کیا یہ عراق کا اختتام ہے؟

عراق سنہ 2012 میں امریکی امداد حاصل کرنے والا پانچواں بڑا ملک تھا

،تصویر کا ذریعہBBC World Service

،تصویر کا کیپشنعراق سنہ 2012 میں امریکی امداد حاصل کرنے والا پانچواں بڑا ملک تھا

عراق کو اس وقت اپنی تاریخ کے بدترین بحران کا سامنا ہے۔ شدت پسندوں کی نئی کارروائیوں نے ملک کے جغرافیے کو تبدیلی کے دہانے پر پہنچا دیا ہے۔ یہ سب اتنی جلدی کیسے ہو گیا؟ کیا یہ عراق کا اختتام ہے؟

عراق میں تشدد تو عرصے سے جاری ہے تو پھر نیا کیا ہے؟

فرقہ ورانہ ہلاکتیں سنہ 2006 میں انتہا کو پہنچ گئی تھیں لیکن نیا سلسلہ دسمبر سنہ 2013 میں اس وقت سے جاری ہے جب سنی شدت پسندوں نے مرکزی شہر فلوجہ اور اس کے قریبی شہر رمادی کے کچھ حصوں پر قبضہ کر لیا۔

ان شدت پسندوں نے سنی قبائیلیوں کی وزیرِاعظم نوری المالکی سے اس بات پر ناراضی کا فائدہ اٹھایا تھا کہ وہ شیعہ ہیں، امتیازی سلوک کرتے ہیں اور اپنی طاقت بڑھاتے جا رہے ہیں۔

اس کے چھ ماہ بعد شدت پسندوں نے عراق کے دوسرے بڑے شہر موصل پر حملہ کیا۔ اس حملے کے جواب میں 30 ہزار فوجی اسلحہ چھوڑ کر بھاگ گئے اور شدت پسندوں نے جنوب میں دارالحکومت کی جانب پیش قدمی شروع کر دی۔

حملوں کے پیچھے کون ہے؟

عراقی شہروں پر ان حملوں کی قیادت دولت اسلامی عراق و شام (آئی ایس آئی ایس) کر رہی ہے

،تصویر کا ذریعہBBC World Service

،تصویر کا کیپشنعراقی شہروں پر ان حملوں کی قیادت دولت اسلامی عراق و شام (آئی ایس آئی ایس) کر رہی ہے

عراقی شہروں پر ان حملوں کی قیادت دولت اسلامی عراق و شام (آئی ایس آئی ایس) کر رہی ہے جو القاعدہ کی سابق الحاقی ہے۔ پانچ سال پہلے امریکہ نے اس گروہ کے بارے میں کہا تھا کہ یہ شکست کھانے کو ہے لیکن آج وہ تقریباً روزانہ ہی بغداد پر بمباری کرتا ہے اور مغرب و جنوب سے شام کی طرف مسلسل پیش قدمی کر رہا ہے اور ایک نئی اسلامی ریاست قائم کرنا چاہتا ہے۔

بہرحال آئی ایس آئی ایس جنگجوؤں کی ظالمانہ حکمتِ عملیاں اور مقبوضہ علاقوں اسلامی قوانین کی شدت پسندانہ تشریح کا نفاذ نے اُسے شام کے جنگی گروہوں کے لیے اس قدر ناقابلِ قبول بنا دیا کہ وہ اسے شام سے نکالنے کے لیے متحد ہو گئے۔ یہاں تک کہ آئی ایس آئی ایس القاعدہ کے لیے بھی قابلِ قبول نہ رہی اور اسے فروری میں تحلیل کر دیا گیا لیکن اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ آئی ایس آئی ایس اور مضبوط ہو گئی۔

تعداد کے اعتبار سے تو آئی ایس آئی ایس صرف کچھ ہزار جنگجوؤں پر مشتمل ہے لیکن اسے ان ہزارہا سابق افسروں اور فوجیوں کی حمایت حاصل ہے جنھیں سنہ 2003 میں صدام حسین کی شکست کے بعد بے روزگار کر دیا گیا تھا کیونکہ عراقی فوج ہی تحلیل کر دی گئی۔

کیا عراقی فوج آئی ایس آئی ایس کا مقابلہ کرنے کے لیے کافی نہیں؟

عراقی سکیورٹی افواج

ایک لاکھ 93 ہزار 400

پولیس ارکان

پانچ لاکھ

عراق کا فوجی بجٹ17 ارب امریکی ڈالر

عراق کے لیے امریکی امداد: 1.3 ارب امریکی ڈالر

عراق سنہ 2012 میں امریکی امداد حاصل کرنے والا پانچواں بڑا ملک تھا۔ عراقی حکومت کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اس کے پاس نو لاکھ 30 ہزار سکیورٹی ارکان ہیں جو امریکہ کے تربیت یافتہ اور امریکی اسلحے سے مسلح ہیں۔

کاغذوں پر موجود ان اعداد و شمار کو دیکھا جائے تو یہ تعداد ان شدت پسندوں سے نمٹنے کے لیے ہر اعتبار سے بہت ہے جن کی تعداد ان کے حامی بھی 15000 جنگجوؤں سے زیادہ نہیں بتاتے۔

کیا عراق میں جو ہو رہا ہے اس کا شام سے بھی کوئی تعلق ہے؟

آئی ایس آئی ایس ایک الگ گروہ کی شکل اختیار کرنے سے پہلے شام کے باغیوں کو سرمایہ اور جنگجو بھیجتی رہی ہے

،تصویر کا ذریعہAP

،تصویر کا کیپشنآئی ایس آئی ایس ایک الگ گروہ کی شکل اختیار کرنے سے پہلے شام کے باغیوں کو سرمایہ اور جنگجو بھیجتی رہی ہے

بلاشبہ شام کے بحران نے عراق کو غیر مستحکم کیا ہے۔ شروع میں لاتعلق اور ایک طرف رہنے کے بعد عراقی اپنے اس مغربی ہمسائے کی سرحدوں کے اندر اور باہر دونوں طرف کی جنگ میں شریک ہیں۔

اگرچہ مالکی کی شیعہ اکثریتی حکومت شام کے صدر علوی شیعہ صدر بشر الاسد کی حمایت کی تردید کرتی ہے لیکن مبصروں کا کہنا ہے کہ وہ شام کے پکے حامی ایران سے جانے والے جنگجوؤں اور اسلحے سے چشم پوشی برتتی ہے۔

عراقی سنی اسلحے، گولے بارود، پناہ اور افرادی قوت ہر طرح سے کھل کر شامی باغییوں کی مدد کرتے ہیں کیونکہ کہ ان کی اکثریت سنی ہے۔ آئی ایس آئی ایس خود سنہ 2013 میں ایک الگ گروہ کی شکل اختیار کرنے سے پہلے شام کے باغیوں کو سرمایہ اور تربیت یافتہ جنگجو بھیجتی رہی ہے لیکن اب اُس کے سرحد کے دونوں طرف خود اپنے مضبوط ٹھکانے ہیں، اس کے پاس وسائل ہیں اور نئی بھرتیوں کے مواقع۔ جن کے نتیجے میں سارے بحران نے ایک نئی جہت کا اضافہ ہوا ہے۔

کیا یہ سب مذہب کی وجہ سے ہے؟

حالیہ برسوں میں عراق پر سنی اقلیت کی بالا دستی اور شیعوں کے ساتھ امتیازی سلوک سے کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنحالیہ برسوں میں عراق پر سنی اقلیت کی بالا دستی اور شیعوں کے ساتھ امتیازی سلوک سے کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے

ایک ہزار سال کے دوران عراق شیعہ اور سنی مسلمانوں کے درمیان اتنی بار میدانِ جنگ بنتا رہا ہے کے اب ان میں پھوٹ دائمی شکل اختیار کر گئی ہے۔

حالیہ برسوں میں عراق پر سنی اقلیت کی بالا دستی اور شیعوں کے ساتھ امتیازی سلوک پہلے سے موجد تاریخی کشیدگی میں اضافہ ہی کیا ہے۔

صدام حسین کی حکومت کے خاتمے نے اہلِ تشیع کو صرف شکایتوں کے ازالے کا موقع دیا تھا۔

نسلی فرق نے بھی عدم استحکام میں کردار ادا کیا ہے۔ تیل سے مالا مال کرکوک پر عراقی عربوں اور کردوں دونوں کا دعویٰ ہے۔

اس کے علاوہ سیاسی گروہ بندیوں کا بھی عدم استحکام میں ایک اہم کردار رہا ہے۔

کیا عالمی طاقتیں بھی ملوث ہو جائیں گی؟

امریکہ کا کہنا ہے کہ آئی ایس آئی ایس ’پورے ریجن کے لیے ایک خطرہ ہے‘ اور صدر اوباما فوجی حل سمیت تمام طریقوں پر غور کر رہے ہیں تا کہ عراقی حکومت کی مدد کی جا سکے۔ تاہم امریکی حکام کا اصرار ہے کہ صدر امریکی فوجیوں کو دوبارہ واپس بھیجنے پر غور نہیں کر رہے۔

ایرانی صدر حسن روحانی آئی ایس آئی ایس کو ایک وحشی تنظیم قرار دے کر مذمت کرتے ہوئے متنبیہ کر چکے ہیں کہ ’اس تشدد اور دہشت گردی کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔‘

ترکی نہ نے بھی متنبیہ کیا ہے کہ اگر سکیورٹی اہلکاروں، سفارتکاروں اور بچوں پر مشتمل ان 80 افراد میں سے کسی کو بھی، جنھیں آئی ایس آئی ایس نے پکڑا ہوا ہے، کسی بھی طرح گزند پہنچی تو وہ جوابی کارروائی کرے گا۔