ٹائیٹینک کا آخری خط 119,000 پاؤنڈ میں فروخت

،تصویر کا ذریعہPA
اپنے پہلے ہی سفر پر حادثے کا شکار ہونے والے بحری جہاز ٹائیٹینک سے لکھا جانے والا آخری خط ایک لاکھ 19 ہزار برطانوی پاؤنڈ میں نیلام ہو گیا۔
یہ خط حادثے میں زندہ بچ جانے والے ایستھر ہارٹ اور ان کی سات سالہ بیٹی ایوا کا لکھا ہوا ہے جو سنہ 1912 میں بحری جہاز ٹائٹینک کےٹکرانے کے آٹھ گھنٹے پہلے لکھا گیا تھا۔
یہ خط اس لیے بچ گیا کیونکہ یہ ان کے شوہر کے کوٹ کی جیب میں رکھا ہوا تھا جو انھوں نے ایستھر ہارٹ کو سردی سے بچنے کے لیے پہنایا تھا۔
ایستھر ہارٹ کے شوہر بینجمن بھی اس حادثے میں ہلاک ہو گئے تھے۔
ایستھر ہارٹ نے لکھا کہ وہ ’حیرت انگیز سفر‘ کا لطف لے رہی تھیں۔
انھوں نے مزید لکھا ’ہم نیو یارک پہنچنے والے ہیں کیونکہ بحری جہاز کے چلنے کی رفتار اچھی ہے۔‘
یہ خط سنیچر کو ہینری ایلڈریج اینڈ سن آف ڈیوزیزکی نیلامی میں رکھا گیا تھا۔
ٹائٹینک کی کئی یادگار اشیا اچھی قیمتوں میں نیلام ہو چکی ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اس سے پہلے ٹائٹینک کا مینیو نیلامی میں 76,000 پاؤنڈ جبکہ جہاز پر بجایا جانے والا ایک وائلن نو لاکھ پاؤنڈ میں فروخت ہوا تھا۔
نیلامی کے اینڈریو ایلڈریج نے ٹائٹینک کے آخری خط کو منفرد بتایا ہے۔
انھوں نے کہا ’یہ ایک نادر خط ہے کیونکہ یہ ٹائٹینک کے تختے پر لکھا گیا جو اسے غیر معمولی بناتا ہے۔‘
انھوں نے کہا ’اتوار 14 اپریل جس دن ٹائٹینک چٹان سے ٹکرایا یہ اس دن لکھا گیا واحد خط ہے اور ہم کہہ سکتے ہیں کہ اس خط کے لکھنے کے 12 گھنٹے کے بعد ٹائٹینک شمالی بحر اوقیانوس میں ڈوب گیا تھا۔‘
خط پر سفید ستارے والا پرچم ابھرا ہوا ہے اور اس پر آن بورڈ ’آر ایم ایس ٹائٹینک‘ اور ’اتوار کی دوپہر‘ لکھا ہوا ہے۔
اس خط میں ایستھر ہارٹ صبح سے بیمار ہونے اور کچھ بھی کھانے یا پینے کے قابل نہیں ہونے کی بات بھی کرتی ہیں۔
ٹائٹینک سنہ 1912 میں بحر اوقیانوس میں اپنے پہلے سفر کے دوران برفانی چٹان سے ٹکرانے کے بعد ڈوب گیا تھا جس کے نتیجے میں 1500 افراد ہلاک ہوگئے تھے۔







