’ہمیں معلوم ہے کہ مغوی لڑکیاں کہاں ہیں‘

،تصویر کا ذریعہAP
نائجیریا کی فوج نے کہا ہے کہ انھیں معلوم ہے کہ شدت پسند تنظیم بوکو حرام کے ہاتھوں اغوا کی گئیں لڑکیاں کہاں پر ہیں لیکن وہ وہاں طاقت کے استعمال کا خطرہ نہیں مول لینا چاہتی۔
نائجیریا کے ڈیفنس سٹاف کے چیف ایئر مارشل ایلیکس بدیع نے کہا ہے کہ ’یہ والدین کے لیے اچھی خبر ہوگی، تاہم انھوں نے اعتراف کیا کہ ’فوج وہاں جا کر طاقت کے استعمال کا خطرہ نہیں مولنا چاہتی۔‘
انھوں نے کہا کہ وہ اس جگہ کو ظاہر نہیں کر سکتے۔
ان کا کہنا تھا کہ ’جہاں پر لڑکیوں کو رکھا گیا ہے، کیا وہاں پر ہم طاقت کا استعمال کر سکتے ہیں؟ ہم بازیابی کی کوشش میں اپنی لڑکیوں کو ہلاک نہیں کر سکتے۔‘ انھوں نے کہا کہ ہمیں معلوم ہے کہ ہمیں کیا کرنا ہے۔
اپریل میں بوکو حرام کے مسلح ارکان نے نائجیریا کے علاقے چیبوک کے ایک سکول سے 200 سے زائد لڑکیوں کو اغوا کیا تھا جو تاحال ان کے پاس مغوی ہیں۔
اس سے پہلے بی بی سی کو معلوم ہوا کہ ان مغوی لڑکیوں میں سے بعض کی بازیابی کے لیے ایک سمجھوتہ ہونے والا تھا لیکن حکومت اس پیچھے ہٹ گئی۔
ابوجا میں بی بی سی کے نامہ نگار ویل راس کے مطابق ایک ثالث نے شدت پسند تنظیم کے رہنماووں سے ملاقات کی اور مغوی لڑکیوں کو جس جگہ پر رکھا گیا ہے اس جگہ کا دورہ کیا۔
انھوں نے کہا کہ بوکو حرام کے ساتھ ان کے 100 قیدیوں کی رہائی کے بدلے 50 مغوی لڑکیوں کو رہا کرنے کا سمجھوتہ تقربیاً ہو گیا تھا لیکن نائجیریا کے صدر گڈ لک جوناتھن کی طرف سے پیرس میں اس معاملے پر ہونے والی کانفرنس میں شرکت کے بعد حکومت اس سمجھوتے سے پیچھے ہٹ گئی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
نائجیریا کی حکومت کی طرف سے اس سمجھوتے سے نکل جانے کی وجہ معلوم نہیں ہو سکی ہے۔
نائجیریا کی حکومت کے خلاف سنہ 2009 میں بوکو حرام کی طرف سے پرتشدد کارروائیوں اور جوابی اقدامات میں ہزاروں لوگ ہلاک ہوئے ہیں۔







