امریکہ میں سب کی نظریں موبائل فون پر

۔۔۔امریکہ میں موبائل فون کی بیماری پھیل چکی ہے، ہمیشہ کی طرح کچھ دنوں میں آپ تک بھی پہنچے گی۔

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشن۔۔۔امریکہ میں موبائل فون کی بیماری پھیل چکی ہے، ہمیشہ کی طرح کچھ دنوں میں آپ تک بھی پہنچے گی۔
    • مصنف, برجیش اپادھیائے
    • عہدہ, بی بی سی اردو، واشنگٹن

میں واشنگٹن کے فوگي باٹم میٹرو سٹیشن کے سامنے سڑک پار کرنے کے لیے کھڑا ہوں۔ ٹریفک لائٹ سبز ہے، لال ہونے کا منتظر ہوں۔

اچانک دوسری جانب ریڈ وائن کی طرح سرخ لباس میں ملبوس، لال ہائی ہیلز میں کھڑے خوبصورت چہرے پر نظر پڑتی ہے۔ وہ میری طرف دیکھے جا رہی ہے، مسکرا بھی رہی ہے۔

ایسا تو جوانی کے دنوں میں بھی نہیں ہوا، اب تو عمر جاوید مياں داد کی طرح ہر گیند پر ایک ایک رن چرا کر نصف سنچری کی طرف بڑھ رہی ہے۔

اپنے پیچھے دیکھتا ہوں کہ شاید کسی اور کو دیکھ کر مسکرا رہی ہوگی۔ لیکن پیچھے کوئی نہیں ہے۔ اب تو بس میں ہی میں ہوں۔

سرخ لائٹ سبز ہو جاتی ہے۔ وہ مسكراتي ہوئی میری طرف آ رہی ہے۔ میں نے سڑک پار کرنا مناسب نہیں سمجھا ہے، انتظار کر رہا ہوں۔ وہ آتی ہے، بغل سے نکل جاتی ہے۔

ایک چھوٹے سے کھلونے نے کھیل کر دیا میرے ساتھ ! وہ لال پری اپنے موبائل پر تھی، ایئر فون پر کسی اور کی باتوں پر مسکرا رہی تھی۔

کئی شہروں میں اب غیر شادی شدہ افراد کی تعداد میں اضافہ ہونے لگا ہے

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنکئی شہروں میں اب غیر شادی شدہ افراد کی تعداد میں اضافہ ہونے لگا ہے

آپ ہنس رہے ہوں گے میرے حال پر۔ اگر نوجوان ہیں آپ تو ہنس لیں کیونکہ میرے ساتھ تو جو ہونا تھا ہو لیا ، آپ کا حال تو بہت برا ہونے والا ہے۔

امریکہ میں یہ بیماری پھیل چکی ہے، ہمیشہ کی طرح کچھ دنوں میں آپ تک بھی پہنچے گی۔

جہاں میں کھڑا تھا وہاں سے جارج واشنگٹن یونیورسٹی کچھ ہی فاصلے پر ہے۔ خوبصورت جوان چہروں کی آمد و رفت جاری ہے۔ لیکن سب کی نظر اس چھوٹے سے کھلونے پر ہی ہے۔ کوئی کسی سے نظریں نہیں ملا رہا، نہ ہی آس پاس دیکھ رہا ہے۔ پوری دنیا اس کھلونے کے اندر سمٹی ہوئی ہے۔

25 برسوں سے وہاں کونے پر بنی میگزین اور اخبار کی دکان نے ہمیشہ کے لیے شٹر گرانے میں ہی بھلائی سمجھی ہے۔ کوئی دکان کے اندر یا باہر لٹکی میگزینز کو دیکھے تب تو کچھ بکے۔

لیکن یہ تو اس کھلونے کی چھوٹی سی کرامت ہے۔ اس کا قہر تو ایسا برپا ہے کہ کئی شہروں میں اب غیر شادی شدہ افراد کی تعداد میں اضافہ ہونے لگا ہے۔

کسی نےاس موضوع پر شعر بھی کہے ہیں۔ کہہ سکتا تھا کہ میں نے ہی وہ شعر لکھے ہیں لیکن کہیں آپ نے اس چھوٹے سے کھلونے کے ذریعے یو ٹیوب پر تلاش مار دیا تو پکڑا جاؤں گا۔ تو انّو ملک کی طرح امپرووائز کر کے اس کا نچوڑ سنا دیتا ہوں۔

ٹریفک کی بتی لال ہے۔ ایک لڑکا اور ایک لڑکی سڑک پار کر رہے ہیں۔ دونوں کی نظریں ملتی ہیں، دونوں آگے بڑھ جاتے ہیں، پیچھے سے بیک گراؤنڈ میوزک بجتا ہے۔۔۔ ایک لڑکی کو دیکھا تو ایسا لگا اینڈ سو آن۔۔۔

اوباما تو ایک بار اس کی زد میں آ چکے ہیں جب ڈنمارک کی وزیر اعظم کے ساتھ سیلفي لے رہے تھے

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشناوباما تو ایک بار اس کی زد میں آ چکے ہیں جب ڈنمارک کی وزیر اعظم کے ساتھ سیلفي لے رہے تھے

کس نے بجایا؟

آپ سوال بہت پوچھتے ہیں۔ ہندی فلموں میں ہمیشہ سے بیک گراؤنڈ میوزک بجتا آیا ہے، تو سمجھ لیں یہاں بھی بج گیا۔

خیر لڑکا اور لڑکی بیک گراؤنڈ میوزک کے بعد ایک دوسرے کو پلٹ کر دیکھتے ہیں، مسکراتے ہیں، عشق ہوتا ہے، پارک میں ملتے ہیں، چھولے بھٹورے کھاتے ہیں، کچھ دنوں میں شادی کرتے ہیں اور پھر وہ سدا خوشیوں بھری زندگي گزارتے ہیں۔ دی اینڈ

اب چھوٹے سے اس کھلونے نے کیا کیا ہے یہ سنیے۔

لڑکا اور لڑکی سڑک پار کر رہے ہیں ، بیک گراؤنڈ میوزک بجتا ہے۔ لیکن دونوں ہی نے ایئر فون لگا رکھے ہیں، کچھ سنائی نہیں دیتا۔ نظریں موبائل پر ہیں، کچھ دکھائی نہیں دیتا۔ پلٹ کر دونوں میں سے کوئی نہیں دیکھتا، مسكرانا تو دور کی بات۔ بس کہانی وہیں ختم۔ دی اینڈ

لڑکا اپنے کمرے میں فیس بک پر جا کر کچھ لائیک کرے گا لڑکی کچھ اور لائیک کرے گی۔ لائیک کے چکر میں لائف گئی ہاتھ سے۔

آپ نے شاید جارج آرویل کی کتاب 1984 پڑھی ہو۔ اس میں ایک ایسے دور کی تصویر ہے جہاں ہر شخص کی ایک ایک حرکت پر ہر لمحے کوئی نظر رکھ رہا ہے، دفتر، گھر، گرل فرینڈ، ٹی وی ہر چیز پر کسی اجنبی کی نظر ہے۔

یہ کھلونا تو اتنا دبنگ ہے کہ انسان کو ڈنکے کی چوٹ پر اپنی گرفت میں لیتا ہے۔

پوری دنیا اس کھلونے کے اندر سمٹی ہوئی ہے

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنپوری دنیا اس کھلونے کے اندر سمٹی ہوئی ہے

لوگ کوئل کی کوک اب باغوں میں نہیں موبائل رنگ ٹونز میں سنتے ہیں، ایک ہی چھت کے نیچے رہنے والے مياں بیوی ایک دوسرے کو شادی کی سالگرہ کی مبارک باد بھی اسی کھلونے کے ذریعہ فیس بک پر دیتے ہیں۔

بڑے بڑے بادشاہ مہاراجہ بھی اس کے شکنجے میں آ چکے ہیں۔ راہل گاندھی کا کیریئر خراب ہوا بس اس لیے کیونکہ اسی کھلونے میں گھسے رہتے تھے، بڑے- بوڑھوں کی بات سننے کی فرصت ہی نہیں تھی۔ مودی خطرناک نکلے۔ کھلونے کا استعمال کیا اور پھر کنارے رکھ دیا۔ دیکھنا ہے كب تک مکمل طور پر اس کے زد میں آنے سے گریز کرتے ہیں۔

اوباما تو ایک بار اس کی زد میں آ چکے ہیں۔ ڈنمارک کی وزیراعظم کے ساتھ سیلفي لے رہے تھے۔ مشیل اوباما کے چہرے سے ہی دنیا کو پتہ چل گیا تھا کہ گھر جا کر کیا حال ہوا ہو گا۔

خیر آپ بھی ذرا موبائل سے نظریں ہٹائیں، کہیں اور نظر ملائیں۔ بس جاتے جاتے اس ڈائری کو لائیک کر دیجیئے گا یا پھر ٹوئٹ کر دیجیئے۔ ٹوئٹر ہینڈل ہے۔۔۔

@BBCUrdu