واشنگٹن ڈائری

،تصویر کا ذریعہAFP
- مصنف, برجیش اپادھیائے
- عہدہ, بی بی سی اردو، واشنگٹن
برازیل میں ورلڈ کپ فٹبال کے فائنل میں بھارت اور پاکستان کی ٹیمیں مدِ مقابل ہیں۔ سٹیڈیم کھچا کھچ بھرا ہوا ہے۔ تین ارب سے زائد لوگ دم سادھے بیٹھے ہیں۔
امریکہ اور انگلینڈ کے شراب خانوں میں 80-70 انچ والے ٹیلی ویژن پر دونوں ٹیموں کے نامی کھلاڑیوں کی تصاویر کے ساتھ ان کے کھیل پر تجزیہ ہو رہا ہے۔
خوبصورت حسینائیں بھارت اور پاکستان کے کھلاڑیوں کو دیکھ کر آہیں بھر رہی ہیں۔ ’ہمارے کھلاڑی اتنے خوبصورت کیوں نہیں ہوتے۔ دیکھو کیا داڑھی ہے، کیا مونچھیں ہیں۔ ان پتلی ٹانگوں اور موٹی توند پر کون نہ مر جائے۔‘
کھیل بس شروع ہونے کو ہے۔
عجیب میزبان ملک ہے برازیل بھی۔ آج تک ورلڈ کپ میں کبھی كواليفائي بھی نہیں کر پایا لیکن پورا ملک صرف کھیل دیکھنے کو پاگل ہے۔ دور دراز ممالک کے لیے ایسی فین فولوؤنگ؟
بھارت اور پاکستان کے پرچم والی ساری ٹي شرٹز فروخت ہو چکی ہیں۔ لوگ دفاتر اور گھروں میں بھی بھارت اور پاکستان کی وہی ٹی شرٹز پہن رہے ہیں۔ اب یہ ٹی شرٹز بلیک میں فروخت ہو رہی ہیں۔ برازیل کی خوبصورت لڑکیوں نے بھارت اور پاکستان کے کھلاڑیوں کے نام کے ٹیٹو کروا رکھے ہیں۔
پڑوس کے ملک ارجنٹائن سے بھی لوگ میچ دیکھنے آئے ہوئے ہیں۔ پتہ نہیں کیوں ہے یہ پاگل پن؟ ان کی ٹیم بھی آج تک ورلڈ کپ میں كواليفائي نہیں کر پائی ہے۔
اٹلی، سپین، فرانس، تو کوارٹر فائنل میں ہی باہر ہو گئے تھے۔ انگلینڈ کی ٹیم بہت امیدیں لیکر آئی تھی اس بار لیکن اسے نیپال نے پہلے ہی راؤنڈ میں شکست دی تھی۔ سیمی فائنل میں پاکستان کا مقابلہ بنگلہ دیش سے تھا اور بھارت کا سری لنکا سے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ہر جگہ بھارت اور پاکستان کا پرچم لہرا رہا ہے۔ بھارت زندہ آباد، پاکستان زندہ باد کے نعرے لگ رہے ہیں۔
انگلینڈ کے ناظرین ہاتھ میں بیئر لیے ہوئے منہ لٹکائے بیٹھے ہیں۔ ان میں سے کچھ کے ہاتھ میں پاکستان کا جھنڈا ہے تو کچھ نے بھارتی ترنگا تھام رکھا ہے۔
میچ دیکھنے نواز شریف اور نریندر مودی بھی آئے ہیں۔ مودي جي کا سینہ ان کے کرتے میں سما نہیں رہا ہے، میاں صاحب کی مسکراہٹ دونوں کانوں تک پھیلتی جا رہی ہے۔
برازیل کی صدر جیلما روسیف ان کے استقبال میں کھڑی ہیں۔ مياں صاحب ان کے ساتھ سیلفي لے رہے ہیں۔ مودي جي اپنی باری کا انتظار کر رہے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہGETTY IMAGES
روسیف اپنے رونیلڈنيو نام کے وزیر کھیل کے ساتھ آتی ہیں اور مودي جي سے پوچھتی ہیں ’کیا ایسا ممکن ہے کہ آپ کے ملک کے کھلاڑی برازیل کے نوجوانوں کو فٹ بال کھیلنا سكھائیں۔ کوچنگ کا جو بھی خرچ آئے گا ہم ادا کردیں گے۔‘
مودي جي کہتے ہیں ’فکر نہ کریں۔ آپ کے یہاں بھی اچھے دن آئیں گے۔ ہم ضرور سکھائیں گے۔
سٹیڈیم میں بالی وڈ کے پنجابی نغمے بج رہے ہیں۔ دلما روسیف نے ایک اچھے میزبان کی طرح مياں صاحب اور مودي جي دونوں کا خیال رکھتے ہوئے یہ گانے منتخب کیے ہیں۔
اوباما اور کیمرون بھی میچ دیکھنے آئے ہیں لیکن سب سے اگلی قطار میں بس میزبان ملک اور فائنل میں پہنچنے والی ٹیموں کے رہنما ہی بیٹھ سکتے ہیں اس لیے اوباما اور کیمرون کو پیچھے کی سیٹ پر بیٹھنا پڑا ہے۔
کھیل شروع ہونے سے پہلے وہ چل کر آتے ہیں دونوں رہنماؤں سے ہاتھ ملانے کے لیے ۔ کہتے ہیں کاش ہم بھی کبھی آگے بیٹھ پاتے!
مودی نے ٹویٹ کرتے ہوئے کھیل شروع کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ میدان پر زور کی سیٹی بجتي ہے۔
آپ ابھی تک پڑھتے جا رہے ہیں۔ میں تو بس بخار میں یوں ہی بڑبڑا رہا تھا۔
ڈاکٹر نے کہا ہے یہ ورلڈ کپ کا بخار ہے، ایک ماہ میں اترے گا۔ بھارت اور پاکستان جیسے ’تماش بین ملک‘کے لوگوں میں اس طرح کی علامات زیادہ نظر آتی ہیں۔
آپ سب کو یہ خواب دکھانے کے لیے معذرت چاہتا ہوں۔ ویسے گھبرانے کی بات نہیں ہے۔ ایک دن ایسا ہو کر رہے گا۔ مودي جي نے کہا ہے اچھے دن آئیں گے۔







