’آئی ایس آئی ایس یا داعش‘ کس کا نام ہے

دولتِ اسلامیہ فی عراق والشام (آئی ایس آئی ایس) ایک جہادی گروہ کا نام ہے جو عراق اور شام میں سرگرمِ عمل ہے۔
یہ تنظیم اپریل سنہ 2013 میں عراق میں القاعدہ سے وجود میں آئی۔
القاعدہ سے علیحدہ ہونے کے بعد یہ ایک بڑا جہادی گروپ بن کر سامنے آیا ہے جو شام میں سرکاری فوجوں کے خلاف برسرپیکار ہے اور عراق میں بھی سرکاری فوجوں کے مقابلے میں پیش قدمی کرتا جا رہا ہے۔
اس کی اصل افرادی قوت کے بارے میں کچھ نہیں کہا جاسکتا لیکن خیال کیا جاتا ہے کہ یہ ہزاروں جنگجوؤں پر مشتمل ہے جن میں بہت سے غیر ملکی جہادی بھی شامل ہیں۔ نامہ نگاروں کے مطابق یہ القاعدہ کو پیچھے چھوڑ کر دنیا کا سب سے خطرناک گروپ بنتا جا رہا ہے۔
اس تنظیم کی سربراہی ابوبکر بغدادی کر رہے ہیں۔ ان کے بارے ابھی بہت کم معلومات عام ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ وہ بغداد کے شمالی علاقے سامرا میں1971 میں پیدا ہوئے اور سنہ 2003 میں امریکی حملے کے خلاف شروع ہونے والی مزاحمت میں شامل ہوئے۔
عراق کی وزارتِ داخلہ نے حال ہی میں ان کی ایک تصویر جاری کی ہے۔
سنہ 2010 میں وہ عراقی القاعدہ کے سرکردہ رہنما کے طور پر سامنے آئے اور بعد میں اس گروپ نے آئی ایس آئی ایس کا نام اختیار کر لیا۔

،تصویر کا ذریعہAFP
بغدادی میدان جنگ کے سالار اور منصوبہ ساز سمجھے جاتے ہیں اور مبصرین کے خیال میں یہ بات انھیں اور آئی ایس آئی ایس کو ایمن الظواہری اور القاعدہ کے مقابلے میں نوجوانوں کے لیے زیادہ پرکشش بناتی ہے۔ واضح رہے کہ ایمن الظواہری ایک عالم ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
لندن کے کنگز کالج کے پروفیسر نیومین کا کہنا ہے کہ مغربی ملکوں سے شام کی جنگ میں شریک ہونے والے 80 فیصد جنگجو اس گروپ میں شامل ہیں۔
آئی ایس آئی ایس کا دعویٰ ہے کہ ان کی صفوں میں برطانیہ، فرانس، جرمنی اور دیگر مغربی ملکوں کے علاوہ امریکہ، عرب دنیا اور کوہ قاف سے تعلق رکھنے والے جنگجو بھی ہیں۔
شام میں دیگر باغی گروپوں کے برعکس آئی ایس آئی ایس عراق اور شام کے حصوں پر مشتمل ایک علیحدہ آزاد ریاست قائم کرنا چاہتا ہے۔
اس گروپ نے قابل ذکر فوجی کامیابیاں حاصل کی ہیں۔ اس نے مارچ سنہ 2013 میں شام کے شہر رقہ پر قبضہ کر لیا تھا۔ باغیوں کے ہاتھوں میں جانے والا یہ پہلا صوبائی مرکزی شہر تھا۔
جنوری سنہ 2014 میں اس نے عراق میں شیعہ حکومت اور سنی آبادی کے درمیان کشیدگی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے انبار کے صوبے میں واقع فلوجہ شہر کا کنٹرول حاصل کر لیا۔
اس نے صوبائی دارالحکومت رمادی کے بڑے حصہ پر بھی قبضہ کر لیا اور شام اور ترکی کی سرحد کے قریب واقع کئی علاقوں میں اپنا اثر بڑھا لیا۔
اپنے زیر اثر علاقوں میں اس کی ساکھ ایک انتہائی جابر قوت کے طور پر بن چکی ہے۔ اس ماہ موصل کے شہر پر اس کے قبضوں کی خبروں نے دنیا کو ہلا کر رکھ دیا۔
امریکہ کا کہنا ہے کہ عراق کے دوسرے بڑے شہر پر اس کے قبضے سے پورے خطے کو خطرات لاحق ہو گئے ہیں۔
یہ گروہ شام میں دیگر جہادی گروپوں مثلاً النصار فرنٹ (جو القاعدہ سے منسلک گروہ ہے) سے علیحدہ ہو کر سرگرم ہے اور اس کے ان گروپوں سے تعلقات بھی کشیدہ ہیں۔
بغدادی نے النصار کے ساتھ اپنی تنظیم کا ادغام کرنے کی کوشش کی تھی لیکن یہ کام نہ ہو سکا جس کے بعد سے دونوں گروپ علیحدہ علیحدہ کارروائیاں کر رہے ہیں۔
ایمن الظواہری نے آئی ایس آئی ایس سے کہا تھا کہ وہ شام کو چھوڑ کر اپنی کارروائیاں عراق تک محدود رکھیں لیکن بغدادی اور اس کے جنگجوؤں نے القاعدہ کے سربراہ کی نافرمانی کرتے ہوئے شام میں بھی کارروائیاں جاری رکھیں۔
شام میں رفتہ رفتہ دونوں گروپوں کے درمیان اختلافات میں اضافہ ہوتا چلا گیا اور باغی گروہوں کے درمیان باہمی لڑائیاں بھی ہوتی رہیں۔
اس برس جولائی میں مغرب کے حمایت یافتہ اور اسلامی گروپوں نے مل کر آئی ایس آئی ایس کے خلاف یلغار کی تھی تاکہ انھیں شام سے نکالا جا سکے۔ اس لڑائی میں ہزاروں افراد مارے گئے تھے۔







