اوڈیسا میں پولیس ہیڈکواٹر پر روس کے حامیوں کا دھاوا

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
یوکرین کے جنوبی شہر میں تشدد کے واقعات میں درجنوں افراد کی ہلاکت کے دو دن بعد روس کے حمائتیوں نے اوڈیسہ شہر میں پولیس کے ہیڈ کوائٹر پر دھاوا بول دیا ہے۔
پولیس کے صدر دفتر کے باہر جمع سینکڑوں افراد جمعہ کو ہونے والے پرتشدد واقعات میں گرفتار ہونے والے لوگوں کی رہائی کا مطالبہ کر رہے تھے۔
جعمہ کو ہلاک ہونے والے زیادہ تر روس کے حمائتی تھے اور وہ اس وقت ہلاک ہوئے جب اُس عمارت میں آگ بڑھک اٹھی جس میں وہ محصور تھے۔
یوکرین کے عبوری وزیر اعظم نے پولیس پر تشدد کے واقعات کو روکنے میں ناکامی کا الزام عائد کیا ہے۔
آرسین اواکوو نے جو اوڈیسا میں موجود تھے تحقیقات کا حکم دے دیا ہے اور ساتھ ہی حکام پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ انھوں نے تشدد کو روکنے کے لیے کوئی اقدام نہیں کیا اور انھوں نے نااہلی کا ثبوت دیا اور قانون کی خلاف ورزی کے مرتکب ہوئے۔
انھوں نے کہا کہ ملک میں پائی جانے والی بدامنی روس کی پیدا کردہ ہے اور وہ یوکرین کو تباہ کرنے کی سازش ہے۔
انھوں نے ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ روس اوڈیسا میں بھی وہی کرنا چاہتا جو ملک کے دوسرے حصوں میں ہوا جہاں پر روس کے حامی لوگوں نے سرکاری عمارتوں پر قبضہ کر لیا۔

،تصویر کا ذریعہAP
جمعے کو یوکرین کے شہر اوڈیسا میں پرتشدد کارروائیوں کے دوران ایک سرکاری عمارت میں آگ لگ جانے کے باعث کم از کم 31 افراد ہلاک ہوئے گئے تھے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب روس نواز مظاہرین اور پولیس کے درمیان جھڑپیں ہو رہی تھیں۔
آرسین اواکوو کا کہنا ہے کہ سنیچر کو یوکرین کی فوج نے کراماٹورسک میں ایک ٹیلی ویژن ٹاور کو اپنے قبضے میں لے لیا ہے یہ علیحدگی پسندوں کے گڑھ سلوویانسک سے 17 کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔
اواکوو نے اپنے فیس بک پیج پر لکھا ہے ’ہم رکنے والے نہیں ہیں۔‘
یوکرین کے مشرقی شہر دونیتسک میں بی بی سی کی سارہ رینسفورڈ کا کہنا ہے کہ بظاہر یوکرین کی فوج سلوویانسک کے نواحی علاقوں میں حملے کر رہی ہے لیکن ابھی تک اس نے مرکز میں جانے کی کوشش نہیں کی ہے۔
انھوں نے کہا کہ وزارت دفاع نے گذشتہ رات کہا تھا کہ آندریوکا میں زبردست جنگ جاری ہے۔ یہ سلوویانسک سے چھ کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔
مشرقی یوکرین میں روس حامی فوجیوں نے گذشتہ دنوں ایک بس پر سوار یورپی مبصرین کو اغوا کر کے یرغمال بنا لیا تھا۔
ان مبصرین کا تعلق جرمنی، پولینڈ، سویڈن، ڈنمارک اور چیک جمہوریہ سے ہے۔
جمعے کو امریکی صدر براک اوباما نے مبصرین کی رہائی کا مطالبہ کیا تھا اور ان کے اغوا کو ’ناقابل معافی‘ اور ’شرمناک‘ قرار دیا تھا۔







