نائجیریا کی تنظیم بوکو حرام پراقوام متحدہ کی پابندیاں

،تصویر کا ذریعہReuters
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے پانچ ہفتے قبل دو سو سے زائد طالبات کو اغوا کرنے والی نائجیریا کی شدت پسند تنظیم بوکو حرام پر پابندیوں کی منظوری دے دی ہے۔
ان پابندیوں کے تحت بوکو حرام کا شمار بھی القاعدہ اور اُس سے منسلک ان تنظیموں میں ہو گا جن پر ہتھیاروں کی پابندی ہے اور جن کے اثاثے منجمد ہیں۔
امریکی سفیر سمینتھا پاور نے کہا ہے کہ ’بوکو حرام کو شکست دینے اور اس کی ہلاکت خیز قیادت کو جواب دہ بنانے کے لیے یہ اقدام انتہائی اہم ہے۔‘
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ اندازہ نہیں لگایا جا سکتا کہ اس اقدام کے عملی اثرات کیا ہوں گے۔
بوکو حرام کو حال ہی میں ایک شمال مشرقی گاؤں میں 27 افراد کی ہلاکت کا ذمہ دار بھی قرار دیاگیا تھا۔ چیبوک کے قریب واقع گاؤں الگارنو کے لوگوں کا کہنا ہے کہ مسلح افراد نے بدھ کی رات حملہ کیا، تقریباً تمام گھروں کو آگ لگا دی اور ان گھروں میں کھانے پینے کا تمام سامان لوٹ لیا۔
ان کا کہنا ہے کہ حملہ آوروں نے فارم کے مزدوروں کو گولیوں کا نشانہ بنایا۔ حملہ آور کاروں اور موٹر سائیکلوں پر سوار تھے۔ بوکو حرام کو اس کے اسی انداز سے بھی پہچانا جاتا ہے۔
اس لوٹ مار سے قبل وسطی شہر جوس میں یکے بعد دیگرے دو بم دھماکوں میں کم از کم 118 افراد ہلاک ہوئے تھے۔ نائجیریائی حکام اس کا ذمے دار بھی بوکو حرام ہی کو قرار دیتے ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
بوکو حرام کو نائجیریا کی درخواست پر القاعدہ اور اس کی اتحادی تنظیموں میں شامل کیا گیا ہے۔
ان پابندیوں کے نتیجے میں نہ صرف بوکو حرام کو ملنے مالی اعانتوں میں دشواریاں پیدا ہوں گی بلکہ اس کے لیے موجودہ سرمائے کے استعمال، ہتھیاروں کی خریداری اور نقل و حمل بھی مشکل ہو جائے گی۔
بدھ کو اقوام متحدہ میں نائجیریا کے مستقل مندوب یو جوئے اوگویو نے کہا کہ ’اہم بات یہ ہے کہ مسئلے کے حل میں پہل کی جائے خاص طور پر جب مسئلہ دہشت گردی ہو۔‘
نیویارک میں بی بی سی کی باربرا پلیٹ کا کہنا ہے کہ القاعدہ سے رابطوں کے باعث بوکو حرام کی پہلے ہی نگرانی کی جا رہی تھی۔

،تصویر کا ذریعہAP
جمعرات کو دارالحکومت ابوجا میں ایک بڑا مظاہرہ کیا گیا جس میں پانچ ہفتے قبل چیبوک سے اغوا کی جانے والی دو سو سے زائد طالبات کی بازیابی کا مطالبہ کیا گیا، تاہم ان مظاہرین کو صدر کی رہائش گاہ تک نہیں جانے دیا گیا۔
اقوام متحدہ سے اس سلسلے میں جاری کی جانے والی دستاویز کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ بوکو حرام کے ارکان نے القاعدہ کے ملحقہ اداروں سے تربیت حاصل کی اور مالی میں ان کے ساتھ مل کر کارروائیاں کیں۔
بوکو حرام نے تنظیم کے سربراہ ابوبکر شیکاؤ کے حکم کے تحت اپنی کارروائیوں میں اضافہ کر دیا ہے۔
اس ماہ کے اوائل میں بوکو حرام نے ایک ویڈیوجاری کی جس میں مغوی طالبات کو برقعوں میں بیٹھے ہوئے دکھایا گیا ہے







