نائجیریا میں بوکو حرام کے حملے میں ’درجنوں افراد‘ ہلاک

،تصویر کا ذریعہAFP
نائجیریا میں شدت پسند گروپ بوکو حرام کے جنگجوؤں نے شمالی نائجیریا کی بورنو ریاست کے متعدد گاؤں میں درجنوں افراد کو ہلاک کردیا ہے۔
ملکی پارلیمان کے ایک مقامی رکن نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے حملے کی تصدیق کی اور کہا کہ بورنو میں اس گاؤں کے علاوہ دوسرے پانچ گاؤں پر بھی حملے ہوئے ہیں۔
دریں اثنا نائجیریا کی فوج نے ان رپورٹوں کی تردید کی ہے کہ جن میں ان کے کئی آدمیوں پر جنگجوؤں کی امداد کا الزام عائد کیا گیا ہے۔
واضح رہے کہ بوکو حرام نے ملک میں اسلامی مملکت کے قیام کے لیے سنہ 2009 سے روز افزوں خوں ریز جنگ کا سلسلہ جاری کر رکھا ہے۔
کیمرون کی سرحد کے قریب اٹّاگارا گاؤں کے باشندوں نے کہا کہ مسلح افراد نے انھیں ایک چرچ کے احاطے میں اکھٹا ہونے کا حکم دیا۔
ان کے مطابق انھیں یہ باور کرایا گیا کہ وہ لوگ نائجیریائی فوج سے تعلق رکھتے ہیں۔ عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ اس کے بعد ان لوگوں نے ان پر فائرنگ شروع کر دی۔
نائجیریا کے رکن پارلیمان پیٹر بیئے نے بی بی سی کو بتایا کہ اس علاقے میں اس قسم کے متعدد حملے ہوئے ہیں اور بہت سے گھر تباہ کر دیے گئے ہیں۔
وضح رہے کہ ان حملوں کا الزام شدت پسند گروپ بوکوحرام پر عائد کیا جا رہا ہے جس نے ایک ماہ سے بھی زیادہ عرصے سے 200 سے زیادہ طالبات کو یرغمال بنا رکھا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
منگل کو میڈیا میں یہ خبر آئی تھی کہ نائجیریائی فوج کے دس جرنیلوں اور پانچ دیگر اعلی عہدیداروں پر بوکو حرام کی امداد کا الزام ہے۔
رپورٹ میں کہا جا رہا تھا کہ ان فوجی افسروں کا کورٹ مارشل کیا گیا ہے اور انھیں جنگجو گروہ کو اسلحے اور معلومات فراہم کرنے کا مرتکب پایا گیا ہے۔
بہرحال نائجیریا کے فوجی ترجمان میجرل جنرل کرس اولوکولادے نے واضح انداز میں ان خبروں کی تردید کرتے ہوئے اس ’جھوٹ‘ قرار دیا جو ’نائجیریائی فوج کی شبیہ کو زیادہ سے زیادہ نقصان پہنچانے کے در پے ہے۔‘

،تصویر کا ذریعہ
انھوں نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ’فوج کے کسی بھی جنرل پر کہیں بھی مقدمہ نہیں چل رہا ہے۔‘
وزیر داخلہ ابا مورو نے کہا کہ یہ ’اچھی خبر‘ ہے کہ فوج نے ملزم کی شناخت کرلی ہے اور کہا کہ اس سے دوسرے افسروں کو عبرت ملے گی۔







