ہے۔
انھوں نے عراقیوں سے فرقہ وارانہ مخاصمت سے بچنے کی اپیل کی ہے۔

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
بغداد میں بی بی سی کے نامہ نگار جان سمپسن کہنا ہے کہ بہت سے سنّی بطور خاص قدامت پرست، جو آٹھ سال قبل القاعدہ کے خلاف ہو گئے تھے اور جن کی وجہ سے امریکی فوج کو عراق چھوڑنے پر مجبور ہونا پڑا تھا، اس بات سے قطعی خوش نہیں ہیں کہ ان کے شہروں اور قصبوں پر داعش کے لوگوں کا قبضہ ہو۔
تاہم ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ شیعہ رضاکاروں کی جانب سے جوابی کارروائیوں میں عام سنّیوں کو نشانہ بنائے جانے کے نتیجے میں یہ خطرہ ہے کہ کہیں وہ یہ محسوس نہ کرنے لگیں کہ داعش ہی واحد گروپ ہے جو انھیں تحفظ فراہم کر سکتا ہے۔
گذشتہ ہفتے داعش کے جنگجوؤں نے موصل اور تکریت سمیت کئی دوسرے قصبوں پر قبضہ کر لیا تھا، مگر عراقی فوج کا دعویٰ ہے کہ اس نے کئی قصبے جنگجوؤں کے قبضے سے آزاد کروا لیے ہیں۔







