’نائجیرین فوج کو سکول پر حملے کی پیشگی اطلاع تھی‘

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
ایک انسانی حقوق کی تنظیم نے نائجیریا کی فوج کو سکول پر حملے کے بارے میں پیشگی اطلاع تھی جس میں شدت پسند تنظیم بوکوحرام 270 کے قریب لڑکیوں کو اغوا کر لیا گیا تھا مگر اس نے اس پر کوئی کارروائی نہیں کی۔
ایمنسٹی انٹرنیشنل کا کہنا ہے کہ اسے کئی باوثوق ذرائع نے بتایا ہے کہ نائجیریا کی فوج کو چار گھنٹوں سے زیادہ وقت پہلے اس حملے کے بارے میں خبردار کر دیا گیا تھا۔
53 لڑکیاں 14 اپریل کو اس حملے کے تھوڑی دیر بعد فرار ہونے میں کامیاب ہو گئی تھیں مگر 200 کے قریب اب بھی قید میں ہیں۔
نائجیریا میں حکام نے اب تک اس رپورٹ پر کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے۔
امریکہ اور برطانیہ کے ماہرین کی ٹیمیں نائجیریا میں ان لڑکیوں کی رہائی میں مدد دینے کے لیے پہنچ گئی ہیں۔
ایمنسٹی کا کہنا ہے کہ خبردار کرنے کے باوجود اس دور دراز علاقے چبوک میں کمک نہیں پہنچائی گئی تاکہ ان لڑکیوں کو تحفظ فراہم کیا جا سکتا۔

،تصویر کا ذریعہAP
ایمنسٹی انٹرنیشنل کے مطابق اس کی ایک وجہ ’بہتر اسلحے سے لیس مسلح گروہوں کے مقابلے کا خوف‘ ہو سکتا ہے۔
ایسی اطلاعات بھی ملی ہیں کہ ان لڑکیوں کو چبوک اور ہمسایہ ملک کیمرون کے درمیان واقع جنگل میں قید رکھا گیا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ایمنسٹی نے دعویٰ کیا ہے کہ حملہ آور حفاظت پر مامور مختصر سکیورٹی فورس پر جلد قابو پانے میں کامیاب ہو گئے تھے۔

،تصویر کا ذریعہReuters
شدت پسند گروہ بوکو حرام نے ان لڑکیوں کو اغوا کرنے کا دعویٰ کیا ہے اور اس کا کہنا ہے کہ ان لڑکیوں کو سکول میں نہیں ہونا چاہیے بلکہ ان کی شادی کر دی جانی چاہیے۔
بوکوحرام کا ہاؤسا زبان میں مطلب ہے ’مغربی تعلیم ممنوع ہے‘ اور اس تنظیم نے 2009 میں ریاست کے خلاف بغاوت شروع کی تھی۔
اس کے بعد شروع ہونے والے تشدد کے نتیجے میں اب تک 1200 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔
اس ہفتے کے آغاز میں بوکوحرام کی جانب سے جاری ہونے والی ویڈیو میں اس تنظیم کے رہنما ابوبکر شیکاؤ نے ان لڑکیوں کو ’فروخت کرنے‘ کی دھمکی دی تھی۔







