’مغوی طالبات کے معاملے پر خاموش نہیں رہنا چاہیے‘

ملالہ خواتین کو تعلیم کا حق دلانے کے لیے کوشاں ہیں

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنملالہ خواتین کو تعلیم کا حق دلانے کے لیے کوشاں ہیں

پاکستان کی وادی سوات میں طالبان کی گولی کا نشانہ بننے والی ملالہ یوسفزئی نے افریقی ملک نائجیریا میں سکول کی 230 سے زائد طالبات کے اغوا پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ لوگوں کو اس معاملے پر خاموش اختیار نہیں کرنی چاہیے۔

ملالہ یوسفزئی نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ جب مجھے معلوم ہوا کہ نائجیریا میں لڑکیوں کو اغوا کیا گیا تو مجھے لگا کہ میری بہنیں قید میں ہیں۔

’میرے خیال میں اس معاملے پر خاموش نہیں رہنا چاہیے کیونکہ اگر ایسا نہیں کیا تو ایسے واقعات کا سلسلہ پھیلے گا اور یہ زیادہ سے زیادہ ہوتے جائیں گے، اور ہمیں بولنا ہو گا۔‘

ملالہ یوسفزئی نے مزید کہا کہ اغوا کے واقعے کو بہت دن ہو گئے ہیں اور اب بھی لڑکیاں مشکل صورتحال میں ہیں۔

’ میرے خیال میں ہمیں اقدام کرتے ہوئے اس مسئلے کو حل کرنا چاہیے۔‘

ملالہ یوسفزئی نے اسلامی شدت پسند بوکو حرام کے بارے میں بات کرتے ہوئے یہ شدت پسند ہیں اور اصل میں اسلام کو نہیں جانتے کیونکہ اسلام کہتا ہے کہ تعلیم حاصل کرنا آپ کی ذمہ داری ہے اور یہ تنظیم اس حق سے انکار نہیں کر سکتی ہے۔

نائجیریا میں ان 230 سے زیادہ لڑکیوں کو تین ہفتے قبل ملک کے شمالی علاقے بورنو سے اغوا کیا گیا تھا اور اس واقعے کی ذمہ دار اسلامی شدت پسند گروپ بوکوحرام نے قبول کی ہے۔

تنظیم نے دھمکی دی ہے کہ وہ اغوا کی جانے والی سکول کی طالبات کو فروخت کر دیں گے۔ مقامی زبان میں اس بوکوحرام کے نام کا مطلب ہی ’مغربی تعلیم حرام‘ ہے۔ اس تنظیم پر الزام ہے کہ صرف رواں برس میں اس کی جانب سے کیے گئے حملوں میں اب تک 1500 لوگ مارے جا چکے ہیں۔