نائجیریا میں گاؤں پر حملے میں 17 افراد ہلاک

الگارنو گاؤں چیبوک کے قریب واقع ہے جہاں سے گذشتہ ماہ سکول کی 200 سے زائد طالبات کو اغوا کر لیا گیا تھا

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنالگارنو گاؤں چیبوک کے قریب واقع ہے جہاں سے گذشتہ ماہ سکول کی 200 سے زائد طالبات کو اغوا کر لیا گیا تھا

شمال مشرقی نائجیریا میں ایک گاؤں پر حملے میں 17 افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔ خیال کیا جا رہا ہے کہ یہ حملہ اسلامی شدت پسند گروہ بوکو حرام نے کیا ہے۔

اطلاعات کے مطابق بوکو حرام کے جنگجو الگارنو گاؤں میں کئی گھنٹوں تک قتلِ عام اور لوٹ مار کرتے رہے۔

الگارنو گاؤں چیبوک کے قریب واقع ہے جہاں سے گذشتہ ماہ سکول کی 200 سے زائد طالبات کو اغوا کر لیا گیا تھا۔ بچیوں کے اغوا پر عالمی سطح پر شدید ردِ عمل سامنے آیا تھا اور نائجیریا کی حکومت پر دباؤ ڈالا گیا تھا کہ وہ بوکو حرام سے نمٹیں۔

نائجیریا میں بی بی سی کے نامہ نگار وِل راس کا کہنا ہے کہ شمال مشرقی نائجیریا میں لوگوں کو خطرہ اس وجہ سے لاحق ہے کہ فوج کے لیے کچھ علاقے ’نو گو ایریا‘ بن گئے ہیں اور باغی آزادی سے اپنی کارروائیاں کرتے ہیں۔

یاد رہے کہ جوس شہر میں گذشتہ روز دہرے بم دھماکوں میں کم از کم 118 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

صدر جوناتھن نے دھماکوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ جنھوں نے یہ بم دھماکے کیے ہیں وہ ’ظالم اور برے لوگ‘ ہیں۔

صدر نے کہا کہ وہ دہشت گردی سے لڑنے کے لیے پرعزم ہیں حالانکہ سکیورٹی کی فراہمی میں ناکامی کے لیے ان پر تنقید ہو رہی ہے۔

پہلا دھماکہ شہر کے ایک مصروف بازار میں ہوا جب کہ دوسرا دھماکہ اس کے قریب ہی ایک ہسپتال کے باہر ہوا

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنپہلا دھماکہ شہر کے ایک مصروف بازار میں ہوا جب کہ دوسرا دھماکہ اس کے قریب ہی ایک ہسپتال کے باہر ہوا

حالیہ برسوں کے دوران جوس شہر میں عیسائی اور مسلمان گروہوں کے درمیان پرتشدد جھڑپیں ہوتی رہی ہیں۔

صوبائی گورنر کے ایک ترجمان نے خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کو بتایا کہ ان دھماکوں میں ہلاک ہونے والوں میں زیادہ تر خواتین شامل ہیں۔ بازار اور بس ٹرمینل شہر کے تجارتی مراکز میں شامل ہیں۔

مقامی صحافی حسن ابراہیم نے بی بی سی کو بتایا کہ علاقے میں کشیدگی بڑھتی جا رہی ہے اور نوجوانوں نے بعض راستوں کو بند کر دیا ہے جبکہ مذہبی رہنما عوام سے امن قائم رکھنے کی اپیل کر رہے ہیں۔

دارالحکومت ابوجا میں موجود بی بی سی کے ول راس کا کہنا ہے کہ یہاں پہلے بھی دھماکے ہوتے رہے ہیں جن میں مختلف مذاہب کے لوگ مارے جاتے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ ان دھماکوں میں مارے جانے والوں میں کسی خاص مذہب کے ماننے والے شامل نہیں ہوتے بلکہ زیادہ تر ایسے لوگ ہوتے ہیں جو کام دھندے کی تلاش میں سڑکوں پر نکلتے ہیں۔