روس کی یوکرین میں صدارتی انتخابات کی ’حمایت‘

روسی صدر کے بیان کو یوکرین کی پالیسی میں تبدیلی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے

،تصویر کا ذریعہRIA Novosti

،تصویر کا کیپشنروسی صدر کے بیان کو یوکرین کی پالیسی میں تبدیلی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے

روس کے صدر ولادی میر پوتن نے یوکرین میں رواں ماہ منعقد ہونے والے صدارتی انتخابات کو ’درست سمت‘ کی جانب قدم قرار دیا ہے۔

روسی صدر نے کہا ہے کہ ووٹ اس وقت تک کچھ بھی طے نہیں کر سکتے جب تک تمام شہریوں کے حقوق کا تحفظ نہ کیا جائے۔

صدر پوتن نے ماسکو میں سوئٹزرلینڈ کے صدر اور یورپی سکیورٹی اور تعاون کی کونسل کے موجود سربراہ ڈیڈبور کولٹر سے ملاقات کے بعد اپنے بیان میں کہا کہ یوکرین کی سرحد پر تعینات روسی فوجیوں کو بھی واپس بلا لیا گیا ہے۔

یوکرین کی سرحد پر تقریباً 40 ہزار روسی فوجی تعینات ہیں اور بہت سے لوگوں کو خدشہ ہے کہ روس یوکرین پر حملہ کر سکتا ہے۔ تاہم روس کہتا رہا ہے کہ اس کا مشرقی یوکرین میں فوجیں بھیجنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔

تاہم روسی صدر کی جانب سے یوکرین کی سرحد سے فوجی ہٹانے کے اعلان پر نیٹو کا کہنا ہے کہ اس نے یوکرین کی سرحد پر موجود روسی فوج کی پوزیشنوں میں کوئی تبدیلی نہیں دیکھی ہے۔

صدر پوتن نے یوکرین کے مشرقی علاقوں میں روس نواز علیحدگی پسندوں سے درخواست کی ہے کہ وہ اتوار کو یوکرین سے خودمختاری کے لیے ہونے والا ریفرینڈم ملتوی کر دیں۔ تاہم صدر پوتن نے کہا کہ اس کے بدلے میں یوکرین کو وہاں جاری فوجی کارروائیاں روک دینی چاہیے۔

دوسری جانب یوکرین کے وزیراعظم آرسینی یاتسینیوک نے کہا کہ روسی صدر بے معنی بات کر رہے ہیں۔

یوکرین اور مغربی ممالک کا خیال ہے کہ روس ان مزاحمت کاروں کو کنٹرول کر رہا ہے لیکن روس اس الزام کی صحت سے انکار کرتا ہے۔

مشرقی یوکرین میں روسی زبان بولنے والوں کی اکثریت ہے اور وہ ملک کے سابق روس نواز صدر وکٹر یانوکووچ کے حامی ہیں۔

اس علاقے میں روس نواز مظاہرین نے حکومتی عمارتوں پر دھاوا بول کر قبضہ کر رکھا ہے اور یوکرین کی سکیورٹی فورسز ان کے خلاف کارروائیاں کر رہی ہیں۔ تین دن پہلے یوکرین کے مشرقی شہر سلوویانسک کے قریب روس نواز علیحدگی پسندوں سے جھڑپ میں چار یوکرینی فوجی ہلاک اور ایک ہیلی کاپٹر تباہ ہوگیا تھا۔

دوسری جانب اتوار کو یوکرین کے علاقے دونیتسک میں منعقد ہونے والے ریفرینڈم کے لیے منتظمین نے 30 لاکھ بیلٹ پیپر پرنٹ کیے ہیں اور اب منتظمین کا کہنا ہے کہ روسی صدر کی درخواست کا جمعے کو ہونے والے ایک اجلاس میں جائزہ لیا جائے گا۔

یوکرین میں روسی زبان بولنے والے افراد کی بڑی تعداد رہتی ہے۔ روس کے حامی سابق صدر وکٹر یانوکووچ کو فروری میں مغربی ممالک کے حامی فوجیوں نے برطرف کر دیا تھا۔

روس میں بعد میں روسی زبان بولنے والے افراد کی اکثریت والے علاقے نیم خود مختار کرائمیا کی پارلیمان کی مدد سے علاقے کے روس سے الحاق کا اعلان کیا تھا جس پر عالمی برادری نے تشویش کا اظہار کیا تھا۔

اس تنازعے کی وجہ سے مغربی ممالک اور روس کے تعلقات سرد جنگ کے بعد سے بدترین سطح پر ہیں۔