’عراقی شہری اپنے دفاع میں ہتھیار اٹھائیں‘

،تصویر کا ذریعہReuters
عراق کے سب سے سینیئر شیعہ رہنما آیت اللہ العظمیٰ علی سیستانی کے ترجمان نے کہا ہے کہ سنی شدت پسندوں کی پیش قدمی کے بعد شہری ہتھیار اٹھائیں اور سکیورٹی فورسز کا ساتھ دیں۔
شیعہ رہنما کے نمائندے کی جانب سے یہ پیغام نمازِ جمعہ کے دوران دیا گیا۔
پیغام میں کہا گیا ہے کہ شدت پسند ملک کے شمالی اور مشرقی علاقوں پر تسلط کا دائرہ وسیع کر رہے ہیں اور ان کی جنوب کی جانب پیش قدمی کا خطرہ ہے۔
’ایسے شہری جو ہتھیار حاصل کر سکتے ہیں اور دہشت گردوں سے لڑائی اور اپنے ملک، لوگوں اور مقدس مقامات کا دفاع کر سکتے ہیں، وہ رضاکارانہ طور پر سکیورٹی فورسز کا اس مقدس فریضے میں ساتھ دیں۔‘
عراق میں شدت پسندوں نے دو نئے قصبوں پر قبضے کے ساتھ اپنے کنٹرول کا دائرہ وسیع تر کر لیا ہے اور اب ایسا معلوم ہو رہا ہے کہ دارالحکومت بغداد کو بھی خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔
سنی شدت پسندوں نے دیالہ صوبے میں سعدیہ اور جلولا کے قصبوں پر قبضہ کیا ہے اور مضافاتی علاقوں میں سکیورٹی اہلکار اپنی چوکیاں چھوڑ کر جا رہے ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

،تصویر کا ذریعہAFP
دولتِ اسلامیہ فی عراق و شام نامی تنظیم کی قیادت میں عسکریت پسندوں کا ارادہ ہے کہ وہ جنوبی علاقوں کی جانب مزید پیش قدمی کریں گے جہاں دارالحکومت بغداد اور شیعہ اکثریتی علاقے ہیں۔
یاد رہے کہ اس سے قبل بدھ کو عراقی سکیورٹی حکام نے بتایا تھا کہ کہ اسلامی شدت پسندوں نے منگل کو موصل کے بعد سابق صدر صدام حسین کے آبائی شہر تکریت پر بھی قبضہ کر لیا تھا۔
ادھر امریکی صدر براک اوباما نے کہا ہے کہ ان کی حکومت عراق میں فوجی ایکشن سمیت ’تمام آپشنز‘ پر غور کر رہی ہے۔ انھوں نے کہا کہ اسلامی شدت پسندوں کے ساتھ لڑائی میں عراقی حکومت کی مدد کی جائے گی۔
براک اوباما نے کہا کہ امریکہ اس بات کو یقینی بنانا چاہتا ہے کہ جہادی عناصر عراق میں قدم جمانے میں کامیاب نہ ہوں۔
براک اوباما نے کہا کہ امریکہ اس بات کو یقینی بنانا چاہتا ہے کہ جہادی عناصر عراق میں قدم جمانے میں کامیاب نہ ہوں
امریکی صدر نے وائٹ ہاؤس میں آسٹریلیا کے وزیرِاعظم ٹونی ایبٹ کے ساتھ ملاقات کے بعد کہا کہ عراق میں مختصر مدت کے لیے فوری طور پر فوجی کارروائی کرنے کی ضرورت ہے۔
اس سے پہلے غیر مصدقہ اطلاعات کے مطابق عراقی افواج نے جعمرات کو موصل اور تکریت میں فضائی حملے کر کے شدت پسندوں کو نشانہ بنایا۔
صدر اوباما کا کہنا تھا کہ ’میں عراق میں کسی بھی طرح کی کارروائی کے امکان کو مسترد نہیں کرتا کیونکہ ہم اس بات کو یقینی بنانا چاہتے ہیں کہ جہادی عراق میں قدم جمانے میں کامیاب نہ ہوں۔‘
اس سے پہلے امریکہ میں عراق کے سیفر لقمان فیلی نے بی بی سی کو بتایا تھا کہ حالیہ برسوں میں عراق کو ’انتہائی سنگین‘ صورتِ حال کا سامنا ہے۔
ادھر عراقی پارلیمان میں وزیرِ اعظم نوری المالکی کی جانب سے ملک میں ہنگامی حالت کے نفاذ کے بارے میں ہونے والی رائے شماری کو ممبران کی مطلوبہ تعداد کم ہونے کی وجہ سے موخر کر دیا گیا۔
عراقی پارلیمان کے 325 میں سے صرف 128 ارکان رائے شماری کے وقت پارلیمان میں موجود تھے۔
دولتِ اسلامیہ فی عراق والشام نامی تنظیم کی قیادت میں عسکریت پسندوں کا ارادہ ہے کہ جنوبی علاقوں کی جانب مزید پیش قدمی کریں گے جہاں دارالحکومت بغداد اور شیعہ اکثریتی علاقے ہیں۔
اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل نے عراق میں شدت پسندوں کی جانب سے موصل اور تکریت پر قبضے کی شدید مذمت کی تھی۔
اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان کی مون کا کہنا تھا کہ عالمی برادری کو متحد ہو کر عراق کے ساتھ اظہارِ یک جہتی کرنا چاہیے۔
عراقی افوج کی بمباری نے آئی ایس آئی ایس کی پیش قدمی کو سامرا میں روک دیا تھا۔
بیروت میں بی بی سی کے نامہ نگار کے مطابق صوبہ نینوا پر دولتِ اسلامیہ کا کئی ماہ سے غیر رسمی کنٹرول تھا جس میں یہ تنظیم مقامی اہلکاروں سے بھتہ وصول کیا کرتی تھی۔
کہا جاتا ہے کہ دولتِ اسلامیہ کو شام کے بڑے حصے اور مغربی و وسطی عراق پر کنٹرول حاصل ہے۔

،تصویر کا ذریعہBBC World Service







