یوکرین: علیحدگی پسند ریفرینڈم کے فیصلے پر قائم

۔۔۔اتوار کو منعقد ہونے والے ریفرینڈم کے لیے لاکھوں کی تعداد میں بیلٹ پیپرز چھاپے گئے ہیں

،تصویر کا ذریعہBBC World Service

،تصویر کا کیپشن۔۔۔اتوار کو منعقد ہونے والے ریفرینڈم کے لیے لاکھوں کی تعداد میں بیلٹ پیپرز چھاپے گئے ہیں

یوکرین کے مشرقی علاقوں میں روس نواز علیحدگی پسندوں نے روسی صدر کی درخواست کے باوجود یوکرین سے آزادی کے لیے اتوار کو شیڈیول کے مطابق ریفرینڈم کرانے کا فیصلہ کیا ہے۔

علیحدگی پسند رہنماؤں نے اپنے حامیوں سے مشاورت کے بعد ریفرینڈم مقررہ وقت پر کروانے کا فیصلہ کیا ہے۔

بدھ کو ولادی میر پوتن نے بات چیت کے لیے سازگار ماحول تیار کرنے کے لیے ریفرینڈم ملتوی کرنے کی درخواست کی تھی۔

دوسری جانب یوکرین کے حکام کا کہنا ہے کہ وہ ریفرینڈم کے نتائج کو تسلیم نہیں کریں گے اور علاقے میں ’انسدادِ دہشت گردی‘ کا آپریشن جاری رہے گا۔

اتوار کو منعقد ہونے والے ریفرینڈم کے لیے لاکھوں کی تعداد میں بیلٹ پیپرز چھاپے گئے ہیں۔

ان بیلٹ پیپرز پر ووٹرز سے سوال پوچھا گیا ہے کہ کیا آپ پیپلز رپبلک دونیتسک کی خودمختاری کے اعلان کی حمایت کرتے ہیں؟

دونیتسک کے رہنما ڈینس پشلین کا کہنا ہے کہ ریفرینڈم کرانے کا فیصلہ متفقہ طور پر کیا گیا ہے۔

’ہم نے صرف وہ کیا ہے جو لوگ چاہتے تھے اور ہم یہ ان کے عمل سے کر کے دکھائیں گے۔‘

روسی صدر نے ریفرینڈم ملتوی کرنے کی درخواست کی تھی

،تصویر کا ذریعہRIA Novosti

،تصویر کا کیپشنروسی صدر نے ریفرینڈم ملتوی کرنے کی درخواست کی تھی

دوسری جانب روسی صدر کے دفتر کریملن کے ایک ترجمان نے کہا ہے کہ ان کے پاس اس ضمن میں محدود معلومات ہیں اور صورتحال پر مزید نظر رکھنے کی ضرورت ہے۔

ماسکو میں بی بی سی کے نامہ نگار سٹیو روزنبرگ کے مطابق ہو سکتا ہے کہ روسی صدر یوکرین کے علیحدگی پسندوں کے فیصلے کو فائدے کے لیے استعمال کریں اور یہ دعویٰ کریں کہ روس کا مشرقی یوکرین میں رونما ہونے والے واقعات سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

اس سے پہلے بدھ کو روس کے صدر ولادی میر پوتن نے یوکرین کے مشرقی علاقوں میں علیحدگی پسندوں سے درخواست کی تھی کہ وہ ریفرینڈم ملتوی کر دیں۔ تاہم صدر پوتن نے کہا کہ اس کے بدلے میں یوکرین کو وہاں جاری فوجی کارروائیاں روک دینی چاہییں۔

اس پر یوکرین کے وزیراعظم آرسینی یاتسینیوک نے کہا کہ روسی صدر بے معنی بات کر رہے ہیں۔

مشرقی یوکرین میں روسی زبان بولنے والوں کی اکثریت ہے اور وہ ملک کے سابق روس نواز صدر وکٹر یانوکووچ کے حامی ہیں۔

اس علاقے میں روس نواز مظاہرین نے حکومتی عمارتوں پر دھاوا بول کر قبضہ کر رکھا ہے اور یوکرین کی سکیورٹی فورسز ان کے خلاف کارروائیاں کر رہی ہیں۔ چار دن پہلے یوکرین کے مشرقی شہر سلوویانسک کے قریب روس نواز علیحدگی پسندوں سے جھڑپ میں چار یوکرینی فوجی ہلاک اور ایک ہیلی کاپٹر تباہ ہوگیا تھا۔

یوکرین میں روسی زبان بولنے والے افراد کی بڑی تعداد رہتی ہے۔ روس کے حامی سابق صدر وکٹر یانوکووچ کو فروری میں مغربی ممالک کے حامی فوجیوں نے برطرف کر دیا تھا۔

روس نے بعد میں روسی زبان بولنے والے افراد کی اکثریت والے علاقے نیم خود مختار کرائمیا کی پارلیمان کی مدد سے علاقے کے روس سے الحاق کا اعلان کیا تھا جس پر عالمی برادری نے تشویش کا اظہار کیا تھا۔

اس تنازعے کی وجہ سے مغربی ممالک اور روس کے تعلقات سرد جنگ کے بعد سے بدترین سطح پر ہیں۔