جاپان میں بچے کم بوڑھے زیادہ

جاپان کی آبادی میں چودہ سال سےکم عمر بچوں کا تناسب صرف 13 فیصد ہے

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنجاپان کی آبادی میں چودہ سال سےکم عمر بچوں کا تناسب صرف 13 فیصد ہے

جاپان کی وزارت داخلہ اور مواصلات نےکہا ہے کہ گزشتہ سال کے مقابلے میں جاپان کی آبادی میں دو لاکھ 84 ہزار افراد کی کمی ہوگئی ہے۔

آبادی کے نئے اعداد و شمار کے مطابق جاپان کی آبادی میں پینسٹھ سال سے زیادہ عمر کے لوگوں کی شرح 25.6 فیصد ہوگئی ہے جبکہ 14 سے کم عمر کے بچوں کا تناسب پہلے سےگر کر صرف 13 فیصد رہ گیا ہے۔جاپان کی کل آبادی 12 کروڑ 70 لاکھ ہے۔

جاپان میں 65 سال سے زیادہ عمر کے افراد کی تعداد تین کروڑ سے زیادہ ہے جو آبادی کا 25.6 فیصد ہے۔ اسی طرح جاپان میں چودہ یا اس سے کم عمر کے بچوں کی تعداد ایک کروڑ 60 لاکھ ہے جو پچھلے سال کے مقابلے میں ایک لاکھ 60 ہزار کم ہے۔

آبادی کے نئی اعداد و شمار کے مطابق جاپان کی آبادی میں بوڑھوں کا تناسب دنیا میں سب سے زیادہ ہے۔

اندازوں کے مطابق اگر جاپان میں آبادی کے موجودہ رجحانات برقرار رہے تو 2060 تک جاپان کی آبادی میں پینسٹھ سال سے زیادہ عمر کے لوگوں کا تناسب 40 فیصد تک پہنچ جائےگا۔

جاپان کی آبادی میں پینسٹھ سال سے زیادہ عمر کے لوگوں کا تناسب 25.6 فیصد ہے

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنجاپان کی آبادی میں پینسٹھ سال سے زیادہ عمر کے لوگوں کا تناسب 25.6 فیصد ہے

جاپان کی آبادی میں گزشتہ تین دہائیوں سے مسلسل کمی ہو رہی ہے۔ جاپانی حکومت کے اعلان کے مطابق آبادی کے تازہ اعداد و شمار کے مطابق ملک کی آبادی 1950 کے بعد سب سے کم سطح پر پہنچ گئی ہے۔

رواں سال جاپان میں لمبے عرصے سےمقیم غیر ملکیوں کو بھی مردم شماری کیا تھا۔ گذشتہ برس فوکو شیما میں ہونے والے جوہری حادثے کی وجہ سے غیر ملکی آبادی کے تناسب میں کمی ہوئی ہے اور غیر ملکی جاپان سے چلے گئے ہیں۔